پنجاب یونیورسٹی ڈائری 2010ء

27 فروری 2010
مکرمی! پنجاب یونیورسٹی کی ڈائری 2010ءمیرے سامنے ہے۔ ڈائری کے شروع میں فزکس کے 4 اساتذہ بشمول حالیہ وائس چانسلر صاحب کی تصاویر ہیں۔ اندر کم و بیش 26 رنگین تصاویر ہیں جن میں تقریباً 16 تصاویر صرف وائس چانسلر صاحب کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ڈائری کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں صرف ایک شعبہ فزکس ہی ہے اور پوری یونیورسٹی صرف اور صرف وائس چانسلر صاحب کی کاوشوں کی مرہون منت ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وائس چانسلر صاحب فزکس کے استاد ہیں۔ اکثر قومی ادارے جو تالیفات و ڈائریاں شائع کرتے ہیں ان کے شروع میں بانیانِ پاکستان حضرت قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کی تصاویر ضرور شائع کی جاتی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یونیورسٹی کے تمام شعبوں کا مختصر تعارف اور ان کے سربراہان وغیرہ کی تصاویر بھی شامل کی جاتیں تمام شعبہ کے اساتذہ صاحبان بھی اسی یونیورسٹی کا حصہ ہیں۔ ان کا حق بنتا ہے کہ ان سب کی نہیں تو کم از کم چیئرمین صاحبان کی تصاویر ضرور شامل ہوتیں۔ فزکس کے ساتھ ساتھ تمام شعبوں میں جن نامور شخصیات نے گراں قدر خدمات سرانجام دیں ان کا بھی ذکر کر دیا جاتا۔ پنجاب یونیورسٹی کی ڈائری 2010ءایک شعبہ کی نمائندگی کرتی تو نظر آتی ہے لیکن پوری یونیورسٹی کا احاطہ کرتی دکھائی نہیں دیتی۔ اس طرح کے آمرانہ روئیے قومی اداروں میں مناسب نہیں۔
(سید روح الامین 03335493850)