میلاد مصطفیﷺ

27 فروری 2010
محمد ضیاءالحق نقشبندی
سرور کائنات ﷺ کی ولادت باسعادت بزم عالم کا ایک عظیم ترین واقعہ ہے آپ کا ظہور انسانیت کے لئے خوشی کا فقیدالمثال مژدہ ہے آپ کی آمد سے دنیا کی اخلاقی اور روحانی حالت بدل گئی کائنات کا گوشہ گوشہ جگمگا اٹھا۔صحرا میں بہارمسکرانے لگی۔جہالت ظلم وبریرےت کی چادر چاک ہوگئی گلزار خلائق کا سب سے نفیس پھول ،آسمان وجود کا درخشاں ستارا عالم افروز ہے جس کے ظہور نے اپنے جمال کے فیضان سے کائنات کو مالامال کردیا ۔چمنستان دہر کی ساری بہار اسی گل قدس کی رعنائیوں کا فیض ہے اسی بادصبا کے جھونکے نے کل عالم میں ساری مہک انڈیل دی فضائے ہستی میں جو رونق اورشادابی ہے وہ اسی محبوب اقدس ﷺ کے چہرہ دنیا کی تبسم ریزی ہے آج کی صبح وہ صبح جاں نواز ہے کہ توحید کا نعرہ بلند ہوا بت خانوںمیں خاک اُڑنے لگی نفرتوںاور کدورتوں کے اوراق ایک ایک کر کے جھڑنے لگے محبت اور اخوت کے پھول مہکنے لگے ۔اخلاق انسانی کا آئینہ پر تو قدس سے چمک اٹھا۔
اس حقیقت سے ہر شخص باخبر ہے خدا کا سب سے بڑا فضل اور اس کی سب سے بڑی نعمت رسول ﷺکی ولادت مبارکہ ہے اور بعثت طیبہ ہے آپ کی ولادت اور بعثت پر مسرت وشادمانی کے اظہار کا نام عید میلاد النبی ﷺہے جو مومنوں کی حقیقی عید ہے کیونکہ دنیا کی تمام عیدیں اسی عید کی مرہون منت ہیں ۔اس میں شک نہیں کہ تمام ایام اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کئے ہیں ۔لیکن ان میں بعض ایام اےسے بھی ہیں جو اپنی فضیلت اور بزرگی کی وجہ سے ایام اللہ کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان مخصوص ایام میں حضورﷺکی ولادت مبارک کا دن بھی عظیم الشان دن ہے جس کی یاد منانا عین سعادت مندی ہے لہذامیلاد مصطفیﷺکی مجالس قائم کرنا اور آپ کی ولادت وبعثت پر خوشی ومسرت کا اظہار کرنا مستحب عمل ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺمنبر پر جلوہ افروز ہوئے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے پوچھا میں کون ہوں توصحابہ نے عرض کیا آپ اللہ کے رسول ہیں آپ ﷺنے ارشاد فرمایا میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو بنایاپھر اس مخلوق کے دوحصے کئے مجھے بہترین مخلوق میں پیدا کیا ۔پھر عرب کے قبیلوں میں سے مجھے بہترین قبیلے میں پیدا فرمایا ۔پھر قریش کے چند خاندان بنائے مجھے سب سے بہتر خاندان بنی ہاشم میں پیدا کیا تو میں نسب اور بیت کے لحاظ سے سب سے افضل ہوں (ترمذی مشکوٰة المصابیح ص516)حضور ﷺخود اپنی ولادت اور اپنے اوصاف عالیہ منبر پر کھڑے ہو کر بیان فرمارہے تھے جس سے واضح ہوا کہ میلا د منانا خود حضور ﷺکی سنت ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ”اللہ کے فضل ورحمت پر خوب خوشیاں مناﺅ“اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت پر خوشیا ں منانے کا حکم دے رہا ہے حضور کی ولادت اللہ کا فضل اور رحمت بھی ہے کیونکہ خود قرآن فرما رہا ہے ”ہم نے آپ کو رحمت بنا کر بھیجا “چنانچہ حضور ﷺکی ولادت پر خوشی منانا اسی آیت پر عمل ہے لہذا میلاد مصطفی ﷺمنعقد کرنا زیب وزینت اور سج دھج کرنا سب اجروثواب ہے ۔

محفل میلاد

لاہور (پ ر) پاور ہائوس مغلپورہ میں سالانہ محفل میلاد کل ہوگی ایک خوش نصیب کو ...