موجودہ جمہوریت اور دھرنے

27 اکتوبر 2016

گزشتہ سے پیوستہ
جس طرح سے گزشتہ حکومت میں پرائم منسٹر یوسف رضا گیلانی کو عدالتی فیصلے کے تحت نااہل قرار دیا گیا اسی طرح سے اب بھی عدالت کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو ممکن بنانا ضروری ہے اور عمران خان کو عدالت کے فیصلے پر اعتماد ہونا چاہئے۔ اسی میں ہی ملک و قوم کی بھلائی ہے ورنہ ذاتیات پر لڑی جانے والی جنگ دوسرا رخ بھی اختیار کر سکتی ہے۔ کیا ہم نے ۱۹۷۹ئ‘ ۱۹۵۴ اور ۱۹۹۸ءکا دورانیہ بھلا دیا ہے جب مارشل لاءنےعوامی احتجاج کا گلا گھونٹ دیا اور حکمرانوں نے مخصوص طرز عمل سے نظام حکومت کو چلایا اور انسان قاتل پالیسیاں متعارف کروائیں اور اس طرز عمل سے مختلف انواع کے مسائل نے جنم لیا اور عوامی مفادات ان کے تنگ نظر نظریات کی بھینٹ چڑھ گئے اور آج ہم ان کے سرجیکل ٹریٹمنٹ میں محو عمل ہیں اور آج دہشت گردی کے اژدھے کو مارنے کے لئے ملک و قوم حالت جنگ میں ہیں جس نے ملکی وسائل پر کاری ضرب لگائی ہے جو ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری قوم و ملک اور حکومت اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ سیاسی کشیدگی سے پیدا ہونے والی لاقانونیت کو برداشت کر سکیں؟ کیا سیاسی نقصانات سے ملکی سلامتی کو خطرہ میں ڈالنا خوش آئند ثابت ہو گا؟ یقینا نہیں۔ ا س وقت ہمارے وسائل کا میگا بجٹ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ پر خرچ ہو رہا ہے اور ملک و قوم حالت جنگ میں ہیں اور اس سے بڑھ کر ہمارے ہمسایہ ملک بھارت سے کشیدگی کا خطرہ ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے جو کہ کسی بھی وقت سنجیدہ صورتحال اختیار کر سکتا ہے اور ملک میں اندرونی مسائل کی ریل پیل ہے۔ لہٰذا اب ہماری قوم کو اپنے اندر سیاسی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ صحیح اور غلط میں تمیز کریں اور اپنے رویوں میں مثبت سیاسی تبدیلی لا کر اپنے لئے صحیح سمت متعین کریں۔ کب تک وہ شخصی جنگ کا حصہ بنتے رہیں گے اور سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے۔ اس لئے وہ اپنا مخصوص مائنڈ سیٹ تشکیل دے کر اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں اور سیاسی رویوں کو تنگ نظر نظریات سے آزاد کر کے آزادانہ مثبت سوچ پیدا کر سکتے ہیں اور یہی مثبت سوچ ہی صحیح سیاسی فیصلے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
ہماری سیاسی جماعتوں کو بھی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور سیاسی لیڈروں کو سیاسی رویے اختیار کرنے چاہئیں جو جمہوریت کے تسلسل کے لئے سودمند ہوں۔ عوام کو سیاسی بے راہ روی کا شکار مت کریں جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔ اگر عمران خان نے انصاف لینا ہے تو جمہوری طرز عمل اپنائیں کیونکہ جمہوریت میں ڈائیلاگ سے ہی تمام مسائل کا حل ممکن ہے اور تاریخ بھی از خود گواہ ہے کہ سیاسی مسائل کا حل صرف اور صرف ڈائیلاگ سے ہی ممکن ہے۔ اگر انہوں نے آئینی ‘ قانونی اور جمہوری رویہ اختیار نہ کیا تو ایک مرتبہ پھر ماضی کی کوتاہیوں کے مرتکب ہو کر جمہوریت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ یاد رکھیں اگر جمہوریت ہے تو جمہور کی آواز ہے۔