فلم اکیڈمی کا قیام خواب تھا جو پورا ہو گیا : سیدنور

27 فروری 2010
لاہور (کلچرل رپورٹر) معروف فلم ڈائریکٹر سیدنور نے کہا ہے کہ آج کل اخبارات میں فلم انڈسٹری کے بحران کے حوالے سے بہت بیانات چھپ رہے ہیں لیکن میں ایک طرف ہو کر کام کر رہا ہوں۔ اس وقت میری چار فلمیں تقریباً مکمل ہیں جن میں فلم ”ووہٹی لے کے جانی اے، ایک اور غازی، عزت کی قیمت“ اور ”جگنی“ ہیں۔ ان چار فلموں کے علاوہ دو نئی فلمیں شروع کر رہا ہوں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ فلم انڈسٹری مر گئی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ فلم انڈسٹری زندہ ہے اور کام کرکے اسے زندہ رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز شباب سٹوڈیو میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پاکستان فلم انڈسٹری نے بہت کچھ دیا ہے اب میں اسے لوٹانا چاہتا ہوں۔ فلم اکیڈمی کا قیام میرا ایک خواب تھا جو اب پورا ہو گیا۔ جدید سہولتوں سے آراستہ فلم اکیڈمی میں مئی سے کلاسیں شروع ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا 62 سالوں میں کسی حکومت نے فلم انڈسٹری کیلئے کچھ نہیں کیا اب بھی نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمی میں 6 ماہ کا ڈپلومہ ہو گا۔ ہم ٹریننگ آن دی سیٹ دیں گے کیونکہ ایک ادارے میں چار سال تک طالب علم پڑھتے ہیں مگر انہیں کسی بات کا علم نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمی کے قیام پر مجھے 6 سال لگے ہیں۔ اپنی نئی فلم ”عزت کی قیمت“ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس فلم کا سبجیکٹ بہت اچھا ہے اس میں تمام نئی کاسٹ ہے۔ اس فلم سے انڈسٹری کو نئے چہرے بھی ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح میں کام کر رہا ہوں اسی طرح سب لوگ کام کریں تو انڈسٹری کا بحران دور ہو سکتا ہے۔