جج صاحب کا استعفی اور تیسری قوت کی مداخلت کے خواہشمند

27 اکتوبر 2016

عدالت عظمی ٰکے فیصلے سے ایک ایسا طوفان اٹھا جس کی زد میں ججز اور نوکری پیشہ افراد آئے ۔ سپریم کورٹ یہ فیصلہ دو اکتوبر کو آیا اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے سابق نائب صدر چودھری اکرم ایڈوکیٹ نے غیر قانونی بھرتیوں کی دلیری سے قانونی جنگ لڑی اور پھر جیتی ۔اس جنگ کو اپنے منتقی انجام تک پہنچانے میں اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے سیکٹری وقاص ملک نے اہم کردار ادا کیا ۔ یہ دونوں وکلا ہماری اسلام آباد بار کے ہیرو ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ اس فیصلے کے مطابق یہ غیر قانونی بھرتیوں کے ذمہ دار دو ججز صاحبان تھے۔ امید تھی کہ فیصلے کے بعد یہ ججز خود ہی گھر چلے جائیں گے لیکن ایسا نہ ہوا ۔ وقاص ملک ایڈووکیٹ نے سپریم جو ڈیشیل کونسل میں ان دو ججز کے خلاف ریفرنس دائر کر رکھیں ہیں ۔ ان میں سے ایک سپریم کورٹ کے جج اقبال حمید الرحمن نے کافی سوچ بچار کے بعد جو ڈیشل کونسل کا فیصلہ آنے سے قبل بطور جج سپریم کورٹ اپنا استعفی دے دیا ہے ۔جبکہ آپ کا ساتھی جج ابھی تک سوچ بچار میں ہیں کہ گھر جاﺅ نہ جاﺅ ۔ جسٹس اقبال حمید الرحمن کے والد مشہور جج تھے۔ کہا جاتا ہے جب اقبال حمید الرحمن ہائی کورٹ کے کنفرم جج بنے تو اس کے دوسرے روز پی سی اور جج بنائے جانے تھے لیکن آپ نے پی سی اور جج بننے کے بجائے گھر جانا پسند کیا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کو غیر قانونی بھرتیوں میں کوئی دلچسپی نہ تھی ۔ اس وقت کے ساتھی جج نے غیر قانونی بھرتیوں میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ یہ جج صاحب مروت میں مارے گئے ۔ قدرت نے نہ جانے کس جرم میں آپ کو غیر قانونی بھرتیوں میں پکڑ کی۔ جب کہ وہ اچھی شہرت والے جج تھے ۔ استعفی دے کر اچھا کیا ۔ انکا استعفی قابل ستائش ہے ۔کیا اچھا ہوتا جب غیر قانونی بھرتیوں کا فیصلہ آیا تھا تو اسی وقت استعفی دے دیتے تو آج سے وہ استعفی بہت بہتر ہوتا ۔ بحر حال دیر آید درست آید ۔ یہ سچ ہے کہ انہوں نے ان غیر قانونی بھرتیوں سے کوئی مالی فائدہ نہیں اٹھایا تھا لیکن قصور وار ضرور تھے لہذا استعفی دیا جو لوگ غلطیوں کے ثبوت سامنے آ جانے کے باوجود گھر کا رستہ نہیں لیتے ۔ان کا انجام برا ہوتا ہے ۔ہماری سوسائٹی میں آج بھی کچھ لوگ حالات و واقعات سے سبق نہیں سیکھ رہے اور اپنی کرسی پر ڈٹے ہوئے ہیں جب کہ حالات بتا رہے ہیں کہ گھر ضرور جائیں گے ۔کوئی زمانہ تھا کہ لوگ کسی کی او ئے سننا پسند نہیں کرتے تھے مگر اب ایسا نہیں رہا ۔ کچھ لوگ جان بوجھ کر غلط کام کرتے ہیں لہذا وہ شرمندہ نہیں ہوتے یہ اس لئے نہیں ہوتے کہ اگر ان میں شرم ہوتی تو یہ غلط کام کرتے ہی کیوں ۔ ایسے لوگوں کے متعلق کہا گیا ہے کہ کچھ شرم کرو، کچھ حیا کرو ۔ہر بار جب کالم ایسی جماعت کے ایسے لیڈر کے متعلق لکھتا ہوں تو وعدہ کرتا ہوں کہ اب مزید نہیں لکھوں گا مگر جب حالات کو دیکھتا ہوں کہ یہ شخص یہ جماعت اس ملک کے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے اور کرنے جا رہا ہے اس پر جتنا بھی لکھوں کم ہے ۔قوم کی اس جماعت اور ان کے لیڈر سے گزارش ہے کہ ملک کافی عرصے سے حالت جنگ میں ہے ۔ بلوچستان کے وکلا کے ابھی زخم بھرے نہیں تھے کہ ایک بار پھر کوئٹہ خون سے نہا گیا ۔ دشمن ہمارا یہ سب کچھ اس لئے کرتا ہے کہ ملک میں خوف و دہشت کی فضا قائم رہے ۔ ان حالات میں ملک دھرنوں اور احتجاج کی سیاست برداشت نہیں کر سکتا ۔ اس سے ملک کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ جو کچھ آپ اسلام آباد میں کرنے جا رہے ہیں۔ اس سے فائدہ نہیں ملک کا نقصان ہو گا ۔ سانحہ کوئٹہ کے بعد بھی دو نومبر کی تاریخ میں تبدیلی نہیں لائے ۔یا د رہے اسلام آباد ایک شہر ہی نہیں ملک کا دارالخلافہ بھی ہے اس میں نیشنل اسمبلی و سینٹ بھی ہے۔یہاں پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ بھی ہے ۔ پرائم منسٹر ہاﺅس ،ایوان صدر بھی ہے ۔ملک کا سیکٹریٹ بھی ہے ۔ پاکستان ٹیلی ویثزن اور ریڈیو پاکستان بھی ہے ۔ دنیا بھر کے سفارت خانے بھی ہیں اس کے باوجود یہ جماعت یہ لیڈر بار بار اس شہر پر اس طرح حملہ آور ہوتے ہیں ۔کہتے ہیں دس لاکھ لوگوں کو اکھٹا کر کے لائیں گے ۔ کبھی سوچا ہے کہ یہ لوگ یہاں کھائیں گے کیا ؟کیا اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو گھاس اور درختوں کے پتے کھلائیں گے۔ کیا پینے کا پانی نالیوں سے پلائیں گے۔اتنی بڑی تعداد میں لوگ سوئیں گے کہاں ،بیٹھیں گے کدھر؟۔ اتنی تعداد میں لوگوں کی جامہ تلاشی کون لے گا ۔ کیا دہشت گردوں کے لئے یہ لوگ آسان ٹارکٹ نہیں ہو ں گے۔ ان خدشات کے باوجود بھی اگر اپنے فیصلے پر قائم ہیں تو ضروری ہے کہ وہ فوری طور کسی ماہر نفسیات سے رجوع کریں اگر یہ لوگ اداروں میں گھسنے کی کوشش کریں گے تو لڑائی مار کٹائی ہو گی خون خرابہ ہو گا اس کے باوجود یہ اسلام آباد پر قبضہ نہیں کر سکیں گے ۔ ہاں ایسے میں معصوم لوگوں کا نا حق خون ضرور ہو گا۔یہ اپنے سیاسی کزن کے ساتھ ملکر سیاسی فائدہ اٹھا نے کی کوشش کریں گے ۔جب یہ کزن اب غیر ملکی باشندہ ہے یہ غیر ملکی پاسپورٹ پر سفر کرتا ہے ۔ فارن میں رہائش پذیر ہے ۔ان کو قانون دھرنوں کا حق نہیں دیتا ۔یہ دونوں کزن غیر آئینی غیر قانونی طریقے سے حکومت گرانا چائتے ہیں ۔جو کہ ممکن نہیں۔ پریشر کسی کام نہیں آ سکتا کیو نکہ اب تو آئین میں 58ٹو بی کا خاتمہ بھی ہو چکا ہے ۔ اب حالات کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ آئین کی اس شق کو ختم کر کے اچھا نہیں کیا ۔ اس شق کے تحت تیسری قوت حکومت کو گرا سکتی تھی مگر اب ایسا بھی ممکن نہیں رہا ۔ اگر ان حالات میں تیسری قوت آتی ہے تو اس کے سامنے آئین کا آرٹیکل چھ کھڑا ہے جو یہ کہتا ہے کہ خبر دار کوئی غیر قانونی اور غیر آئنی طریقے سے حکومت کا خاتمہ کرنے کی جرائت نہ کرے ۔اگر 58ٹو بی کی شق رہتی تو اس کا استعمال کرتے ہوئے آئین کے دائرے میںرہ کر عبوری حکومت بنائی جا سکتی تھی مگر اب آئین میں اس شق کے خاتمے کے بعد کوئی عبوری حکومت وجود میں نہیں آ سکتی ۔ لہذا ایسے پریشر سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔لہذا ایسا نہ کریں ہوش کے نا خن لیں ،اسی میں بہتری ہے۔
آپ مانیں نہ مانیںیہ ہے آپکا اختیار
ہم نیک و بد جناب کو سمجھائے دیتے ہیں