”مسلم کش اقوام متحدہ“

27 اکتوبر 2016

جب سے اقوام متحدہ وجود میں آیا تب سے آج تک کم و بیش تمام مسلم ممالک تباہ و برباد کردیئے گئے فوجی اعتبار سے وہ طاقتور مسلم ممالک جو اسرائیل کے آس پاس تھے سب کے سب کسی نہ کسی بہانے کمزور تر کردیئے گئے۔ یہ سب منظم منصوبہ بندی کے ساتھ ہوا۔ آج بھی یہ سلسلہ اسی زور و شور سے جاری ہے۔ عالمی سازشوں کی شکار آخری دو مضبوط کڑیاں یعنی ترکی اور پاکستان دشمنوں کی شدید زد میں ہیں۔ امت مسلمہ کا شیرازہ کیوں بکھرا؟ یہ ایک طویل کہانی ہے پہلی جنگ عظےم کے بعد سلطنت عثمانیہ قصہ پارینہ بن چکی تھی۔ ایک وقت تھا ترکی کا سلطان اسلامی دنیا کا خلفیہ تسلیم کیا جاتا تھا۔ برطانیہ نے برصغیر کے عوام سے پہلی جنگ عظےم میں مدد کے عوض ترکی کی سلامتی کی ضمانت دی تھی لیکن جنگ کے اختتام کے بعد اس نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے خود ہی استنبول اور موصل پر قبضہ کرلیا اور ترکی کے حصے بخرے کردیئے۔ یہی نہیں اس وقت کے وزیراعظم برطانیہ ڈیوڈ لائڈ جارج نے اپنی پست ذہینت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کابینہ کے سامنے یہ بیان دیا کہ ” یہ فتح درحقیقت صلیب کی ہلال پر فتح ہے ہم ترکی کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو ہم اپنے دشمنوں سے کرتے آئے ہیں۔“ عالم اسلام کی آنکھیں آج اٹھانویں سال بعد بھی اسی طرح بند ہیں۔ ایسا کیوں نہ ہو اس کے تمام حکمران سوائے موجودہ ترکی کے سب کے سب امریکہ کے غلام ہیں۔ ترکی کی موجودہ حکومت اور پاکستان کی افواج دوہی مزاحم قوتیں اسلامی دنیا میں امریکہ اور اس کے تمام حواریوں کو منہ دے رہی ہیں۔ یہ کالم کشمیر کے حوالے سے ہے لیکن پس منظر بھی مختصراً ضروری تھا۔ بات ہورہی تھی اقوام متحدہ کی اس کارکردگی کی جو اس نے مسلمان ممالک کے ساتھ روا رکھی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کی وہ قرار دادیں جو مسلمان ملکوں پر چڑھائی کیلئے منظور ہوتی ہیں ان پر فی الفور عملدرآمد کرایا جاتا ہے اور وہ قراردادیں جو مسلمان ملک کو کسی ظالم اور جارح ملک سے نجات دلاسکتی ہیں ان پر کبھی عملدرآمد نہیں ہوتا۔ اس کی واضح مثال فلسطین اور کشمیر کی نصف صدی سے زیادہ پرانی قراردیں ہیں جن کی راہ میں امریکہ‘ اسرائیل‘ یورپ اور بھارت جیسی فاسٹ طاقتیں مزاحم ہیں۔ جب بھی یہاں پرزور تحریکیں اٹھتی ہیں جس کے نتیجہ میں اسرائیل اور بھارت فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں خون کی ندیاں بہادیتے ہیں۔ اس پر عالمی ضمیر کو سانپ سونگھ جاتا ہے اقوام متحدہ پر جب زیادہ دباﺅ پڑتا ہے تو وہ صرف چند سطری بیان کو ہی انتہائی اقدام سمجھ کر داغ دیتا ہے۔ جب عراق نے کویت پر قبضہ کیا تھا تو امریکہ سمیت اقوام متحدہ کی پھرتیاں دیدنی تھیں۔ امریکہ کے پیٹ میں مروڑیں اٹھنے لگیں چنانچہ عراق کو ایک محدود مدت کی وارننگ دی گئی اور مدت گزرنے کے اگلے ہی دن امریکہ نے اپنی سرکردگی میں 30سے زیادہ عیسائی ممالک کی افواج لیکر عراق پر چڑھائی کردی اور چند ہی دنوں میں عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی اس جنگ کا تمام بل سعودی عرب‘ کویت سمیت دوسرے عرب ممالک نے راضی خوش ادا کیا۔ جنگ کا فائدہ امریکہ اور یورپ نے اٹھایا عراق تو ہر طرح سے تباہ ہوا لیکن سعودی عرب کی اقتصادیات بری طرح تباہ ہوگئی جس کے آج تک مضر اثرات سعودی عرب کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کا ایک اور کارنامہ سنیئے کہ اس نے کتنی پھرتی اور سرعت کے ساتھ انڈونیشیا کے جزیدے ایسٹ تیمور میں جو رومن کیتھولک عیسائی کی اکثریت والا علاقہ تھا کہ امریکہ کی دھمکی اور دباﺅ کے فوری بعد 1999ءمیں زبردستی ریفرنڈم کرایا اور اس کو ایک آزاد ریاست کی حیثیت 20 مئی 2002ء کو دیدی گئی یاد رہے 1999ءسے اقوام متحدہ کے ادارہ The Transional Authority برائے مشرقی تیمور (Untaet) نے مذکورہ جزیرہ کا انتظام پہلے ہی سنبھال لیا تھا۔ اقوام متحدہ یہی کام کشمیر میں کیوں نہیں کرتا؟ لہٰذا یہ بھول جائیں کہ امریکہ یا اقوام متحدہ‘ فلسطین اور کشمیر کی آزادی کیلئے کچھ کرے گا یہ ہمیں اپنے زور بازو ہی سے کرنا ہوگا۔ سی پیک کو ایک نعمت مترقبہ سمجھ کر پاکستان کو اپنی اقتصادیات سمیت ہر شعبہ¿ حیات کو کسی ترقی یافتہ مغربی ملک کے ہم پلہ کرنا ہوگا۔ موجودہ نام نہاد جمہوری سیٹ اپ پاکستان کی ترقی اور خطہ کی بڑی طاقت بننے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس نظام اور اس کے آزمودہ تمام سیاستدانوں اور پارٹیوں سے ہمیشہ کیلئے جان چھڑانا از بس ضروری ہے۔ ہاں البتہ ان میں سے جو محب وطن‘ ایماندار اور غیر سیکولر اور غیر لبرل سیاستدان ہیں ان کو مستقبل کے سیٹ اپ کا حصہ ضرور بنانا چاہیئے۔ ایک دفعہ جب پاکستانی خطہ کی بڑی طاقت بن جائے گا (انشاءاللہ) تو پھر عالم اسلام کو متحدہ کرکے اقوام متحدہ سے ضرور جان چھڑالیں اگر چہ تمام کام اتنا آسان نہیں لیکن پاکستان اور پاکستانیوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ الحمداللہ ہر بحران سے سرخرو ہو کر نکلے ہیں۔ پاک افواج جیسی جری فوج جو قوت ایمانی سے لبریز ہے اور پاکستانی جیسی بہادر نڈر اور سخت جان قوم ایک دوسرے کے شانہ بشانہ ہو کر ضرور کامیاب و کامران ہوں گے۔ (انشاءاللہ)