بلوچستان میں بحالی ٔ امن اور تعمیروترقی میں افواجِ پاکستان کا کردار

27 اکتوبر 2016

صوبہ بلوچستان پاکستان کا اہم ترین اور رقبہ کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔ جدوجہد آزادی میں بلوچستان کا کردار پاکستان کے کسی بھی دوسرے خطے سے کم نہیں ہے۔ پاکستان ایک گلدستے کی مانند ہے اور بلو چستان اس گلدستے کا انتہائی خوب صورت اور خوشبودار پھول ہے۔ بلوچستان کے لوگ پاکستان سے والہانہ محبت کرتے ہیں اور اس ضمن میں کسی مصلحت کو خاطر میں نہیں لاتے۔ حصولِ پاکستان کیلئے بلوچستان کے مشاہیر کی خدمات نے تاریخ پر انمٹ نقوش ثبت کئے ۔بلوچستان کے عوام لیاقت و قابلیت‘ مہمان نوازی‘ جفا کشی اور فیصلہ سازی میں کسی بھی دوسرے صوبے کے عوام سے ہرگز کم نہیں ہیں۔ تاہم انہیں مواقع اور وسائل کی کمی کا سامنا رہا ہے جس کی بناء پر قومی منظر نامے پر وہ زیادہ نمایاں نہیں ہوسکے۔ اگر انہیں وسائل میسر آجائیں تو وہ کسی میدان میں بھی پیچھے نہ رہیں گے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوا کر رہیں گے۔ تقسیم ہند کے وقت قلات‘لسبیلہ اور مکران کے حکمرانوں نے انگریز حکومت کی طرف سے آزاد رہنے کی پیش کش کو اپنے پائوں کی ٹھوکر مار دی اور قائداعظمؒ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے پاکستان سے الحاق کرلیا۔ قائداعظمؒ جب خان آف قلات سے ملنے گئے تو خان معظم نے انہیں سونے میں اور مادرِ ملتؒ کو چاندی میں تولا اور اپنی ریاست کے وسائل اور فوج کو قائداعظمؒ کے استعمال میں دینے کی پیش کش کی۔خان معظم میراحمد یار خان‘ خان آف قلات کو قائداعظمؒ اور پاکستان سے اتنا لگائو تھا کہ اُنہوں نے قائداعظمؒ سے کہا کہ’’ اگر خدانخواستہ پاکستان نہ بن پایا تو آپ بے شک قلات کا نام پاکستان رکھ دیجئے گا‘‘۔ اگرچہ بلوچستان میں مختلف ادوار میں مختلف تحریکیں چلتی رہی ہیں تاہم پاکستان سے محبت اور عقیدت رکھنے والے لوگ ہمیشہ سر بلند رہے ہیں اور انشاء اللہ آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو قدرتی وسائل سے نواز رکھا ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال یہ صوبہ معیشت کی شہ رگ بن سکتا ہے۔ لیکن غیر ملکی عناصر کی چیرہ دستیوں کے سبب کئی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ ان غیر ملکی عناصر کی دہشت گردانہ سرگرمیوں نے جہاں صوبے کی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکائے ہوئے ہیں وہاں صوبے کی اصل طاقت وہاں کی نوجوان نسل کو بے راہ روی کا شکار بنانے کا بھی پورا پورا بندوبست کر رکھا ہے۔ان حالات میں افواج پاکستان جہاں اندرونی وبیرونی سلامتی کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کے عزم کے ساتھ گامز ن ہیں اور دشوار راستوں اور کٹھن حالات میں نہ صرف اپنے معمول کے فرائض انجام دے رہے ہیں بلکہ وہاں ترقیاتی پروگراموں میں بھی پیش پیش ہیں۔ سڑکوں کا لامحدود جال بچھایا جا چکا ہے، دوردراز علاقوں میں طبی سہولیات مہیا کی جارہی ہیں، سکولوں اور کالجوں کی اپ گریڈیشن کیساتھ ساتھ پاک فوج کے بہت سے تعلیمی اداروں کا جال بچھاکر وہاں کے طلبہ و طالبات کو ہر سہولت بہم پہنچائی جارہی ہے۔ فنی علوم پر خاص توجہ دی جارہی ہے۔ اب تو بہت سے نوجوان اپنی تعلیم پوری کرکے صوبے اور ملک کی ترقی میں براہ راست اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ سب سے اہم پیش رفت صوبے کے نوجوانوں کی پاک فوج میں شمولیت ہے۔ پاک فوج کے بھرتی پروگرام نے خاص طور پر بلو چستان کے نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہوا ہے۔ کوئٹہ ، ژوب، خضدار، سبی، سوئی، اور کشمور و دیگر اضلاع کے بہت سے نوجوان کامیابی سے تربیتی امو ر مکمل کر کے پاک فوج میں شامل ہوئے۔ اس عمل سے جہاں نو جوانوں کو اگلی صفوں میں رہ کر وطن عزیز کی حفاظت اور محبت کا عملی مظاہرہ کرنے کا موقع میسر آرہا ہے وہاں با عزت روز گار بھی ملا ہے جس سے کئی کنبے بھی مستفید ہوں رہے ہیں۔صوبہ میں تعلیم کے فروغ میں بھی پاک فوج کا کردار مثالی رہا ہے۔ فوجی فاونڈیشن سسٹم مسلسل صوبے کے طلبا وطالبات میں علم کی روشنی پھیلا رہا ہے۔ یہ سکول قابل اساتذہ کی زیر نگرانی دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں معیاری تعلیم فراہم کر رہا ہے۔اسکے علاوہ ووکیشنل سینٹر بھی لوگوں میں ہنر بانٹ رہے ہیں۔ جس سے بیروزگاری کے مسئلے پر قابو پانے میں کافی حد تک مدد ملی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ سیاسی وعسکری قیادت بلوچستان کے مسائل حل کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ یقیناًاس کیلئے ماضی میں الجھنے کی بجائے مستقبل کی طرف دیکھنا چاہئے۔ سب ملکر چلیں تو ابھرتے ہوئے بلوچستان کے ثمرات جلد حاصل کرسکتے ہیں۔یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ بھارت نے قیام پاکستان کے وقت سے ہی سازشیں شروع کررکھی ہیںاور وہ ہمیں نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ہے۔ ایک سازش کے تحت بھارت بلوچستان میں حالات خراب کروا رہا ہے ۔ بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر نریندر مودی نے یہ درفنطنی چھوڑی کہ ’’بلوچستان اور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر (آزاد کشمیر) اور گلگت کے عوام نے اپنے لئے آواز اٹھانے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے‘‘۔ نریندر مودی کی اس ہرزہ سرائی سے پاکستان کی سالمیت کیخلاف اس کے جنونی عزائم اجاگر ہونے میں اب کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی ۔ بلوچستان اور کراچی کو غیر مستحکم کرنا بھارت کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ مودی کی طرف سے یہ بیان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت بلوچستان کے حالات خراب کرنے کا ذمہ دار ہے ۔ پاکستان ایک عرصہ سے دنیا کو یہ بتا رہا ہے کہ بھارت بلوچستان میں گڑ بڑ میں ملوث ہے ،مودی نے اب اس بات کا اقرار کرلیا ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں قوم کے سامنے بلوچستان کے حالات کی صحیح تصویر کشی اور ’’تحریک پاکستان و تکمیل پاکستان میں بلوچستان کے کردار ‘‘کو قوم کے سامنے لانے کیلئے ایک ریسرچ پروجیکٹ کے تحت نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چار رکنی وفد نے کوئٹہ کا دورہ کیا ۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ ایک قومی وفکری نظریاتی ادارہ ہے جو پوری قوم میں اتحاد ویکجہتی کے فروغ کیلئے بھی کام کررہا ہے تاکہ قوم صوبائیت اور لسانیت جیسی لعنتوں سے چھٹکارا پا سکے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے کرنل نثار الحق نے ملٹی میڈیا کے ذریعے بریفنگ دی جس میں بلوچستان میں بحالی ٔ امن اورتعمیر وترقی میں افواجِ پاکستان کے کردار اور پاک فوج کے زیر اہتمام جاری منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمانڈر سدرن کمانڈ جنرل عامر ریاض نے ملاقات میں ہماری تجویز پر سدرن کمانڈ کے زیر اہتمام مختلف تعلیمی اداروں کے طلبا و طالبات کے مطالعاتی دوروں کے دوران نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے دفتر کا دورہ مستقل طور پر پروگرام میں شامل کیا جائیگا۔ کمانڈر سدرن کمانڈ نے کوئٹہ میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے ایک ذیلی دفتر قائم کرنے کے حوالے سے بھرپور تعاون کا عندیہ دیا۔ہمارا وفد آئی ایس پی آر اور جنرل عامر ریاض سے خوشگوار ملاقات کی یادیں لیکر یہاں سے رخصت ہوا۔