قومی اسمبلی ....وزراءکی عدم موجودگی پر حکومت کو سُبکی ....جوابات نہ ملنے پر ارکان کا احتجاج

27 فروری 2010
اسلام آباد (وقائع نگار + اے این این + جی این آئی) قومی اسمبلی میں حکومت کو سُبکی کا سامنا کرنا پڑا‘ وزرا کی عدم موجودگی پر توجہ دلا¶ نوٹسز کے جواب نہ مل سکے‘ جس پر ارکان نے احتجاج کیا‘ حکومت کے چیف وہپ کو معذرت کرنا پڑی‘ خورشید شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ سرکاری اراضی پر قبضے کرنے والوں کے خلاف ازخود نوٹس لے کر کارروائی کرے۔ حکومت عدالتی فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کرائے گی۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز اجلاس میں حکومتی و اپوزیشن ارکان کی حاضری انتہائی کم رہی۔ چیئرمین عبدالرشید گوڈیل کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا تو 342 کے ایوان میں صرف 36 ارکان موجود تھے۔ وقفہ سوالات کے دوران وزیر صنعت ہزار خان بجارانی نے کہا کہ ملک میں ہر یونین کونسل میں دو یوٹیلٹی سٹور قائم کئے جائیں گے‘ ملک میں بیمار صنعتوں کی بحالی کے لئے پالیسی تشکیل دی گئی ہے‘ سرحد میں 10سے زائد بیمار صنعتیں دوبارہ فعال ہو چکی ہیں‘ دیگر صوبوں میں بھی اس پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی پیداوار میں گیارہ لاکھ ٹن کمی متوقع ہے جسے پورا کرنے کے لئے حکومت چینی درآمد کرے گی‘ ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی قیمتیں کم کرانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی تاہم حکومت سرمایہ کاری میں اضافے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ 2008ءاور 2009ءکے دوران سوتی کپڑے کی برآمد میں چار اور بیڈ ویئر کی برآمدات میں دس فیصد کمی ہوئی۔ دھاگے کے بحران سے 50 ہزار برقی کھڈیاں بند ہو گئی ہیں۔ تاہم اعتراف کیا کہ ملکی منڈی میں سوتی دھاگے کی کمی کی وجہ سے برقی کھڈیوں کی صنعت مسائل سے دوچار ہے۔ وزیر ماحولیات حمید اللہ جان آفریدی کی غیر حاضری کی وجہ سے ایک توجہ دلا¶ نوٹس م¶خر کر دیا گیا جو درختوں کی کٹائی سے متعلق تھا۔ حکومت کو اس وقت سُبکی کا سامنا کرنا پڑا جب وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف یا پارلیمانی سیکرٹری برائے پانی و بجلی میں سے کوئی بھی اپنی وزارت سے متعلق ایک توجہ دلا¶ نوٹس کا جواب دینے کے لئے ایوان میں موجود نہیں تھا۔ اس پر وزیر محنت و حکومتی چیف وہپ سید خورشید شاہ نے چیئرپرسن سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ آپ نکتہ اعتراض لیں ہم انہیں بلاتے ہیں۔ شمشاد ستار بچانی نے وفاقی وزیر کی عدم موجودگی پر اعتراض کیا اور کہا کہ ہم اتنی محنت سے توجہ دلاﺅ نوٹس اسمبلی سے سیکرٹریٹ میں داخل کراتے ہیں لیکن حکومت ان کا جواب دینے کےلئے سنجیدہ نہیں ہے۔ عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ صدر آصف زرداری کوئٹہ میں مشکل سے چار گھنٹے گزار سکے جو بلوچستان کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے انہیں کم ازکم کوئٹہ میں ایک رات تو گزارنی چاہیے تھے لگتا ہے انہیں خطرہ تھا اس لئے انہوں نے قیام کا رسک نہیں لیا یہ صورت حال اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے بلوچستان کے معاملے پر سنجیدگی کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے ایوان میں بحث بھی کرائی جائے۔ ظفر علی شاہ نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں کام نہیں ہورہا حکومتی رٹ کمزور ہے۔ حکومتی رکن پلوشہ خان نے کہاکہ اسلام آباد میں 7,8 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اگر وفاقی دارالحکومت کا یہ حال ہے تو باقی ملک کا کیا حال ہو گا وزارت پانی و بجلی کو پانچ سال کےلئے معطل کر کے کسی عالمی ادارے یا کمپنی کو کنٹریکٹ دیا جائے تاکہ عوام کو لوڈشیڈنگ سے نجات مل سکے۔ رضا حیات ہراج نے پنجاب میں مالی بحران کی تحریک التوا قبول نہ کرنے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ دو اجلاسوں میں چیخ رہا ہوں مگر شنوائی نہیں ہو رہی۔ دریں اثناءوزرا کی عدم موجودگی کے باعث ایوان کو نکتہ اعتراضات پر چلایا گیا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ پورے ملک میں 4 لاکھ گھروں کی کمی ہے‘ انہوں نے اعتراف کیا کہ ملازمین نے سرکاری گھر کرائے پر دے رکھے ہیں‘ ایسی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔ سرکاری ملازمین ہمیشہ کے لئے سرکاری گھروں پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ ریاض پیرزادہ نے وقفہ سوالات کے دوران مختلف وزارتوں کے جوابات خورشید شاہ کی طرف سے دینے پر ”آل ان ون“ قرار دیا۔
قومی اسمبلی