سیاستدانوں و بیورو کریٹس کی بیرون ملک رقوم‘ وفاق سے دوبارہ جواب طلب

27 فروری 2010
لاہور (وقائع نگار خصوصی) ہائیکورٹ کے جسٹس اعجازاحمد چوہدری نے پرویزمشرف، شوکت عزیز ¾ نوازشریف، پرویز الٰہی، مونس الٰہی، فاروق لغاری سمیت سیاستدانوں ،بیوروکریٹس اوربااثرپاکستانےوں کے بےرون ملک بنک اکاونٹس کومنجمد کر کے ان کی رقوم واپس لانے کے لئے دائردرخواست پر وفاقی حکومت سے دوبارہ جواب طلب کرتے ہوئے مزید سماعت یکم اپریل تک ملتوی کر دی۔گزشتہ روز فاضل جج نے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ وہ وفاقی اور صوبائی حکومت سے ہدایات لیکر عدالت میں پیش ہوں۔ درخواست گزار بےرسٹرجاوید اقبال جعفری نے درخواست میں موقف اختےارکےاہے کہ سرکردہ سےاستدانوں سمےت پاکستان کی اہم شخصیات اور بیوروکریٹس نے ناجائز طرےقے سے کمائی ہوئی دولت غےر ملکی بےنکوں مےں رکھی ہوئی ہے جس کامالی مشکلات مےں گھرے ہوئے پاکستان کوکوئی فائدہ نہےں ہے۔ درخواست میں پرویز مشرف، نوازشریف،پرویز الٰہی ،مونس الٰہی،فاروق لغاری، احسن اقبال،بابر اعوان، لطیف کھوسہ،شریف الدین پیرزادہ، ملک قیوم،وسیم سجاد اور عبدالحمید ڈوگر سمیت دیگر سیاستدانوں اور وکلاءکو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ان سیاستدانوں کے بیرون ملک اثاثوں کو واپس لایا جائے جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور انٹی کرپشن حکام کو ہدایات کی جائیں کہ وہ جھوٹ اور سچ پکڑنے والی مشینیں لگائیں جبکہ عدالت میں بھی اسکا انتظام کیا جائے تاکہ جن وکلاءنے ججوں پر اثرانداز ہونے کے نام پر فیسیں وصول کی تھیں انکے بارے میں معلوم ہوسکے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ پولیس کو ہدایت کی جائے کہ ملکی دولت کو لوٹ کر فرار ہونے والے پرویز مشرف اور شوکت عزیزکے خلاف مقدمہ درج کیا جائے‘ گورنر ہاﺅس لاہور کو غیرمنافع بخش یونیورسٹی بنادیاجائے۔ جی این آئی کے مطابق ہائی کورٹ نے صدر زرداری‘ نواز شریف‘ عمران سمیت 17 سیاستدانوں کے بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
سیاستدان اثاثے