سچائی تک رسائی

27 اکتوبر 2016

تنظیم کا لفظ منظم سے نکلا ہے اس کا مفہوم ہے درستی،ترتیب اور نظم، اگر ہم فطرت کے حوالے سے دیکھیں تو اس میں ایک منظم طریقہ رواں نظرآتاہے اللہ تبارک تعالیٰ نے کائنات کے ہر زاویے میں ہمیں تنظیم کا مطلب بخوبی سمجھا دیا ہے۔ نظامِ شمسی و فلکیات نباتات کی پیوند کاری سے لے کر سیرابی تک اور انسان کی پیدائش سے لے کر اُس کی موت تک ہر لمحہ نظم و ضبط کے دائرہ کار میں آتا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ منظم طریقے سے ایک تنظیم کا آگے بڑھنا اور ترقی و ترویج پانا زندگی کی ایک خوبصورت حکمتِ عملی ہے۔ اسی طرح سے معاشرے میں بہت سی تنظیمیں پنپتی ہیں جیسے ادبی تنظیم،تجارتی تنظیم اور فلاحی تنظیم وغیرہ وغیرہ تنظیمیں کبھی فردِ واحد سے مکمل نہیں ہوتیں اس میں کوئی ساتھی ہم نشین ہمسفر ہوتا ہے اسی طرح سے بہت سی تنظیموں میں مختلف عرصے میں مجھے جانے اور کام کرنے کا موقعہ ملا۔ ایک دن ورلڈ کالمسٹ کلب سے افطار پہ مدعو کیاگیا ایک کالم نگار کو کالمسٹ کلب کی جانب سے دعوت نامہ کیونکر قبول نہ ہوتا اورپھر مجھے کالمسٹ کلب میں بے شمار نابغہ روزگار ہستیاں دیکھنے کو ملیں جن میں ڈاکٹر اجمل نیازی(کالمسٹ کے صدر)، ناصر اقبال خان، سعید آسی صاحب،قیوم نظامی صاحب، شعیب بن عزیز صاحب،عامر خاکوانی صاحب کے علاوہ اور بہت سارے قلم قبیلے کے لوگ شامل تھے۔گفتگو کے دوران مجھے پتہ چلا کہ اس تنظیم کا مقصد انتہائی جامع اور بامعنی ہے اور اس کردار کا احاطہ کرتاہے جس کی جستجو اورلگن"سچائی تک رسائی" ہے یہ وہ راستہ ہے جس کے لیے آج حقیقی طور پہ کوئی بھی کام نہیں کرتا اگر کوئی کرنا چاہتا ہے تو اُسے یا تو پابندِ سلاسل کر دیا جاتا ہے یا پھر اُس کے راستے تنگ کر دیے جاتے ہیں مگر کیا ہے کہ ایک معصوم بچہ ایک موم بتی لے کر نکلتا ہے اگلی منزل پہ وہ چراغ میں بدل جاتی ہے پھر وہ چراغ ایک مشعل کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اور پھر دیکھتے دیکھتے وہ تاحدِ نگاہ روشنی پھیلانے لگتا ہے۔پھردشت کی اس صحرائی میں وہ ننھا بچہ ایک نوجوان شخصیت کا حامل ہو چکا ہوتا ہے۔ حضرت علامہ اقبال کی دل افروز اور دلسوز دُعا "لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنا میری"کے مترادف لبوں پہ وہی دُعا اور کردار میں وہی ادا لیے ہوئے ایسے کردار اور افکار سے مزین شخصیت جب سچائی تک رسائی کے لیے کمر بستہ ہوجاتی ہے تو طوفانوں کے رخ بھی اپنا منہ موڑ لیتے ہیں اور اندھیرے بھی راستہ سُجھانے لگتے ہیں۔ ورلڈ کالمسٹ کلب کا منشور سچائی تک رسائی کے مقصد سے بھی بڑھ کر ہے روشنائی سے روشنی یہ وہ نقطہ ہے جو ہرباشعور باعمل انسان کو بآسانی سمجھ آسکتاہے ورلڈکالمسٹ کلب کی جانب سے 9اکتوبر بروز اتوار پریس کلب کے سامنے افواج پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیاگیا اوریہ مظاہرہ بہت پروقار اور پرجوش طریقے سے کیاگیا اس مظاہرے میں ورلڈکالمسٹ کے کالم نگاروں نے شرکت کی اس مظاہرے کے رہنما ورلڈکالمسٹ کے مرکزی صدر محمدناصراقبال خان تھے، ڈاکٹراجمل نیازی ناسازی طبیعت کے باوجود ورلڈ کالمسٹ کلب کے مرکزی صدر محمدناصر اقبال کی فون کال پہ اس لیے چلے آئے کیونکہ وہ جانتے تھے ورلڈکالمسٹ کلب کا مقصد ناصرف سچائی تک رسائی ہے بلکہ و ہ یہ مظاہرہ کشمیر کے مظلوم اور اندوہناک مظالم کے شکار ہونے والے بھائیوں بہنوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ہے اُنہوں نے بہت پرجوش طریقے سے کہاکہ ہم مادروطن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو منہ توڑجواب دینگے اوردشمنوں کے ناپاک عزائم کو کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہونے دینگے اور جہاں بھی مادروطن کے دفاع کی بات آئے گی وہاں ہمارا قلم ان کیلئے دودھاری تلوار ثابت ہوگا عنزہ احسان بٹ (سابق ایم این اے) نے کہا کہ افواجِ پاکستان ضربِ عضب کو کامیاب بنانے کے لیے جان ہتھیلی پہ رکھ کے سَینہ سپر ہوتے ہیں اور ہم اس وطن کیلئے قلم سے بھارت کے بیہمانہ مظالم کی روک تھام کیلئے آواز بلند کرینگے ورلڈکالمسٹ کلب کے (مرکزی صدر) ناصر اقبال خان نے انتہائی پُرجوش انداز میں کہا کہ امن اور انسانیت کے دشمن نریندر مودی سمیت سب کو صفحہ ہستی سے مٹا کے دم لیں گے۔ کشمیر جو اس وقت غم و بربریت کا نشانہ بنا ہوا ہے اُس کی سرزمین پہ پاکستان کا پرچم لہرائے گا وہاں کے اُفق پہ آزادی کا سورج طلوع ہو گا وہاں کی مساجد بھی آباد ہوں گی اور دُنیا ان ظالموں کا اندوہناک انجام دیکھ کے انگشتِ بدنداں رہ جائے گی۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بے شمار کتابوں کا مطالعہ کرنے اور اُن کو ازبر کر کے محفلوں میں بیان کرنے سے کبھی انسان باشعور نہیں ہوتا لیکن اسوقت تک جب تک کہ وہ اُن با مقصد تحریروں کو اپنے کردار کا حصہ نہ بنا لے۔ قلم بھی اپنے اندر پوری کائنات رکھتا ہے۔مضراب کے تاروں سے رنج و الم،محبت اور خوشی کے سُر نکلتے ہیں۔ اسی طرح سے قلم اور الفاظ گلستانِ ادب کی سیرابی کے لیے موسموں کے تغیرات سے ٹکراتے اور آبیاری کرتے ہیں۔ ادب کی اصناف میں تنقید بھی ہے، اصلاح بھی، مزاح بھی ہے، سنجیدگی حُسن بھی ہے، تاریخ بھی، شعور بھی ہے، کردار بھی اورآگہی بھی ہے عمل بھی تو پھر نجانے ہمیں سچائی تک رسائی کے لیے اتنے جھنجھٹ کیوں پالنے پڑتے ہیں۔ راقمہ کے نظر میں صرف اس لیے یہ راہ پُرخار ہے کہ ہم قلم کا احترام اور لفظوں کا ادب بھول رہے ہیں۔ ہمارے لیے قد آور شخصیات جو نام اور عہدے سے پہچانی جاتی ہیں اہم ہیں مگر ہم نابغہ روزگار ہستیوں کو جو باشعو ہونے کے ساتھ موم بتی سے چراغ اور چراغ سے مشعل جلاتے ہیں اُن کی روشنی اور حدت سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھاتے اور یہی ہمارے ادب اور ادیبوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے اسی لیے ورلڈ کالمسٹ کلب نے سچائی تک رسائی کا منشور اپنایا ہے۔