جمہوریت

27 اکتوبر 2016

پاکستان اس وقت ایک مشکل دورسے گزر رہا ہے سرحدوں پر کشیدگی کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ملک کے اندر بھی پانامہ کے نام پر دو جماعتوںمیں کشیدگی پائی جاتی ہے ۔ دونوں جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ وہ عوام کی خدمت کر رہے ہیں ۔ نواز شریف آنسو بہاتے ہیں اور سارا کریڈٹ اپنی بیٹی مریم نواز کو دیتے ہیں کہ ان کی کوششوں سے ہیلتھ پروگرام شروع کیا ہے ۔ ان کے قریب کھڑی وزیر مملکت برائے صحت سائرہ افضل تارڑ صاحبہ کے دل پر کیا گزری ہوگی جوہر فورم پر دعویٰ کرتی ہیں کہ یہ پروگرام انہوں نے شروع کیا ہے وزیراعظم نے سچ ہی کہا ہے کہ کیونکہ مریم نواز نہ تو وزیر ہیں نہ مشیر ہیں اس لئے ان کا نام کسی بھی پروگرام پر فٹ کیا جا سکتا ہے ۔وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ بھی وزیراعظم کے بہت قریب ہیں مگر انہوں نے اس حوالے سے کئی پروگرام کئے مگر یہ راز کی بات انہوںنے کبھی نہیں بتائی کہ وہ مریم نواز صاحبہ سے گائیڈ لائن لیتی ہیں اگر انہیں گائیڈ لینا ہی تھی تو کم از کم غربت میں پسی ہوئی عوام پر ادویات کی قیمتیں بڑھا کر بم تو نہ گراتیں ۔ ادویات کے بڑے مافیا سے مل کر محترمہ نے وہ کام کر دیا تو پندرہ سال سے کوئی حکومت کرنے کی جرات نہیں کر سکی تھی ۔وزیراعظم کو چاہئے تھا کہ اس کا کریڈٹ بھی مریم نواز کو دے دیتے ۔ یہاں ایک بات دلچسپ ہے یا حسن اتفاق ہے کہ جب بھی ملک میں احتجاجی سیاست شروع ہوتی ہے تو وزیراعظم کہیں نہ کہیں فیتہ کاٹنے کیلئے پہنچ جاتے ہیں اور فوراً انہیں غریب عوام تین سو روپے دیہاڑی کمانے والوں کا خیال آ جاتا ہے ۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں تین لاکھ روپے تک ایک غریب مریض کے علاج کی بات کی ہے اس پر حیرت ہوئی ہے کہ پاکستان کے کسی سرکاری ہسپتال میں تین سو روپے سے اوپر کی آج تک مفت دوا نہیں ملی ہے وزیراعظم کس بنیاد پر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ تین لاکھ روپے سے زائد حکومت خرچ کرے گی ۔ اس پروگرام کے بارے میں بتاتا چلوںکہ یہ ان مریضوں کیلئے جو انتہائی موذی امراض میں مبتلا ہوں ۔اسلام آباد کے دو بڑے ہسپتال ہیں عوام کو تو چھوڑ دیں یہاں اشرافیہ خاص طورپر ایم این ایز اور سینیٹرز انہیں کوستے رہتے ہیں ۔ تمام ڈاکٹرز سفارشی ¾ ادویات کی چوری ¾ غیر معیاری اادویات ¾ عملہ غائب رہنا ¾ ضروری مشینری خراب رہتی ہے یہ ایسے الفاظ ہیں جو آپ کو حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے سننے کے ملتے ہیں ۔ کمال دیکھیں جب یہ باتیں عوام کرتی ہے تو کوئی اس جانب توجہ نہیںدیتا ۔ اب تو حالت یہ ہے کہ جو ملک چلا رہے ہیں ان سے صرف یہ دو ہسپتال بھی نہیں چلائے جا رہے ہیں ۔ مختلف امراض سے بچاﺅ کی ویکسین تک فراہم نہیں کی جا سکتی ہے اور وزیراعظم چلے ہیں پچاس نئے ہسپتال کھولنے ؟؟؟
حیرت اس وقت ہوتی ہے کہ جب یہ اعلانات کرتے ہیں اور انہیں کوئی سمجھانے والا بھی نہیں کہ بھائی جان کم از کم ایسا دعویٰ تو کریں جو کم ازکم ایک آدھ سال میں پورا ہو سکے یا پھر محض دعوے ہی کرنا اب سیاستدانوں کا کام رہ گیا ہے ۔پاکستان تحریک انصاف انداز سیاست نے بھی کچھ جلدی بازی کرنے پر حکمرانوں پر مجبور کر رکھا ہے ۔ یہاں عمران خان نے جلسے شروع کئے ڈیڈلائن دینا شروع کیں تو دوسری جانب میاں برادران اور ان کے سیاسی چند چمچے بھی نام نہاد منصوبوں اور انقلابی منصوبوں کے ساتھ میدان میں آ جاتے ہیں ۔ وزیراعظم کو ایسے ایسے منصوبے لکھ کر دے دیئے جاتے ہیں اور یہ تصور کیا جاتا ہے کہ جیسے عمران خان بلی اور یہ کبوتر بن کر آنکھیں بند کر لیں گے ۔وزیراعظم بھی عمران خان کے جلسوں کے ساتھ ساتھ خود بھی جلسے شروع کر لیتے ہیں ۔ انہیں کے پی کے اور سرائیکی علاقوں کا خیال آنے لگ جاتا ہے ۔ عمران خان کی احتجاجی کال سے کم ازکم سرائیکی علاقوں کو نواز شریف اپنے جانب متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ عمران خان کے جلسوں میں سب سے زیادہ انہی علاقوں سے لوگ آتے ہیں ۔
عمران خان کی جانب سے احتجاج اور اسلام آباد کو بند کرنے کی کال سے عام آدمی بہت پریشان ہے ۔ عمران خان کی سیاست بھی کمال ہے ۔ کرپٹ ہیں تو ان کے خلاف ثبوت دیں اور قانونی طریقے سے جنگ لڑیں اور فاتح بن کر آئیں مگر ایسانہیں ہوتا ہے ان کو مزہ آتا ہے کھلے میدانوں میں کیونکہ وہ کرکٹر ہیں اس لئے کھلے میدان میں کھیلنا پسند کرتے ہیں ۔ یہی وجہ سے ایک سو چھبیس دن تک گرمی سردی میں کھلے ڈی چوک میں کنٹینر پر رہے سینکڑوں لوگوں کو اپنے گرد اکٹھا رکھا ۔ انہیں عدالتوں کا فیصلہ بھی مانا مگر نواز شریف کو کچھ نہ ہوا ۔ اب ایک اور پڑاﺅ ڈالا جا رہا ہے نقشے بنائے جا رہے ہیں اسلام آباد کو بند کر دیں گے بھائی سوال یہ ہے کہ اسلام آباد کو کس لئے بند کریں گے اسلام آباد سے تو آپ کا ایک ایم این اے منتخب ہوا ہے ۔ وزیراعظم ہاﺅس ¾ پارلیمنٹ ہاﺅس کو بند کریں گے جہاں پر بقول آپ کے چور بیٹھے ہوئے ہیں ان کا محاصرہ کریں لوگوں کی زندگیاں اجیرن کرکے آپ کیا خدمت کرنے جا رہے ہیں ۔ اس طرح اگر حکومتیں گرنا شروع ہوگئی تو پھر ذہن میں یہ بات بھی رکھیں کوئی حکومت یہاں نہیں چل سکے گی اور جمہوریت کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنانے والے کبھی جمہوریت کو نہیں دیکھ سکیں گے ۔ خود ہی جمہوریت کی بساط لپیٹتے ہیں اور بعد میں سارا ملبہ جمہوریت دشمنوں پر ڈال دیتے ہیں ۔