وزیراعظم حج ڈائریکٹو ر یٹ کے فیصلے پر نظرثانی کریں

27 اکتوبر 2016

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے مدینہ منورہ میں ایک نیا حج ڈائریکوریٹ کے قائم کرنے کی منظوری دیدی ہے انہوں نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ چاروںصوبوں میں قائم حج ڈائریکوریٹ کے ملازمین کو چار ماہ کی اضافی تنخواہ بھی دی جائے گی۔ تاہم وفاقی وزیر نے اس امر کی وضاحت نہیں کی کہ جدہ میںپہلے سے قائم حج ڈائریکوریٹ کے مستقبل کا کیا ہو گا اور حاجی کیمپوں کے ملازمین کو اضافی تنخواہ کس مد میں سے ادا کی جائے گی۔جدہ میں پہلے سے قائم حج ڈائریکوریٹ کے ملازمین پر حکومت پاکستان کے ریگولر بجٹ سے قریبا ایک ارب روپے کے اخراجات آتے ہیں یہ امر قابل ذکر ہے سعودی عرب میں کسی بھی ملک کو حج ڈائریکوریٹ قا ئم کرنے کےلئے سعودی حکومت سے اجازت لینا ضروری ہوتا ہے اس کے علاوہ سعودی حکومت کسی ملک کو ماسوائے جدہ کے سعودی عرب کے کسی شہر میں حج مشن قائم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتی ہے ۔ وازرت مذہبی امور جب کبھی اپنے کسی ملازم کے لئے سعودی عرب جانے کےلئے ویزہ کے حصول کے لئے درخواست کرتی ہے تو اپنے ملازمین کی پوسٹنگ کا مقام جدہ ظاہر کرتی ہے کیونکہ سعودی حکومت حج مشن کے کسی بھی ملازم کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے لئے ویزہ جاری نہیںکرتی ہے۔توان حالات میں وزیر موصوف مدینہ منورہ میں حج ڈائریکوریٹ کس طرح قائم کریں گے۔وفاقی وزیر نے حاجی کیمپوں کے ملازمین کو اضافی تنخواہیں دینے کے بارے یہ نہیں بتایا کہ آیاانہیں ریگولر بجٹ یا پھر حاجیوں کے ویلفیر فنڈ سے دی جائے گی حیرت طلب پہلو یہ بھی ہے کہ حاجی کیمپوں کاعملہ سال میںدس ماہ تک فارغ رہتاہے صرف دو ماہ انہیںکام کرناپڑتا ہے وزیراعظم صاحب نے بھی اضافی تنخواہوں کی منظوری دینے میں بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کیا۔ اگر اس طرح دیکھاجائے تو کیا وزارت مذہبی امورکے ملازمین نے حج سیزن میں کام نہیں کیا تھاراقم نے امسال حج انتظامات میں بہتری کے سلسلے میں وفاقی وزیر اور سیکرٹیری مذہبی امور کو مبارکباد بھی دی تھی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم غلط کاموںکی بھی تائید کریں۔ رواں حج میں حاجیوں کو ویلفیئر فنڈ سے جائے نماز اور تحائف دیئے گے ہم نے اس کی بھی تعریف کی تھی یہ بات وازرت مذہبی امور کے حکام بھی جانتے ہیں کہ حج کاکام سیزنل جس کے لئے حکومت پاکستان نے پہلے ہی اتنا بڑا حج ڈائر یکوریٹ سعودی عرب میں قائم کر رکھا ہے البتہ مدینہ منورہ میں ایک نیاحج ڈائریکوریٹ بنانے کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ اپنے منظور نظر لوگوں کو سعودی عرب میں پوسٹنگ دی جا سکے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ دنیا کے کسی بھی اسلامی ملک نے سعودی عرب میں اپنا حج مشن نہیں بنایا ہے دنیا میں سب سے زیادہ حجاج انڈونیشا اور ملائشیاءسے سعودی عرب آتے ہیں لیکن ا’ن ملکوں نے بھی اپنا مشن نہیں بنایا۔ماسوائے ملائشیاءکے جس نے مدینہ منورہ میں ایک بلڈنگ خرید رکھی ہے جہاں صرف موسم حج میں کا ہوتا ہے۔اس خاکسار نے مدینہ منورہ میں حج ڈائریکوریٹ کے قیام کے سلسلے میں ایک سابق ڈائریکٹر جنرل حج سے رابطہ کرکے ا’ن رائے جاننے کوشش کی تو ا’ن کاکہنا تھا کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے جدہ میں حج مشن کے دفاتر پہلے ہی قومی خزانے پر بوجھ ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر وزارت مذہبی امور نے ایسا کرنا ہی ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ موسم حج میں اپنے عملے کو سعودی عرب بھیج دیا کرئے وگرنہ مدینہ منورہ میں حج ڈائریکوریٹ بنانے کا کوئی جواز نہیں۔سابق ڈائریکٹر جنرل حج سے حاجی کیمپوں کے ملازمین کو چار ماہ کی اضافی تنخواہ بارے استفسا ر کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ کتنی زیادتی کی بات ہے کہ حاجیوں کے فنڈسے ایسے ملازمین کو اضافی تنخواہیں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو سال بھر میں صرف دو ماہ کام کرتے ہیں۔حاجی کیمپ کے ایک سابق ڈائریکٹر کابھی یہی کہنا تھا کہ حاجی کیمپوں کے ملازمین کو اضافی تنخواہ دینے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔ہم وزیراعظم پاکستان نوازشریف سے مطالبہ کرتے ہیں ہ غریب ملک کے خزانے پر مزید اضافی بوجھ ڈالنے کے فیصلے پر نظرثانی کریں۔