بنگلہ دیش میں انسانیت کے خلاف مظالم

27 اکتوبر 2016

مکرمی :دنیا میں ہونے والے مختلف واقعات انسان کو ضرور متاثر کرتے ہیں اور ان کے بارے سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ انہی میں سنگین واقعات میں بنگلہ دیش کی حالیہ عدالتی کا رروائی ہے جن کے تحت میر قاسم علی کی شہادت تازہ ترین واقعہ ہے اس سے قبل یہ ظالمانہ ٹریبونل جو بظاہر جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کیلئے تشکیل دیاگیا ہے۔ اسکی متعدد ظالمانہ کارروائیاں جن میں عدالتی فیصلہ کے نام پر متعدد بے گناہ اور شریف النفس انسانوں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے۔ جس میں حالیہ تازہ ترین واقعہ میر قاسم علی کی سزائے موت ہے انسانی زندگی سب سے اہم اور قیمتی چیز ہے اس بات سے قطع نظر کہ یہ مظلوم افراد کسی سیاسی جماعت کے افراد تھے جنہوں نے اپنی جماعت کی پالیسی کے مطابق بنگلہ دیش بننے سے پہلے متحدہ پاکستان میں ہر طرح کے مظالم کو روکنے اور ایک آزاد ملک کو بچانے کیلئے اپنی جماعت کی پالیسی کے مطابق عمل کیا اور کوئی ظلم یا ناانصافی یا کسی قسم کی ناجائز قتل و غارت میں حصہ نہیں لیامگر سیاسی حالات کی وجہ سے ہندوستان کی اسلام دشمنی کے غلبہ کے نتیجہ میں بنگلہ دیش وجود میں آیا جو کسی طرح بھی منصفانہ کارروائی نہ ہے۔ جس کو ہر انصاف پسند انسان اچھا اور درست نہیں کہہ سکتا۔ اس کی مذمت اسلامی سربراہان نے بھی کیا ہے۔اسلام کے شہری اصولوں اور بین الاقوامی انصاف کے اصولوں کے مطابق برائی کو ختم کرنے کیلئے ہر انسان کیلئے لازمی ہے کہ برائی کو دیکھ کر اسکو روکنے کیلئے اپنی بھرپور طاقت کا استعمال کرے او ر اگر اسکی طاقت سے یہ نہ رک سکے تو اسکے خلاف آواز بلند کر کے سب لوگوں کو اس برائی کو روکنے کی دعوت دینی چاہیے اس اُصول کا تقاضا ہے کہ بنگلہ دیش میں نا منصفانہ ، ظالمانہ پھانسی کے فیصلوں کے خلاف بھرپور آواز دنیا میں بلند کی جائے اورہر جگہ احتجاج کرنا چاہیے۔اس سلسلہ میں بنگلہ دیش میں ہونے والے عدالتی مظالم اور غلط فیصلوں کے خلاف اسلامی ممالک خصوصاً پاکستانی حکمرانوں کو اقوام متحدہ میں آواز بلند کرنی چاہیے۔وزیر اعظم نواز شریف کو چاہیے کہ بنگلہ دیش میں انصاف کے نام پر بے گناہ لوگوں کا قتل روکنے کیلئے بھرپور آواز بلند کریں اور دنیا کی اقوام کو اس ناانصافی کے خلاف بنگلہ دیش حکومت سے بھرپور احتجاج کرنا چاہیے تاکہ جنگی ٹریبونل کو ختم کیا جائے۔اگر بنگلہ دیش کی حکومت اس سے باز نہ آئے تو دنیا کے سب ممالک بالخصوص اسلامی ملکوں کو بنگلہ دیش کا سفارتی بائیکاٹ اور تجارتی پابندیاں عائد کرنے جیسے اقدامات کر کے حسینہ واجد کی حکومت کو بھارت کے اشارے پر مسلمان بھائیوں پرمظالم بند کرنے پر مجبور کیا جائے تاکہ ہماری برائی کے خلاف کارروائی کرنے کی ذمہ داری پوری ہوسکے ورنہ ہم خدا کے سامنے اس کیلئے جوابدہ ہوں گے۔
( محمد حلیم سینئر ایڈووکیٹ، بار ایسوسی ایشن فتح جنگ)