لال مسجد سے لال حویلی تک

27 فروری 2010
مکرمی! عوام کا حافظہ اتنا بھی کمزور نہیں کہ وہ ماضی قریب میں ہونے والے لال مسجد کے خونی معرکے کو بھول گئے ہیں۔ اقتدار کی اسی کشتی میں شیخ رشید احمد بھی سوار تھے اگر انہیں اختلاف تھا تو وہ کود کر باہر آ جاتے۔ اس طرح وہ پے درپے شکستوں سے بچ جاتے۔ ان کی خواہش کے مطابق حکومت نے سخت ترین سکیورٹی انتظامات کئے تھے اس کے باوجود شیخ صاحب دھاندلی کے الزامات ہر ہارنے والے امیدوار کی طرح لگا رہے ہیں۔ حلقہ55 میں ہارنے کے بعد نہ صرف وہ اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں بلکہ اپنے ساتھ چودھری برادران کو بھی لے ڈوبے ہیں۔ اب وہ جتنی دل چاہے پریس کانفرنسیں کریں لیکن حقیقت، حقیقت ہی ہے
ناکام تمنا دل اس سوچ میں رہتا ہے۔ یوں ہوتا تو کیا ہوتا یوں ہوتا تو کیا ہوتا
ڈاکٹر محمد منیر مرزاسیکرٹری جنرل میری ٹورسٹ کلب لاہور