کہیں یہ سازش تو نہیں

27 اکتوبر 2016

لاہور:حکومت نہیں چلے گی۔ 2 نومبر کو اسلام آباد بند کر دیں گے۔ چاہیں تو ایک چٹکی میں حکومت ختم کر دیں ۔ ہم نہیں تو کوئی نہیں۔ نوازشریف صادق و امین نہیں رہے۔ آئین کے آرٹیکل 62-63 کے تحت نا اہل ہو چکے ہیں۔ پانامہ لیکس میں انکشافات پر ڈیوڈ کیمرون کی طرح استعفیٰ دیں۔ انکوائری کمیشن کو نہیں مانتے۔ بس استعفی دیں اور احتساب کے لئے پیش ہوں۔ سپریم کورٹ کے نوٹس اپنی جگہ اسلام آباد ضرور بند کریں گے۔ احتساب بیورو انکا اپنا ہے۔ قوم کرپشن کے خلاف متحد ہو چکی ہے۔ ان کا بنایا کمیشن بھی نہیں مانتے۔ ٹرمز آف ریفرینس صرف اور صرف ہماری مرضی کا ہو۔ سیمی فائنل ہو چکا۔ اب فائنل باقی ہے ایمپائر کی انگلی کھڑی ہونے والی ے۔ نوازشریف نے استعفیٰ لکھ لیا ہے اب دستخط باقی رہ گئے ہیں۔ اسلام آباد ایک دن کے لئے نہیں آئیں گے۔ حکومت گرا کر ہی جائیں گے۔ یہ ہیں وہ چند جملے جن سے پوری قوم کے اعصاب شل ہو چکے ہیں۔ قوم تقسیم ہو چکی ہے۔ ریلیوں، دھرنوں ، ٹی وی ٹاک اور انٹرویوز میں ایک تسلسل سے شور مچ رہاہے۔ وہ لاکھ کہیں پانامہ میں میرا نام نہیں ہے۔بس نہیں مانتے انہیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ دنیا کتنی تیزی سے بدل رہی ہے۔ سی پیک کے تناظر میں نئے نئے بلاک بن رہے ہیں۔ دو ایٹمی ملکوں کے درمیان جنگ کے خطرات ہیں لیکن پاکستان میں سیاستدان فکر مند ہونے کی بجائے صرف اور صرف اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جو قبل از وقت ہے اور آئینی ، قانونی اور جمہوری طریقہ کار کے خلاف ہے۔ احتجاج ہر ایک کا حق ہے لیکن شہر بند کرنا اور حکومت کو چلتا کرنا یہ کونسا آئین ہے۔ پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے فیصلے سڑکوں پر کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں اور اس میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ کراچی کے شہداء کے سلسلے میں ایک پارٹی کی ریلی کے شرکاء عوام کا ہجوم دیکھ کر اتنے پاگل ہو گئے کہ یوم شہدا ء کو جشن میں تبدیل کر دیا اور رقص و سرود کرنے لگے۔ پانامہ لیکس کی آڑ میں صبر کے سارے دامن ٹوٹ گئے اور قبل از وقت راتوں رات وزیر اور وزیر اعظم بننے کے شوق میں سیاست، جمہوریت، آئین، پارلیمنٹ، شائستگی اور اعلیٰ انسانی اور سیاسی قدروں کو پامال کیا جا رہا ہے۔ یہ ہے پاکستان جو کشمیر کا مقدمہ لڑنے جا رہا ہے۔ اگر حکومت لمحوں کی بات ہے تو کون بھارت سے بات کرے ۔ بھارت خود امریکہ ، روس، اقوام متحدہ، چین سب دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا مشورہ دے رہیں۔ خود پاکستانی وزیر اعظم نے مذاکرات کی پیشکش کی ہے لیکن مذاکرات کا ماحول پیدا ہونے نہیں دیا جا رہا۔ کیا یہ بے وقت کی راگنی نہیں ہے؟ کیا یہ سازش تو نہیں ہے۔ جو دانستہ یا نا دانستہ طور پر کی جا رہی ہے۔ پانامہ لیکس بذات خود ایسے وقت میس سامنے آئی جب کشمیر پر دو فریقوں کو بات چیت کیلئے آمادہ کیا جا رہا تھا جب سی پیک پر کام شروع ہو ا تھا اور ایسے وقت میں جب پاکستان ترقی کر رہا ہے اور اقتصادی شرح نمو میں نمایاں اضافع ہو رہا ہے جب سی پیک کے نتیجے میں ایک انقلاب برپا ہونے والا ہے اور جب کشمیر میں خالصتاً مقامی تحریک ایک نئے ولولے سے اٹھ چکی ہے تو تنازعہ کے فریق پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کیا جا رہا ہے۔ کیا یہ سازش تو نہیں سی پیک کے مغربی روٹ کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایسی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جس سے چین بھی پریشان نظر آتا ہے۔ مدرسہ حقانیہ کو تیس کروڑ روپے کی امداد دے کر بھارت اور امریکہ کو پاکستان کے پیچھے لگا لیا اور پاکستان کی حکومت اور فوج کی دہشت گردوں کے خلاف موثر کاروائی کو بے اثر اور بے نام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کیا یہ سازش نہیں ہے۔ چند اقتدار کے بھوکوں کے سوا پوری قوم مایوس ہے۔ Overambitious دیوانوں نے پورے ملک کا سکون برباد کر رکھا ہے۔ تخت لاہور کی اصطلاح استعمال کر کے دراصل پنجاب سے نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ پنجاب میں ترقی ہوتی ہے تو یہ حکومت کے خلاف ہوجاتے ہیں جبکہ پنجاب میں ترقی ہوتی ہے تو اس کے ثمرات پورے ملک پر پڑتے ہیں۔ دوسروں کو تحریک ملتی ہے لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے۔ وہ اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ تخت لاہور دھمکیوں اور گالیوں کی سیاست تو شیخ مجیب اور مولانا بھاشانی نے بھی نہیں کی تھی جو مغربی پاکستان کے خلاف بے حد نفرت رکھتے تھے ۔ 2016 میں بھی فاشزم کی سیاست ۔ ہٹلر اور مسولینی کی تہذیب ہے۔ دنیا نے اسے کئی دہائیوں پہلے مسترد کر دیا اور پاکستان میں آج بھی اس کی جھلک نظر آتی ہے۔ کشمیر کا مسئلہ اس قدر گھمبیراور اس قدر مشکل ہے کہ بھارت خود اس سے جان چھڑانے کی فکر میں ہے۔ حالیہ دنوں میں سینئر بھارتی صحافیوں کے ایک وفد نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر کے وزیر اعظم مودی کو ایک طویل خط لکھا جس میں اس کو اصل صورت حال سے آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بھارت کبھی بھی کشمیریوں کو اسلحہ، فوج اور کرفیو کے ذریعے اپنے قبضے میں نہیں رکھ سکتا اور بالآخر کشمیر کو آزادی دینا پڑے گی۔