پی سی بی نے میچ فکسنگ میں ملوث دو کھلاڑیوں کی تصدیق کر دی‘ نام بتانے سے گریزاں

27 فروری 2010
لاہور (سپورٹس رپورٹر/ایجنسیاں) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے قومی ٹیم کے دو کھلاڑیوں کے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کی تصدیق کر دی تاہم وہ کھلاڑیوں کے نام بتانے سے گریزاں رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ثبوت انہیں آئی سی سی نے فراہم کئے ہیں جبکہ آئی سی سی کے ترجمان نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بارے کوئی علم نہیں۔ قذافی سٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ نے کہا کہ دورہ آسٹریلیا میں شکست کے حوالے سے تحقیقاتی کمیٹی اپنی رپورٹ تیار کر رہی ہے۔ جس کے پورا ہونے کے بعد شکست اور دیگر سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف ایکشن لیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا غیر ملکی کوچ گریک چیپل سے بات چیت جاری تھی لیکن ہماری آفر سے پہلے وہ آسٹریلیا کے ساتھ معاہدہ کر چکے تھے۔ اعجاز بٹ نے کہا پاکستان ٹیم کا کوچ مقامی ہوگا اس سلسلہ میں وقار یونس سے بات جاری ہے۔ ان کے ساتھ اعجاز احمد کو فیلڈنگ کوچ کی ذمہ داریاں سونپی جا سکتی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا غیر ملکی کوچ نہیں کنسلٹنٹ رکھا جائیگا۔ دنیا کی زیادہ تر ٹیموں کے ساتھ کنسلٹنٹ مقرر ہیں۔ اعجاز بٹ نے کہا ورلڈ کپ سکواڈ میں سہیل تنویر کو ایڑی کی تکلیف کے باعث ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا ان کا آسٹریلیا میں علاج کرایا جائیگا۔ چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ نے کہا چیف سلیکٹر کےلئے ایک سابق کھلاڑی سے بات ہوئی تھی لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا خواہشوں پر کوچ اور کپتان مقرر نہیں کیے جا سکتے۔ شعیب اختر کی کوئی کارکردگی نہیں رہی جس کی بنا پر انہیں ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا پی سی بی صرف ایسے کھلاڑیوں کے ناموں پر غور کریگا جن کا کارکردگی اچھی ہوگی۔