لطیف کھوسہ کرپشن کیس ....پاکستان بار کونسل بھجوا دیا گیا ایک ماہ میں فیصلہ کرنیکا حکم

27 فروری 2010
اسلام آباد/ لاہور (جی این آئی+ بی بی سی+ وقائع نگار خصوصی) سپریم کورٹ نے سابق اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ کے خلاف کرپشن کیس پاکستان بار کونسل کو بھجواتے ہوئے 30روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس شاکر اللہ جان کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ جسے جمعہ کے روز سنا دیا گیا۔ گذشتہ روز سابق اٹارنی جنرل کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ کسی بھی وکیل کے خلاف مس کنڈکٹ کے حوالے سے کارروائی کا اختیار صرف پاکستان بار کونسل کے پاس ہے اور سپریم کورٹ ایسی درخواستوں کی سماعت کرنے کی مجاز نہیں۔ علی ظفر کا کہنا تھا کہ بھاری رقوم وصول کرنے کی شکایات دیگر سینئر وکلا کے خلاف بھی ہیں اس لئے ان کے موکل کے خلاف کارروائی امتیازی ہو گی۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ایک سابق اہلکار حامد غفور اور ان کی اہلیہ نے ایک درخواست میں الزام عائد کیا تھا کہ لطیف کھوسہ نے بطور اٹارنی جنرل ان کے خلاف نیب کا مقدمہ ختم کروانے کے لئے ججوں کے نام پر 30لاکھ روپے لئے تھے‘ ان الزامات کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔جی این آئی کے مطابق لطیف کھوسہ کے وکیل علی ظفر اور اٹارنی جنرل انور منصور نے مﺅقف اختیار کیا تھا کہ وکلا کے خلاف ضابطے کی خلاف ورزی کی شکایات کا اختیار پاکستان بار کونسل کو ہے اور اس کے خلاف فیصلے کی اپیل کی سماعت سپریم کورٹ کرتی ہے اگر سپریم کورٹ نے اس کیس کی براہ راست سماعت کی تو لطیف کھوسہ اپیل کے حق سے محروم ہو جائیں گے۔ واضح رہے کہ لطیف کھوسہ نے الزام عائد کیا تھا کہ ’چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے انہیں عہدے سے ہٹانے میں کردار ادا کیا ہے‘ جس پر چیف جسٹس نے سردار لطیف کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کھوسہ صاحب کی جماعت ملک میں برسراقتدار ہے اور وہ (چیف جسٹس) لطیف کھوسہ کو عہدے سے ہٹانے میں کیسے اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ دریں اثناء صحافیوں سے گفتگو میں لطیف کھوسہ نے کہاکہ سپریم کورٹ کی طرف سے معاملہ پاکستان بار کونسل کو بھجوانے کے عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں اب بھی جو فیصلہ آیا اسے تسلیم کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ پہلے کی طرح یہ فیصلہ بھی آئین و قانون کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح جج صاحبان کے خلاف معاملات کو سپریم جوڈیشل کونسل بھجوایا جاتا ہے اسی طرح وکلا کے معاملات کو نمٹانے کیلئے پاکستان بار کونسل بھجوائے جاتے ہیں۔ ان کے وکیل علی ظفر نے کہاکہ اس فیصلے سے بار اور بنچ کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے جبکہ اس سے آزاد عدلیہ کے ساتھ ساتھ بار بھی مضبوط ہو گی۔
کھوسہ کرپشن کیس