دہلی یاترا- پوری قوم سے ایک مذاق

27 فروری 2010
گزشتہ دو ہفتوں سے بھارت کے ساتھ جن جامع مذاکرات کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا تھا ان کا پاکستان کے سیکرٹری خارجہ جناب سلمان بشیر کے نئی دہلی پہنچے کے چوبیس گھنٹے کے اندر بھارتی وزیر خارجہ شری متی نروپما راﺅ نے حیدر آباد ہاﺅس نئی دہلی میں دونوں وزراءخارجہ کی ابتدائی ملاقات کے بعد یہ کہہ کر بھانڈا پھوڑ دیا ہے کہ ©\\\"جامع مذاکرات کا ابھی وقت نہیں آیا\\\" اور اس طرح جن مذاکرات کے بارے میںپاکستان کے منجھے ہوئے سفارتکار جناب سلمان بشیر نے نئی دہلی کے اندراگاندھی ائیر پورٹ پر قدم رکھتے ہی اپنی ہم منصب شری متی نروپما راﺅ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی کامیاب گفت و شنید کی جس نوید کا اظہار کیا تھا وہ شری متی جی نے دو گھنٹوں کے اندر ہی چکنا چور کر دیا اور جناب سلمان بشیر منہ دیکھتے رہ گئے ۔ حیدر آباد ہاﺅس کی دیواروں پر آویزاں بڑے بڑے شیشوں میں انہوں نے اپنا مصنوعی مسکراہٹ کا عکس دیکھایا اپنی ہم منصب کا فاتح چہرہ !جو ان سے الوداعی ہاتھ ملاتے ہوئے کہہ رہی تھی \\\" آج کے لئے آپ کے ساتھ ایک گھنٹہ کی ون ٹو ون ملاقات کافی کامیاب رہی ہے کہ ہم نے پھر دوبارہ ملنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ آپ اتفاق کریں گے کہ گرم گرم کافی پینے سے کافی حد تک برف بھی پگھلی ہے ۔ آپ اتفاق کریں گے کہ آ پ کے وفد کے ساتھ مزید ایک گھنٹہ ملاقات کے دوران ہم نے واضح کر دیاہے کہ وزیراعظم من موہن سنگھ کی پاکستان کے وزیراعظم سے فی الحال ملاقات قبل از وقت ہے، آج کی ملاقات میں اتنا ہی کافی ہے کہ دونوں ممالک نے اعتماد کی بحالی کے لئے رابطے بحال رکھنے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔ میں امید کرتی ہوں کہ آپ نئی دہلی میں اپنا قیام پوری طرح انجوائے کریں گے ، اور ہاں میں اگلی ملاقات کے لئے انتظارکروں گی، اگر آپ بلائیں گے تو اسلام آباد بھی آنے پر مجھے خوشی ہو گی،لیکن پاکستان میں سکیورٹی پرابلم کے باعث اگر اگلی ملاقات بھی بھارت میں ہی ہو جائے تو کیا بہتر نہ ہوگا، شملہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ وہاں کی آب و ہوا ہمارے اور آپ کے لیڈران کو بہت بھاتی ہے اور میں آپ کواپنی حکومت کی طرف سے یقین دلاتی ہوں کہ بھارت کے دروازے پاکستان کے ساتھ ہر معاملے پر مذاکرات کے لئے ہمیشہ کھلے ہیں ، امید ہے آپ کا اسلام آباد واپسی کا سفر خوش گوار اور خیر سے گزرے گا۔©\\\"
اب کون کافر پاک بھارت جامع مذاکرات کے اس تازہ ترین دور کو کامیاب کہنے میں ذرا بھی تامل کرے گا ، چنانچہ ہمارے محترم وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اس خیال سے کہ اتنی بڑی سفارتی کامیابی کا سہرا کوئی اور بشمول امریکہ یا برطانیہ claimنہ کر لے یہ بیان دینے میں سیکرٹری خارجہ کی واپسی کا بھی انتظارنہیں کیااور کراچی میں پی پی پی کے کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ \\\"ممبئی حملوں کے بعد بھارت سے پاکستان کے مذاکرات کا دوبارہ آغاز موجودہ حکومت کی کامیابی ہے ۔\\\"اگر وہ سچ مچ اس آغاز کو واقع ہی پاکستان کی کامیابی سمجھتے ہیں تو اللہ ہی جانے ایسے بے ڈھنگے اور بغیر سوچے سمجھے بے معنی مذاکرات کا انجام کیا ہو گا۔
مسلمان جس سوراخ میں انگلی ڈالنے سے ایک بار ڈسا جائے اس میں دوبارہ انگلی نہیں ڈالتااور نہ جانے یہ کس کا دباﺅ اور کس کا پریشر تھاکہ اسلام آبادکو یہ کڑوی گولی نگلنی پڑی ۔ انصاف اور قومی غیرت کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس ناکام اور ذلت آمیز بھارت یاترا پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وقار کو داﺅ پر لگانے کے لئے سیکرٹری خارجہ اور دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر اگر خود استعفیٰ نہیں دیتے تو وزیراعظم ان دونوں کواپنے عہدوں سے برطرف کردیں۔