فلاح کی راہ

27 فروری 2010
رفیق ڈوگر
ہے کوئی جو فلاح نہیں چاہتا؟ دنیا میں اور آخرت میں۔ کونسی ہے ایسی فلاح کی راہ؟
قرآن کریم میں کائنات کے خالق و مالک کے احکامات ہیں جو انسانوں کی دنیا اور آخرت میں فلاح کا مکمل ضابطہ ہیں ان احکامات پر عمل کیسے کرنا ہے؟ اس بارے میں مکمل رہنمائی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک اور سنت میں ہی ملتی ہے۔ الامین صلی اللہ علیہ وسلم نے احکاماتِ قرآن پر عمل کیسے کیا؟ اہلِ توحید سے ان احکامات پر عمل کیسے کرایا؟ اہل توحید کی جماعت ان احکامات کی روشنی میں کیسے تیار کی؟ ریاست کیسے قائم کی؟ افراد کی اجتماعی زندگی اور ریاست کے مختلف شعبوں میں ان احکام کو عملاً نافذ کیسے کیا تھا؟ یہ رہنمائی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارک میں ہی ملتی ہے اور خالق و مالک کائنات کا فرمان ہے۔
”تمہارے پیروی کرنے کے لئے رسول اللہ کا عمل بہترین نمونہ ہے“۔ (33:21)
اسلام دین کامل TOTAL PACKAGE ہے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے جملہ امور میں رہنمائی کا مکمل ضابطہ ہے مگر وہ اہل توحید جن کے پاس رہنمائی کے لئے دین کامل اسلام‘ کتاب کامل قرآن اور انسان کامل الامین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پاک موجود ہے۔ وہ زوال کے سفر پر کب اور کیسے چل پڑے تھے؟ اس کی تفصیل طویل ہے۔ ہم نے الامین صلی اللہ علیہ وسلم میں ”سنت سے انحراف کی صورتیں“ کے عنوان سے اس کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے عنوان ہیں (1) اہل منصب کی نمازوں میں امامت سے علیحدگی (2) آخرت کی قیمت پر دنیا کی خریداری (3) شیطان کی پیروی (4) خواری کا لباس (5) دین پیشہ بھکاری (6) شیطان کی وکالت (7) جھوٹ کی حکمرانی (8) پیشہ ور طبقوں کا عروج۔
اس زوال میں اور امت کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دینے میں عام مسلمان کا اس کے علاوہ کوئی کردار نہیں کہ اس نے قرآن اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی حاصل کرنے کی بجائے جھگڑے پیدا کرنے والوں کی تقلید کے ذریعے ملت کو کمزور کرنے میں حصہ لیا اللہ کا فرمان ہے۔
”اور اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اور آپس میں نزاع نہ کرو ایسا کرو گے تو بزدل ہو جاﺅ گے اور تمہاری قوت جاتی رہے گی“۔ (46:8)
ایسے نزاع پیدا کر کے اہل توحید کو زوال کی راہ پر ڈالنے اور موجودہ حالات تک پہنچا دینے کے ذمہ دار دو طبقے ہیں (1) حکمران (2) اہل علم۔ سب علماءکو اس کا ذمہ دار نہیں قرار دیا جا سکتا مگر اس زوال میں جاہ پسند اہل علم کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے ان کا جنہوں نے امت کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا اور اس کی قوت جاتی رہی۔
قبیلہ بنو عامر کا ایک وفد مدینہ آیا اہل وفد نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سید (یعنی سردار) ہیں“۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ٹوک دیا ”سید صرف اللہ کی ذات ہے“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایسے کہا کرو یا اس سے بھی کم جو چیز اللہ تعالیٰ کے لائق ہو اس میں میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو۔ تمہیں شیطان اپنا وکیل نہ پکڑے۔ میری اس طرح حد سے زیادہ تعریف نہ کیا کرو جس طرح عیسائیوں نے ابن مریم کی بہت زیادہ تعریف کی۔ میں تو اللہ کا بندہ ہوں۔ تم میرے بارے میں صرف اللہ کا بندہ اور رسول‘ کہا کرو“
حضرت ابوبکر صدیقؓ کہتے ہیں کہ ایک روز اللہ کے رسول تکیہ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ آپ نے ہم سے کہا:
”کیا میں تمہیں بتاﺅں کہ کبائر کے کبائر (بڑے گناہوں سے بڑے گناہ) کونسے ہیں؟“
ہم نے عرض کیا ”ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم“
آپ نے فرمایا ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا‘ ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور کسی کو ناحق قتل کرنا“ اتنا فرما کر آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا ”جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا“
حضرت ابوبکر صدیقؓ کہتے ہیں کہ آپ بہت دیر تک دہراتے رہے ”جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا“
صحابہ کرام نے پوچھا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کوئی مسلمان بزدل بھی ہو سکتا ہے؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں“
انہوں نے پوچھا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کوئی مسلمان بخیل بھی ہو سکتا ہے؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں“
انہوں نے پوچھا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کوئی مسلمان جھوٹا بھی ہو سکتا ہے؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں“
قبیلہ بنو سعد بن بکر کا نمائندہ ضمام بن ثعلبہ مسجد نبوی میں داخل ہوا اور پوچھا ”تم میں عبدالمطلب کا بیٹا کون ہے“ صحابہ نے اللہ کے رسول کی طرف اشارہ کر دیا اس نے کہا ”اے صاحب میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں میرے انداز سوال میں کرختگی ہو گی آپ اس پر ناراض نہ ہونا“ اللہ کے رسول نے فرمایا ”جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھو“ اس نے کچھ سوال پوچھے اور ایمان لے آیا۔ یہ 9 ہجری کا واقعہ ہے جب سارے جزیرہ نمائے عرب پر اللہ کے دین کا غلبہ ہو چکا تھا۔ آپ اتنی بڑی ریاست کے ناظم اعلیٰ بھی تھے اور اللہ کے رسول بھی اور مسجد نبوی میں عام صحابہ کرام کے درمیان زمین پر ان جیسا ہی لباس پہنے تشریف فرما تھے۔ باہر سے آنے والوں کی پہچان کے لئے بھی آپ نے کوئی الگ لباس نہیں پہنا ہوا تھا۔ کبھی نہیں پہنا تھا۔ آپ کا فرمان ہے ”جو کوئی نام نمود کے لئے کوئی لباس پہنے اللہ تعالیٰ اسے خواری کا لباس پہنائیں گے“۔ (صحاح ستہ‘ کتاب اللباس)
اللہ کے رسول نے فرمایا ”جب امانت ضائع ہونے لگے تو اس وقت قیامت کے منتظر رہو“
پوچھا گیا ”یا رسول اللہ امانت کا ضائع ہونا کیونکر ہو گا؟“
آپ نے فرمایا ”جب کسی نالائق اور نااہل کو حکومت کا کام ملے“ (صحاح ستہ/ کتاب الامانہ)
تقویٰ کا مطلب ہے ہر وقت دل میں اللہ کے خوف کا زندہ رہنا یعنی ہر بات اور عمل سے پہلے یہ سوچنا کہ روز حساب اس کی وجہ سے اللہ کے دربار میں پکڑ تو نہیں ہو جائے گی۔ ہر لفظ لکھنے سے پہلے بھی۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں کہ ”ہم نیتوں کو بھی جانتے ہیں اور دلوں کے بھید بھی“۔ ”اور بلاشبہ تمہارے اوپر نگران مقرر ہیں گرامی قدر لکھنے والے جانتے ہیں وہ جو کچھ بھی تم کرتے ہو“۔ (82:12,11,10)
ہے کوئی اور فلاح کی راہ انسانیت کیلئے اور اہل اسلام کے لئے؟ سوچیں تو!