انقلاب محمدی اور سےرت طےبہ

27 فروری 2010
مہر عمر دراز جھاوری
جس وقت آنحضرت نے اس عالم رنگ و بو مےں قدم رکھا تمام تہذےبےں اندر سے گل سڑ چکی تھےں۔ اےرانی اور رومی تہذےب اپنے دن پورے کر چکی تھیں۔ گوےا اےک ہمہ گےر انقلاب کے لئے ماحول منتظر تھا۔ انقلاب محمدی کا منبع چونکہ جزےرة العرب تھا اس لئے ہر کوئی انقلاب سے پہلے کی حالت کو جاننا چاہتا ہے کےونکہ مستقبل مےں نکھار ماضی کے تقابل سے آتا ہے۔ اس وقت جزےرة العرب بنےادی طور پر مشرک خطہ تھا اگرچہ خال خال موجد مل جاتے تھے۔ ملائکہ پرستی‘ ستارہ پرستی‘ بُت پرستی اور نہ جانے کتنی قسم کی پرستشیں رائج تھےں۔ ان کی اخلاقی حالت بھی بگڑ چکی تھی۔ بُرے اخلاق مےں وہ اپنی نظےر نہ رکھتے تھے۔ ان کی جنگجو فطرت انہےں سنگدلی کے مقام پر لے گئی تھی۔ چنانچہ پورے معاشرے مےں تمام قبےلوں کے درمےان محبت و مروت نام کی کوئی چےز نہ تھی‘ نفرت اور عداوت کا اےک الا¶ تھا جو ہمےشہ بھڑکتا رہتا تھا۔ شراب نوشی عام تھی‘ ہر گھر مےکدہ تھا اور ہر فرد مے خوار اور ہر برتن جامِ مے تھا۔ اس شراب خانہ خراب نے ان کو جواری بھی بنا دےا تھا۔ وہ جانوروں کو درختوں سے باندھ کر نشانہ بازی کرتے۔ جنگ مےں مرنے والوں کے حلئے بگاڑ دےتے ان کے دانت اکھاڑ دےتے‘ ہونٹ کاٹ ڈالتے اور ان کی کھوپڑی مےں شراب پےتے۔ معاشرتی طور پر وہ پوری طرح تباہ ہو چکے تھے۔ اےک طبقہ آقا¶ں کا اور دوسرا غلاموں کا۔ مظلوموں کو سخت کام پر لگا دےا جاتا۔ اس وقت تک دو وقت کی روٹی نہ ملتی جب تک ان کی ہڈےاں نہ چٹخ جاتےں اور گوشت نہ سڑ جاتا۔ ےتےموں کا مال بڑے ذوق و شوق سے ہڑپ کرتے۔ ان کی معاشرت کی بھرپور تفصےل ہمےں قرآن مجےد اور احادےث مبارکہ سے ملتی ہے۔
ان حالات مےں اےک اےسے انقلاب کی ضرورت تھی جو پرانی اقدار اور رواےات کی جگہ انسانےت کے لئے مفےد، حےات بخش اور قابل فخر اقدار و رواےات مہےا کرے‘ اےسا انقلاب جو ہر اس قاعدے کو پلٹ دے جس سے استحصال، زر اندوزی‘ طبقاتی امتیاز اور گوشت و خون کا جواز نکلتا ہو پس انتظار کی گھڑےاں ختم ہوئےں اور چھٹی صدی عےسوی مےں وہ ولولہ انگےز روح پرور اور عظےم الشان انقلاب برپا ہوا جس کی قےادت تاجدار ختم نبوت و رسالت حضرت محمد نے فرمائی اور دےکھتے ہی دےکھتے ذہن بدل گئے‘ سوچ کے زاوےے بدل گئے‘ اخلاق کے ضابطے بدل گئے‘ جنگی اصول بدل گئے الغرض پورے کے پورے انسان بدل گئے۔
انقلاب محمدی کے وقت دنےا کا نقشہ اےک مغربی م¶رخ کے الفاظ میں جن کو علامہ اقبالؒ نے معروف خطبات ”تشکےل جدےد فلسفہ الٰہےات اسلامےہ“ مےں ےوں رقم کیا ہے :۔
”اس وقت اےسا دکھائی دےتا تھا کہ تہذےب کا وہ قصر جس کی تعمےر مےں چار ہزار برس صرف ہوئے منہدم ہونے کے قرےب پہنچ چکا تھا۔ تہذےب کا وہ بلند و بالا درخت جس کی سرسبز شاخےں کبھی ساری دنےا پر ساےہ فگن تھےں اور آرٹ‘ سائنس اور لٹرےچر کے سنہری پھلوں سے لدی تھےں اب لڑکھڑا رہا تھا۔ عقےدت و احترام کی زندگی بخش نمی اس کے تنے سے خشک ہو چکی تھی اور اندر سے بوسےدہ اور کھوکھکلا ہو چکا تھا جو صرف پرانی رسموں کے بندھن مےں جکڑا ہوا تھا اور جس کے متعلق خطرہ تھا اب گرا کہ اب۔“
اللہ تعالیٰ نے اس دنےا مےں ہر دور مےں پےغمبرؑ بھےجے جن پر وحی کی صورت مےں ہداےت نازل فرمائی۔ وہ لفظی وحی آنحضرت پر نازل ہونے والے قرآن کی شکل مےں کمال تک پہنچی اور وہ عملی سےرت آنحضرت کی سےرت کے روپ مےں جلوہ گر ہوئی۔ آپ کی سےرت کےونکہ سارے عالم کے لئے اےک مثالی اور عملی نمونہ بننے کی صلاحےت رکھتی ہے۔ اس لئے لازم ہے کہ اس سےرت مےں جامعےت پائی جائے اور ےہ بھی لازمی ہے کہ ان تعلےمات اور اصولوں پر وہ خود بھی عامل ہو تا کہ اس کا عمل اور عملی زندگی ساری دنےا کے لئے بہترےن مثال بن جائے۔ جن کی سےرت طےبہ ان معےاروں پر پورا اترتی ہے وہ ہےں سرور کائنات پےغمبر۔ آنحضرت کی ذات پاک ےقےناً تمام فضائل و اخلاق کا مجموعہ ہے اور آپ کی ہستی کو جامعےت کبری ٰ کا درجہ حاصل ہے۔