تھپڑ ....

27 اکتوبر 2016

یہ تھپڑ تمہیں بہت مہنگا پڑے گا۔۔۔ یہ وہ ڈائیلاگ ہیں جسے بیسیوں مرتبہ ولن کے منہ سے سن چکے ہیں۔ فلم کے خاتمے سے قبل ایک مرتبہ تھپڑ کھانے والا ولن تھپڑ مارنے والے ہیرو کو زِیر ضرور کرتا ہے مگر پھر آخر میں جیت عمومی طور پر ہیرو ہی کی ہوتی ہے۔ یہ مناظر دیکھ کر تھوڑی دیگر قبل ہیرو کی مظلومی و مجبوری پر دل گرفتا شائقین مسکرا اٹھتے ہیں اورفلم کے اختتام پر خوشی خوشی فلم کے مناظر پر گفتگو کرتے ہوئے سینما ہال سے باہر نکلتے ہیں۔ مگر یہ سارے مناظر ان دنوں کے ہیں جب سینما آباد تھے اور فلمیں بنا کرتی تھیں ۔ اب تو نہ سینما گھر نہ فلمیں اور نہ ہی شائقین، مگر گزشتہ دنوں ایک ایسے تھپڑ کی بازگشت سنائی دی جو خود سرمیڈیا کی ایک خاتون اینکر کے منہ پر اُس وقت پڑا جب ایک سرکاری دفتر (نادرا آفس) کے باہر ڈیوٹی پر مامورایک سپاہی نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے رسید کیا۔ اس منظر کی تفصیل اس لیے بیان کرنا ضروری ہے کہ مستقبل قریب یا دور میں جب کوئی قاری ان الفاظ کو پڑھے تو اسے معلوم ہو کہ حقیقت میں ہوا کیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس تھپڑ کے لگنے کی جو چوٹ اینکر خاتون نے محسوس کی ہوگی اس سے کہیں زیادہ چوٹ ہمیں بھی محسوس ہوئی ہے کہ قوم کی ایک ایسی بیٹی جو چادر چاردیواری سے باہر نکل کر مائیک ہاتھ میں لیے کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں واقع نادرا آفس میں آن پہنچی ہے اور وہاں پر موجود ذلت اور توہین برداشت کرتی ہوئی بے بس، بے چاری خواتین کے ساتھ اہلکاروں کی ہونے والی بدتمیزی پر آواز اٹھانے کی کوشش کرتی ہے اور یہ خر دماغ بدمست پولیس اہلکار مسلسل کیمرہ سے خود کو بچانے کی کوشش میں اور خاتون کے مسلسل اصرار پر بالآخر اس خاتون اینکر کو ایک زور دار تھپڑ رسید کردیتا ہے۔ اس کے بعد سیکورٹی بنیادوں پر ہوائی فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں اور کیمرہ بند ہوجاتا ہے۔ واقعہ کے بعد ٹی۔وی چینل کی جانب سے پولیس کو رپورٹ کی گئی اور اس اہلکار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اس کے برعکس نادرا حکام کی جانب سے اس خاتون اینکر کے خلاف مداخلت کارسرکار کا پرچہ بھی دیا گیا ہے۔ بعد ازاں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فریقین نے اپنی اپنی درخواستیں واپس لے لی ہیں مگر جن لوگوں نے اس وڈیو کو غور سے دیکھا ہے ان کے ہاں اس کا نتیجہ مختلف ہے۔ فیس بک پر لگنے والی ایک پوسٹ جو کہ سید بدر سعید کی تحریر ہے کے نزدیک ”یہ سب خاتون اینکر کی نامناسب ریٹنگ محرکات کی وجہ سے پیش آیا ہے جس کا ذمہ وار پولیس اہلکار کو نہیں گردانا جاسکتا۔ وجہ یہ کہ خاتون رپورٹر کا انداز بالکل غلط تھا اور کسی کا بازو کھینچ کھینچ کر اُسے موقف دینے پر مجبور کرنا صحافتی ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے۔ ان کے خیال میں جدید کیمرہ اٹھالینے سے نہ کوئی کیمرہ مین اور مائیک ہاتھ میں پکڑ لینے سے نہ کوئی اینکر بن جاتا ہے“۔ ان کے خیال میں خاتون لبرل ہونگی کہ ان کے نزدیک کسی مرد کا بازو تھام لینا معیوب نہ ہو مگر گارڈ شاید اتنا لبرل نہ ہو کہ وہ کسی خاتون کو اپنے جسم پر ہاتھ لگانے کی اجازت دیتا ہو۔ صحافتی اقدار ہی ہمارا سرمایہ ہیں ہم ان اقدار کی پاسداری کے پابند ہیں کیونکہ ہم صحافی ہیں بدمعاش نہیں۔۔۔۔
ہوتا تو یہ بھی ہے کہ اکثر اوقات کسی بھی دھماکہ کے بعد ایمرجنسی کے بعد رپورٹر سٹریچرز کو روک کر ویڈیو بناتے ہیں۔ معمولی سے پیکج کے چکر میں انسانی جان کو علاج سے دور رکھ کر خطرہ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ریٹنگ کی اس صحافتی دنیا نے زندگی میں بہت سے مسائل پیدا کردئیے ہیں۔ ایک سینئر صحافی کا کہنا یہ بھی ہے کہ ریٹنگ ہی سب کچھ نہیں ہوتی بلکہ تہذیب اقدار کے ساتھ کی گئی رپورٹنگ افضل رپورٹنگ ہے۔ ان سب باتوں کی حقیقت اپنی جگہ مگر کیا کسی بھی خاتون رپورٹر کو اس کی تیزی اور سوالات کی پوچھاڑ سے خفا ہوکر کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قوم کی بیٹی کو سرعام تھپڑ مارے؟
کیا ہمارا معاشرہ یہ حق دینے کو تیار ہے اور بالخصوص ایک پولیس مین کا یوں خاتون اینکر کے ساتھ جارحانہ سلوک ہر گز قابل قبول نہ ہے۔