وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری کوآپریٹیوز اور ڈسٹرکٹ ریونیو آفیسر کے نام

27 فروری 2010
مکرمی! ہم ممبران پی این ڈی کوآپریٹیو ہاﺅسنگ سوسائٹی آپ کی توجہ سوسائٹی کے چند سنگین معاملات کی طرف دلوانا چاہتے ہیں۔ ہماری سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری جوکہ محکمہ بہبود آبادی میں ایک سرکاری معمولی ملازم ہیں انہوں نے سوسائٹی میں پلاٹوں کی ٹرانسفر پر پنجاب ریونیو بورڈ کی طرف سے عائد کردہ2% سٹیمپ ڈیوٹیCVT 4%+ ٹیکس کی رقم جولائی 2008 سے دسمبر 2009ءکاٹی ہی نہیں۔ جس سے پنجاب بورڈ آف ریونیو کے محاصل میں لاکھوں روپوں کا نقصان ہوا ہے۔ اس نقصان کے ذمہ دار صرف اور صرف سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ مزید یہ کہ مثال کے طور پر ایک خریدار نے پلاٹ خریدا۔ جنرل سیکرٹری نے مذکورہ پلاٹ کی ٹرانسفر پر خریدار سے محض ایک انڈرٹیکنگ کہ ”اگر مذکورہ پلاٹ پر ٹیکس کی مد میں کوئی رقم ہوئی تو وہ سوسائٹی کو ادا کرنے کا پابند ہوگا“ لے کر فائل میں لگا دیا۔ بعد میں اسی خریدار نے یہی پلاٹ آگے کسی اور کو فروخت کر دیا۔ جنرل سیکرٹری نے اس پلاٹ کے لئے خریدار سے بھی وہی ”انڈرٹیکنگ“ لیکر فائل میں لگائی۔ اس طرح سے 2/3 دفعہ ٹرانسفر کئے گئے پلاٹ پر سٹیمپ ڈیوٹی CVT+ ٹیکس کی رقم وصول نہیں کی گئی اس کا ذمہ دار کون ہے؟
سوسائٹی کا نقشہ کئی دفعہ تبدیل ہو چکا ہے کسی ممبر کو پتہ نہیں کہ اس کا پلاٹ کہاں ہے؟ سوسائٹی کے تمام پلاٹس آڑے اور ٹیڑھے کاٹ دیئے گئے ہیں۔ جس سے تعمیر ہونے والے ہر گھر کا ہر کمرہ بدگنیا ہوگا۔ سوسائٹی میں بجلی کے تمام کھمبے ٹیڑھے لگے ہوئے ہیں بجلی کے قیمتی ٹرانسفارمرز سے تیل لیک کر رہا ہے۔ سوسائٹی کے پارکس اور کمرشل سرے سے بنے ہی نہیں۔ قبرستان کے لئے اتنی چھوٹی جگہ مختص کی گئی ہے کہ ہمیں تو مرنے کے بعد بھی چین سے سونے کے لئے شاید ہی جگہ ملے پوری سوسائٹی کے لئے پانی کی چھوٹی سی ٹینکی ناکافی ہے۔ تنگ و تاریک ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، جگہ جگہ سے ٹوٹے ہوئے بل کھاتے ہوئے سیوریج کے پائپ زمین میں دبا دیئے گئے ہیں۔ سوسائٹی کا مین بلیو ارڈ بارش میں کسی تالاب کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ دن دیہاڑے سوسائٹی میں چوری، ڈاکے، مال ڈنگر بے لگام پھرتے نظر آتے ہیں۔ سوسائٹی کا مین بلیوارڈ ٹرالیوں کا موٹروے بنا ہوا ہے۔ جنرل سیکرٹری کے پاس کسی ممبر کا فون سننے کے لئے وقت نہیں۔ سائیٹ پر کبھی گئے نہیں دفتر جاﺅ تو سیکرٹری صاحب ملتے نہیں۔ جنرل سیکرٹری خود ساختہ مقدمات کے ذریعے بعض ممبران کو لیٹی گیشن میں الجھائے رکھتے ہیں تاکہ ممبر تھک ہار کر اپنے پلاٹ کو بالواسطہ کوڑیوں کے بھاﺅ ان کے منظور نظر ڈیلر کو بیچ جائیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب اور سیکرٹری کوآپریٹیوز سے درخواست ہے کہ وہ ہماری سوسائٹی کے حال پر ترس کھائیں اور اس ریئل اسٹیٹ کے ماہر جنرل سیکرٹری سے ہمارا پیچھا چھڑوائیں اور ان کے خلاف تحقیقات کرکے ان کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔
بہت سے ممبران پی این ڈی کوآپریٹیو ہاﺅسنگ سوسائٹی لاہور