طلوع آفتاب ہدایت

27 فروری 2010
زباں پہ بار الٰہا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے میری زباں کے لئے
12 ربیع الاول کو مکہ مکرمہ سے ایک ایسا آفتاب ہدایت طلوع ہوا جس نے آدمیت کو انسانیت سے روشناس کرا دیا جہالت کی تاریکیوں کو علم کی روشنی سے منور کیا۔ آپ کی ولادت باسعادت سے پہلے یہ دنیا جہالت اور بربریت کی تاریک رات میں ڈوبی ہوئی تھی حقوق و فرائض کا کسی کو علم نہ تھا۔ آپ نے تاریکیوں کے اس ہجوم میں روشنیوں کی ایسی چکا چوند پیدا کر دی کہ انسانی دنیا کی سوچ بھی بدل گئی اور نقشہ بھی بدل گیا۔ انہوں نے دنیا میں ایک ایسا انقلاب برپا کر دیا جس کی آمد پر ایک چھوٹی سی غلام بچی نے اپنے والدین سے کہا کہ اب تو کبھی قبیلے کا سردار ہماری ماں کو گھسیٹ کر نہیں لے جائے گا انقلاب اسی کو کہتے ہیں کہ جس کی ٹھنڈک محروموں کے کانوں کی لو کو چھو لے۔ ان کی ذات اقدس میں پروردگار عالم کی دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ جب شیخ سعدیؒ نے آپ کی ثناءمیں لکھا۔
بلغ العلیٰ بکمالہ
کشف الدجیٰ بجمالہ حسنت جمیع خصالہ
تو چوتھا مصرع جو سعدی کو نہیں سوجھ رہا تھا غیب سے القاءہوا کہ
صلو علیہ وآلہ
آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس دنیا کو اس آشتی اور حق پرستی کا گہوارہ بنا دینا چاہئے اور یہ کام آج کی انسانیت کو خود ہی کرنا ہو گا کیونکہ ختم نبوت کا مطلب ہی یہی ہے کہ انسانیت بیدار ہو چکی ہے۔ اب کسی نبی کی ضرورت نہیں انسان جو بھی کرتے ہیں سوچ سمجھ کر کرتے ہیں چاہے وہ برائی ہو چاہے وہ اچھائی ہو البتہ ہمارے لئے رسول اللہﷺ کا اسوہ حسنہ ایک ایسی شمع فروزاں ہے کہ جس سے 57 اسلامی ممالک ناصرف خود روشن ہو سکتے ہیں بلکہ پوری دنیا کو نور ہدایت سے منور کر سکتے ہیں۔ یہ دنیا جسے آج کی نام نہاد مہذب قوتوں نے جنگ و جدل اور تباہی کے جنگل میں دھکیل رکھا ہے اسے صلح حدیبیہ کی روشنی میں امن اور خوشحالی کی پناہ گاہ بنایا جا سکتا ہے رسول اللہﷺ کی ذات اقدس نے پہلی بار وہ انقلاب برپا کیا جس کے بعد دنیا میں علم عام ہوا اور انسانی زندگی نے ایک نئی کروٹ لی آج ان کی ذات پاک پر بہترین درود یہ ہے کہ ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلا جائے آج ایک بار پھر دنیا جان بوجھ کر ظلم اور پڑھی لکھی جہالت کے اندھیروں میں ڈوب رہی ہے جس کا زور چلتا ہے وہ کمزوروں کو پامال کر رہا ہے اس لئے ضرورت ہے کہ سید المرسلین کے نور ہدایت سے رہنمائی حاصل کی جائے اور یہ کام ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا ہے جو آج تعداد میں تو بہت زیادہ ہیں مگر بقول سید الانبیا جھاگ کی طرح ہیں اسی لئے باطل کی چیرہ دستیوں کو دیکھتے ہوئے جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہے وہ پہلے مبارک انسان تھے جنہوں نے دین اور دنیا کی تمیز ختم کر دی اور دنیا ہی کو سراپا دین بنا دیا یہی وجہ ہے اقبالؒ کو کہنا پڑا کہ
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی