مغرب کی جانب جاﺅ گے تو مٹ جاﺅ گے

27 فروری 2010
مکرمی! آج کل ملک میں عالمی طاقتوں کے بزرجمہروں اور ولائتی آقاﺅں کی آمدورفت ”تو چل میں آیا“ کا سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا اس لئے کہ ان کے لئے پاکستان شارع عام بن چکا ہے اور ہماری حکومت خوشدلانہ طور پر ان کی پذیرائی اور احسانمندی کے گن گا رہی ہے۔ بقول صدر آصف زرداری ہم نے امریکہ کے لئے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کرکے اب تک 85 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ جب تک حکومت بیرونی مالیاتی اداروں سے قرضے لینے کی روش اپنائے رکھے گی، امداد دینے والا اپنے مذموم مقاصد اور مفادات کی خاطر اس کے اندرونی حالات میں دخل اندازی کرتا رہے گا جس سے اس کا اپنا نظام غیر متوازن رہے گا۔ ماضی کے تجربات اور کمزور پہلوﺅں کی آڑ لے کر بظاہر اشتراک و تعاون لیکن درپردہ تحریص و تعریض کے لبادے میں مزید بلین ڈالروں کی مالی امداد اور دفاعی عسکری کباڑ شدہ سازوسامان دینے کی پیشکش بھی کرا دی گئی تاکہ امریکہ کی مالا جپنے والے اعصابی تناﺅ میں مقید رہیں اور سودوزیاں کا پورا حساب کرنے کے قابل نہ رہیں۔ سپریم کورٹ کے قومی مفاہمتی آرڈیننس پر تاریخی اور عظیم فیصلے نے حکومت کے ایوانوں سیاستدانوں اور انتظامیہ میں ضابطہ قانون کے اصولوں اور سوچ کے مثبت پہلو اجاگر کئے ہیں اور خود وزیراعظم کا یہ اعلان کہ ملک و قوم کے مفادات میں کوئی ایسا قدم اٹھایا نہ جائے گا جو معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنے اور نہ ہی اب کسی کی ماتحتی میں رہ کر بیرونی امداد کے اثرات قبول کئے جائیں گے۔ اگرچہ عوامی سطح پر بیداری کے عملی اظہار اور اپنے جذبات و احساسات کا انعکاس ہے۔ لیکن حکومتی قیادت کو بھی اب اپنے ذاتی گروہی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر اس حقیقت پسندی کا بھی ثبوت فراہم کرنا ہوگا کہ غیر ملکی امداد و قرضوں اور سود کی ادائیگیوں سے نجات پا کر اپنی اقتصادی حالت عوام کی ترقی و بہبود اور ملک کی سالمیت کے لئے اپنی پیہم جہدوسعی پر انحصار کرنا ہے۔
عبدالوحید پاشا، نشیمن ٹاﺅن لاہور0334-9783261