دنیا کے چوتھے بڑے فوجی اخراجات....بھارت نے دفاع کیلئے 14 کھرب 70 ارب روپے سے زائد مختص کر دیئے

27 فروری 2010
نئی دہلی (اے ایف پی + نیٹ نیوز + بی بی سی ڈاٹ کام + ایجنسیاں) پاکستان کی جانب سے بھارت کے دفاعی اخراجات پر اظہار تشویش کے دوسرے ہی روز بھارت نے 2010-11ءکے لئے اپنے دفاعی بجٹ کے لئے 32 بلین ڈالر مختص کر دئیے ہیں۔ اس لحاظ سے دنیا کے چوتھے بڑے دفاعی اخراجات کرنے و الے بھارت نے 2010-11ءکے لئے دفاع کے لئے 1,47,344 کروڑ روپے مختص کئے ہیں جبکہ گشتہ سال دفاع کے لئے 1,41,703 کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے۔ اس طرح گذشتہ سال کی نسبت 5641 کروڑ روپے اضافہ کیا گیا ہے۔ بھارتی وزیر خزانہ مکھرجی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ بجٹ میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 4 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ 13 بلین ڈالر جدید ترین منصوبوں‘ 12.4 ملین ڈالر فوجی اخراجات‘ 3.3 بلین ڈالر برائے ایئرفورس اور 2 بلین ڈالر بحریہ کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں ایک روپیہ اضافے پر بجٹ اجلاس میں اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور اجلاس سے واک آﺅٹ کیا۔ گذشتہ روز بھارتی وزیر خزانہ پرناب مکھر جی نے لوک سبھا میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا۔ نئے بجٹ میں بھارت کے جنگی اخراجات 14 کھرب 70 ارب روپے سے زائد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ بجٹ تقریر میں پرناب مکھر جی نے کہا کہ نئے مالی سال میں پیداواری شرح نمو 9 فیصد تک لائی جائے گی‘ اسے جلد ہی دو عددی سطح تک پہنچایا جائے گا۔ دیہی ترقی کیلئے بجٹ میں 6 کھرب 61 ارب روپے مختص کئے گئے۔ کچی بستیوں کی ترقی کیلئے فنڈز میں 700 فیصد اضافہ کرکے ایک کھرب 70 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ تعلیم کیلئے مختص فنڈز 2 کھرب 68 ارب سے بڑھا کر 3 کھرب 10 ارب 50 کروڑ روپے کر دئیے گئے ہیں۔ زراعت کے شعبے میں مختلف مدوں میں دی گئی۔ سبسڈیز میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ مکھرجی نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے دوران انفراسٹرکچر کی بہتری پر 1700 ارب روپے خرچ کریں گے‘ نئے بینکوں کے آغاز کیلئے لائسنس دئیے جائیں گے۔ 51 ارب روپے توانائی کے شعبے کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ بھارت میں اپریل 2009ءسے دسمبر 2009ءتک 21 ارب ڈالر مالیت کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی گئی۔ دریں اثناءپاکستان نے بھارتی دفاعی بجٹ میں اضافے کے معاملہ پر عالمی برادری سے رابطے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق پاکستان خطے میں اسلحہ کی دوڑ کا مخالف ہے اور ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پر امن بقائے باہمی پر یقین رکھتے ہیں تاہم اس بھارتی اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان اسلحے کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان نے 2008-09ءمیں 295 ارب روپے کے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں افراط زر کے حساب سے مالی سال 2009-10ءکے دفاعی بجٹ میں صرف 49 ارب روپے کا اضافہ کرتے ہوئے 343 ارب روپے کا بجٹ منظور کیا تھا تاہم بھارت نے آئندہ مالی سال کیلئے دفاعی بجٹ میں 358 ارب روپے کا اضافہ تجویز کیا ہے جو انتہائی غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے‘ اس اقدام سے بھارت کے جارحانہ عزائم کا ثبوت ملتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اس معاملہ پر خاموش نہیں بیٹھے گا اور اس حوالے سے عالمی برادری کے ساتھ روابط کئے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ موجودہ حالات میں خطے کے ممالک ایک دوسرے کے ساتھ اسلحہ کی دوڑ میں شامل ہوں۔ واضح رہے گذشتہ روز بھارت نے جنگی جنون برقرار رکھتے ہوئے دفاعی بجٹ میں 24 فیصد اضافہ کر دیا‘ آئندہ مالی سال کے لئے 1470 ارب روپے کا دفاعی بجٹ مختص کر دیا گیا ہے۔
بھارت / بحث