کشمیریوں کا 69واں یوم سیاہ (1)

27 اکتوبر 2016

بھارتی مسلح افواج نے ظلم بربریت ، سفاکیت اور جبر و تشدد کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے آج سے 69سال قبل 27اکتوبر 1947ءکو ریاست جموں وکشمیر کے بڑے حصہ پر محض طاقت کے بل بوتے زبردستی قبضہ کر لیا کشمیری اس وقت سے یہ دن ”یوم سیاہ“کے طورپر منا کر عالمی بردری کو باور کروا رہے ہیں کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے جس کا قطعی کوئی اخلاقی ، قانونی و آئینی جواز نہیں ہے ۔ بھارت اپنے اس ناجائز قبضہ کو مہاراجہ کشمیر کی اس قرار داد کے حوالہ سے درست قرار دیتا ہے کہ مہاراجہ نے کشمیر کے بھارت سے الحاق کی دستاویزپر دستخط کیے تھے ۔ حالانکہ یہ صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے بلکہ ایک انگریز محقق نے بڑی جانکاری سے تاریخ کو کھنگال کریہ حقیقت بیان کی تھی کہ مہاراجہ نے کشمیر کے بھارت سے الحاق کی قرار داد پر دستخط نہیں کیے تھے بلکہ وہ جعلی تھے ۔ بھارتی لیڈر جواہر لعل نہرو نے اقوام متحدہ کے علاوہ اپنے ملک کے اندر بھی کئی مقامات پر یہ وعدہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری کرائیں گے لیکن ان وعدوں کو 69سال کا طویل عرصہ گزر گیا بھارت عالمی ادارہ کی منظور شدہ قرار دادوں پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹیں حائل کر رہا ہے بلکہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ ثابت کرنے کےلئے من گھڑت و بے بنیاد جھوٹے دلائل دے رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر مقدمہ کشمیر کے وکیل پاکستان کےخلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کررہا ہے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کےخلاف ایک بار پھر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کا مرکز قرار دیا ہے ۔ انہوںنے گزشتہ دنوں بھارتی شہر گوا میں منعقد ہونیوالی برکس سربراہ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پاکستان کا پسندیدہ بچہ ہے اور بھارت کا یہ ہمسایہ ملک دہشت گردوںکی ذہنیت کو فروغ دے رہا ہے ۔ انکے بقول ہمارے خطے میں اقتصادی خوشحالی کےلئے سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی ہے اور المیہ یہ ہے کہ اس کا مرکز بھارت کے پڑوس میں واقع ایک ملک میں ہے ۔ انہوںنے واویلا کیا کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے نمونے اس ملک کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اس لےے دہشت گردی کےخلاف ”برکس“ کو مل کر آواز اٹھانے اور کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔ دریں اثناءبرکس کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میںکہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی مدد کرنیوالے بھی اتنے ہی خطرناک ہیں اس لےے دہشت گردی ختم کرنے کےلئے فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت ہے ۔ یہ اعلامیہ مودی نے خود پڑھ کر سنایا۔ اس خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور خطے کے ممالک کے مابین اقتصادی روابط استوار کرنے کےلئے دو علاقائی تنظیمیں شنگھائی کانفرنس اور برکس تشکیل دی گئی ہیں جن کا ایجنڈا بنیادی طور پر اقتصادی روابط تک ہی محدود ہے ۔ پاکستان شنگھائی کانفرنس کا حصہ ہے جس کے دوسرے ارکان میں تقریباً وہی ممالک شامل ہیں جو برکس کے رکن ہیں۔ برکس میں بھارت کے علاوہ چین ، روس، جنوبی افریقہ اور نیپال شامل ہیں جبکہ شنگھائی کانفرنس میں متعدد وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی رکنیت حاصل ہے ۔ ہمارے خطے میں علاقائی تعاون کی اہم تنظیم سارک سربراہ کانفرنس ہے جو علاقائی تعاون کے ساتھ ساتھ رکن ممالک کے مابین چھوٹے موٹے تنازعات طے کرنے میں بھی معاون ہوئی ہے تاہم یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بھارت باہمی علاقائی اور اقتصادری تعاون کےلئے قائم کی گئی ان تنظیموں کو اپنے توسیع پسندانہ مقاصد کےلئے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں اس نے فوکس پاکستان کو کیا ہوا ہے اور وہ ان علاقائی فورموں پر پاکستان کےخلاف منفی پراپیگنڈا کر کے دہشت گردی کے ناطے اقوام عالم میں اسے تنہاءکرنے کی سازشوں میں مصروف ہے چونکہ بھارت خود مذہبی اور علاقائی بنیادوں پر دہشت گردوں کا سرپرست اور انکی کارروائیوں کا معاون ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیری عوام پر اسکی طرف سے کی جانیوالی دہشت گردی اب پوری دنیا کی نگاہوں میں آچکی ہے جس کےلئے کشمیر نوجوانوں کی جدوجہد اور پاکستان کی فعال سفارتی کوششوں نے دنیا کو بھارت کامکروہ چہرہ دکھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور اسکے نتیجہ میں آج بھارت پر مسئلہ کشمیر یو این قرار دادوں کی روشنی مین حل کرنے کےلئے عالمی دباﺅ بڑھ رہا ہے اس لےے بھارت نے یہ دباﺅ پاکستان کی جانب منتقل کرانے کا سازشی منصوبہ تیار کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں بھارت کی پہلی یلغار گزشتہ ماہ ستمبر میں ہونیوالے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس پر تھی جس کے انعقاد سے پہلے بھارت نے پاکستان کےخلاف زہریلا پراپیگنڈا کر کے اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں دہشت گردی کی جنگ کے حوالے سے پاکستان کے کردار کے بارے میںغلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی مگر جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر کشمیری عوام پر بھارتی جبر و تشدد کے جاری ہتھکنڈوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹائی نہ جا سکی اور اس طرح پاکستان کو دنیا میں تنہاءکرنے کا یہ بھارتی ہتھکنڈا ناکام ہو گیا اور اسکے برعکس متذکرہ عالمی فورم پر بھارت کو وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی تقریر کی بنیاد پر کشمیر میں بھارتی فوجوں کے مظالم کے حوالے سے سخت تنقید سننا پڑی ۔اگر بھارتی چالبازیوں اور سازشوں کے باوجود دنیا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر مودی سرکارکے موقف پر قائل نہیں ہوئی اور اقوام متحدہ ، اوی آئی سی اور دوسری عالمی تنظیموں کے علاوہ حقوق انسانی کی متعدد عالمی تنظیموں کی جانب سے بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے حوالے سے اپنے فیکٹ فائنڈنگ مشن بھجوانے کا اعلان کیا گیا ہے تو یہی بھارتی جنونیت کےخلاف اقوام عالم کی تشویش کا ثبوت ہے ۔ بھارت نے اوڑی دھماکوں کو جواز بنایا گیا جبکہ ان دھماکوں میں بھی خود بھارتی ایجنسیوں کا ملوث ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ پھر بھارت نے کنٹرول لائن پر پاکستان کے سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ رچایاجو اس کےلئے بیک فائر ثابت ہوا اور مودی سرکار کے اس دعوے پر بھارتی اپوزیشن اور دوسری تنظیموں کی جانب سے بھی سرجیکل سٹرائیک کے ثبوت طلب کیے گئے تو مودی سرکار کوئی ثبوت پیش نہ کر سکی نہ اپنے عوام کو مطمئن کر سکی ۔ ان ہزیمتوں کے بعد مودی سرکار نے برکس کانفرنس کو پاکستان کےخلاف اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کےلئے استعمال کرنے کی سازش کی مگر اقتصادی تعاون کےلئے اس فورم کو اپنے پڑوسی ملک کی سلامتی کےخلاف استعمال کرنے کی یہ سازش بھی اسکے گلے پڑگئی ہے ۔مودی سرکارکے کشمیر میں جاری مظالم کی جزئیات تک سے اقوام عالم کو باخبر رکھنا چاہیے کیونکہ یہی بھارت کے دہشت گرد ہونے کا بڑا ثبوت ہے ۔ کیا یہ بھارتی دہشت گردی نہیں کہ گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ایک پورا گاﺅں جلا کر خاکستر کر دیا جس کے مکینوں پر بھارتی سرکارکو کشمیری حریت پسندوں کو پناہ دینے کا شبہ تھا۔ (جاری ہے)

اس کے علاوہ بھارتی فوج کنٹرول لائن پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آئے روز بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کر رہی ہے مودی سرکار کے اقدامات سے ثابت ہوتا ہے کہ خطہ میں سب سے بڑا دہشت گرد بھارت ہے جس کے ہاتھوں علاقائی ہی نہیں بلکہ عالمی امن و سلامتی کو سخت خطرات دوچار ہیں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کی پاکستان کے مختلف علاقوںمیں دہشت گردی کی وارداتیں ،دہشت گردوں کی سرپرستی اور فنڈنگ کی کاروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ۔ ”را“ کے آفیسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ایک بڑا ثبوت ہے ۔ پاکستان بھارت کے مابین حالیہ تناﺅ کی صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب تقریباً تین ماہ قبل ہندوستان کی قابض افواج نے ایک نوجوان کشمیری حریت پسند برہان وانی کو شہید کیا جس کے رد عمل میں تشدد کا ایسا سلسلہ چلا نکلا جو آج بھی جاری ہے 8جولائی سے 26اکتوبر 2016عرصہ میں علاقائی سطح پر بندشیں ، غیر اعلانیہ کرفیو اور ناکہ بندی رہی ۔ ریاست کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عید الاضحی کے روز بھی وادی کے بیشتر علاقوںمیں کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا جبکہ مساجد اور عید گاہوں میں باجماعت عید نماز ادا کرنے کی جازت نہیں گئی ۔ اس عرصہ میں ریاست کی سب سے بڑی تاریخی مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر بھی پابندی عائد کی گئی اور مسجد کو جانے والے تمام راستے سیل کر دےے گئے ۔ ۔ اس دوران 150سے زائد کشمیری شہید اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں ۔ اس بھیانک صورتحال کو وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے 21ستمبر کو جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں ہندوستانی بربریت پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ۔ انہوںنے اپنے خطاب میںکہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بد ترین ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہو رہا ہے مقبوضہ کشمیر کی اندرونی صورتحال یہ ہے کہ 8لاکھ افواج کھیتوں اور کھلیانوں کو نذر آتش کر رہی ہےں ۔ پیلٹ گنوں جیسے ممنوعہ ہتھیاروں سے نوجوانوں کو بینائی سے محروم کیا جا رہا ہے ، ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیاجاچکا ہے ریاست میں مسلسل کرفیونافذ ہے جس کی وجہ سے کاروبار تباہ ہو گئے ہیں ادویات اور کھانے پینے کی اشیاءختم ہو چکی ہیں ۔ دودھ پینے والے بچے شدید مشکلات کا شکار ہیں سکول کالجز اوریونیورسٹیاں بند ہیں ، سکولوں کو چھاﺅنیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ قابض افواج کو رات کو بستیوں کو گھیراﺅ کر کے بے پناہ مظالم ڈھا رہی ہے ان حالات میں عالمی برادری اور بالخصوص برطانیہ اور یورپی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردارادا کرئے ۔ کشمیری 27اکتوبر 1947ءسے لیکر آج تک مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضہ کےخلاف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں ۔حکومت پاکستان کو چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے روح فرسا مظالم کو بے نقاب کرنے کےلئے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرئے اس سلسلہ میں کشمیر کمیٹی کی از سرنو تنظیم کی ضرورت ہے اور اگر ممکن ہو تو اس کا چیئرمین کسی ایسے شخص کو بنایاجائے جو مسئلہ کشمیر کی بنیادی جزئیات اور مقدمہ کشمیر کے تمام تفصیلات سے آگاہ ہو ۔ یوم سیاہ کے موقع پر برسلز ، برطانیہ ، امریکہ اور دیگر ممالک میں بھی آباد کشمیر احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور قومی آزادی و حق خود ارادیت کے علمبردار ممالک کو شتر مرغ کی طرح اپنا سر ریت میں دبانے کی بجائے حقائق کا بغور جائز لینا ہوگا وگرنہ برصغیر کا امن اگر تہہ و بالا ہوا تو اس کی تپش سے پوری دنیا متاثر ہوگی ۔