آخر ایسا کب تک....؟

27 فروری 2010
مکرمی! ہمارے ملکی حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم اپنے ملک کو نقصان پہنچا کر کسی دوسرے ملک کو فائدہ پہنچائیں۔ ہماری معیشت اتنی کمزور ہے کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بیرون ملک سے امداد حاصل کی جاتی ہے۔ مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ گائے کا گوشت جوکہ پہلے 120 روپے کلو تھا اب 200 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے اور بکرے کا گوشت جو پہلے 325 روپے تھا اب 400 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے یعنی پہلے سے 25 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اتنا مہنگا گوشت ہونے کی وجہ سے غریب عوام کی اس تک رسائی کیسے ممکن ہو سکتی ہے۔ سرکاری اور نجی سطح پر نہ صرف زندہ جانور بلکہ گوشت بھی وسیع پیمانے پر مشرقی وسطی کے ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ملک میں گوشت کی کمی ہوگئی ہے اور قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا ہے تاجر حضرات ڈالر کمانے کی غرض سے عوام کو پریشان کر رہے ہیں حکومت سے گزارش ہے کہ گوشت کی برآمد پر پابندی لگا کر گوشت کی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ عوام بھی اسے استعمال کر سکیں۔
سحرش امتیاز ملک شعبہ ابلاغیات گورنمنٹ فاطمہ جناح گرلز کالج چونا منڈی لاہور