عید میلادالنبی اور شاعر رسول کے آنسو

27 فروری 2010
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
انور مقصود نے پی ٹی وی لاہور کے پروگرام ”خراجِ تحسین“ میں مجدد نعت اور عاشق رسول حضرت حفیظ تائبؒ کے لئے آغاز میں بڑے راز کی بات کی کہ ربیع الاول کے مہینے میں صرف رحمت عالم محسن انسانیت رسول کریم حضرت محمدﷺ کی باتیں کی جاتی ہیں۔ صرف آپ کا ذکر ہوتا ہے ، اس ذکر کو اللہ نے بلند کر دیا ہے مگر آج ہم حفیظ تائب کی باتیں بھی کر رہے ہیں اور اور یہ باتیں ان کی باتوں کے ساتھ رلا ملا کے کر رہے ہیں، یہ ذکرِ خیر اور خراجِ تحسین بھی ان کے حوالے سے ہو رہا ہے۔ یہ بھی اچھی بات ہے کہ اس مہینے میں خراجِ تحسین کے لئے حفیظ تائب کو منتخب کیا گیا ہے، اس کے لئے ہم فرخ بشیر کے ممنون ہیں ۔ ”خراج تحسین“ کے لئے بڑی بڑی شخصیات کے بارے میں پروگرام ہوتے ہیں۔ یہ ایک خوبصورت پروگرام ہے اپنے زمانے کے مرحوم اور زندہ لوگوں کو یاد کرنے اور یاد رکھنے کی یہ کوشش بہت اچھی ہے، یہ کوشش بھی خراج تحسین کی مستحق ہے، مجھے خراج تحسین کے کئی پروگراموں میں شریک ہونے کا موقع ملا ہے یہاں میں بے قرار اور سرشار ہونے آتا ہوں۔ ”خراج تحسین“ کے سب پروگرام اچھے تھے مگر میرے قبیلے کے سردار شاعری کے خان اعظم منیر نیازی اور اپنے زمانے کے سب سے بڑے نعت گو شاعر حفیظ تائب کا پروگرام بہت اچھا لگا۔ یہ کریڈٹ بھی پی ٹی وی کو جاتا ہے کہ جشن عید میلادالنبی کے حوالے سے ربیع الاول کے مہینے میں مسلسل پروگرام پیش کرتا ہے اس مہینے میں حفیظ تائب کے لئے پروگرام بذات خود خراج تحسین کے قابل ہے۔
پاکستان میں نعت رسول اور عشق رسول کے فروغ میں جو کچھ حفیظ تائب نے کیا وہ ایک تحریک سے کم نہیں، اب یہ تحریک ایک جاری و ساری تجربے کی طرح ہے۔ حفیظ تائب نے غزل بھی لکھی مگر نعت کی طرف آنے کے بعد غزل نہیں لکھی حالانکہ وہ غزل کے بھی اچھے شاعر ہیں۔ مسلمان شاعروں نے غزل اور نعت کی سرحدیں رلا ملا دی ہیں غزل محبوب کا تذکرہ ہے اور رحمت عالم رسول کریم سے بڑا محبوب کون ہے، وہ محبوب خدا ہیں اور محبوب خلائق ہیں۔ اتنی محبت دنیا میں کسی سے نہیں کی گئی جو آپ کے ساتھ کی گئی ہے اور کی جا رہی ہے۔ پوری دنیا میں اور پورے پاکستان میں جشن عید میلادالنبی کے لئے سرگرمیاں عروج پر ہوتی ہیں۔ کرسمس بھی ایک بڑا واقعہ ہے اور اب عید میلادالنبی اس سے کہیں آگے کی چیز ہے۔ روحانی وابستگی کو ایک وارفتگی بنانے والے عشق و مستی سے لبریز محفلیں سجاتے ہیں۔ حفیظ تائب کے بھائی مجید منہاس اس حوالے سے بہت جذبے میں ہوتے ہیں۔ سیرت پاک سے آگہی کے لئے نعت رسول بہت بڑا وسیلہ ہے، میں تو کہا کرتا ہوں کہ اسلامیات پڑھائی جائے مگر بچوں کی تربیت اور شخصیت کے استحکام کے لئے سیرت النبی کو نصاب تعلیم کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔ تعلیم پانے کے بعد انہیں پتہ چلے کہ زندگی کو ایک خوبصورت زندگی کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ حضور اگلے جہاں میں جنت کے وعدے کے ساتھ اس دنیا کو بھی جنت بنانے آئے تھے، اس دنیا کو لوگوں نے دوزخ بنا دیا ہے۔ سب آگ اور خون کے کھیل کے میدان میں ہیں، ذلت اور اذیت انسانوں کا مقدر ہے۔ افغانستان، پاکستان، عراق اور عالم اسلام میں انسانیت سوز کارروائیاں کر کے انتہا پسندی کی انتہا کر دی گئی ہے، وہ لوگ صرف فتح مکہ کے واقعے پر غور کریں۔ مکہ شہر سے آپ کو تکلیفیں دے کر نکال دیا گیا تھا، مدینے میں بھی آرام سے نہ رہنے دیا گیا شاندار جدوجہد کے بعد آپ ایک فاتح کے طور پر اپنے شہر میں داخل ہو رہے تھے۔ وہ ایک اونٹنی پر سوار تھے ان کا سر جھکا ہوا تھا اور ان کی گود میں غلام ابن غلام اسامہؓ بن زیدؓ بیٹھا ہوا تھا۔ اسامہؓ کے نام پرغور کریں موروثی سیاست والے بھی سوچیں ڈرے ہوئے اہل قریش سے آپ نے فرمایا کہ جو آدمی خانہ کعبہ میں چلا جائے اور جو میرے دشمن ابوسفیان کے پاس چلا جائے اور جو اپنے گھر میں بیٹھ رہے اس کے لئے پناہ ہے۔ گوانتاناموبے جیل کے مالک امریکی سیرت رسول کا مطالعہ کریں۔ اسلام کے خلاف دہشت گردی کا پروپیگنڈا کرنے والے رحمت اللعالمین جیسی کسی ہستی کی ایک ہی مثال تاریخ انسانی میں سے لا کے دکھا دیں۔یہ باتیں میں نے پی ٹی وی کے ایک پروگرام عائشہ ثنا کے شاندار اور منفرد سوالوں کے جواب میں کہیں۔ عائشہ نے بہت اچھے انداز میں سیرت کے اس پروگرام کو آگے بڑھایا ہے اُسے نوجوان دانشور برادرم حامد ولید کا مکمل تعاون حاصل ہے اس کا ایک اچھا کالم نوائے وقت میں شائع ہوا ہے۔ صبح کے اس دلچسپ اور مقبول پروگرام کے پروڈیوسر شاعر آغا ذوالفقار ہیں۔
حفیظ تائب کے لئے ان کی صاحبزادیوں ضوفشاں خالد اور فوزیہ حفیظ نے گھر کی باتیں بتا کے محفل کو سوگوار کر دیا مگر ان کے خوشگوار انداز نے ایک آسودگی پیدا کی۔ ان کے بھائی مجید منہاس کی آنکھیں اپنے بھائی کی محبت میں بھری رہتی ہیں ان کے خالد صاحب بھی اشکباریوں کے موسم میں رہتے ہیں۔ حفیظ تائب کی نواسی زینب بیٹی نے صوفیہ بیدار کی باتوں کو بہت پسند کیا اس کے ساتھ حفیظ تائب بہت محبت کرتے تھے وہ ہر ایک سے محبت کرتے تھے۔ ہر آدمی دل میں خیال کرتا تھا کہ وہ مجھ سے ہی سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں انہوں نے ہمیشہ اپنی زندگی کو ان کی زندگی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔ وہ کبھی کھلکھلا کر نہ ہنسے مگر ایک دائمی مسکراہٹ ان کے چہرے پر سجی رہتی تھی۔ یہ اسوہ رسول کی ایک ادا ہے۔ اس موقع پر میں اپنے دو شعر ” حفیظ تائب کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ وہ بارگاہ رسول میں ہیں ان کے قدموں میں یہ فریاد رکھ دیں
دل دے سُنجے گھروچ تیرے غم دا دیوا بلدا اے
تیریاں گلاں کر کے روندے میرے شہر دے سارے لوک
کہیڑے پاسے اڈ گئے اجمل بدل ساویاں آساں دے
اکھیاں جھولی پاکے تکدے بے پیرے بے یارے لوک