حضورﷺ کی ولادت سے ہزار سال قبل آپ پر ایمان لانے والا پہلا امتی شاہ یمن

27 فروری 2010
نواز خان میرانی
دنیا میں لاکھوں پیغمبر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی رہبری و رہنمائی کیلئے بھیجے مگر ایسی شان ایسی آن ایسی زیبائی و سرفرازی ہمارے آقا و مولا سرور کائنات‘ فخر موجودات محمد مصطفیٰﷺ کے حصے میں آئی کہ باقی پیامبر و پیغمبر دنیا کےلئے آئے مگر اس عظیم اور وحدہ لاشریک ہستی نے دنیا موجودات و مخلوقات ان کیلئے بنائی۔
انکی آمد کے چرچے اس وقت دیکھنے میں آئے کہ جب محب نے اپنے محبوب کے دیدار ذی وقار کیلئے اور انکی آمد اور ملاقات کیلئے اپنا عرش تا فرش اس سج دھن اور آن بان سے سجایا اور سنوارا کہ ملائیکہ چالیس دن تک آسمانوں کی تنزئین و آرائش و زیبائش کیلئے رات دن مصروف عمل اور شاداں و فرحاں نظر آئے اور ایسا کیونکر نہ ہوتا کہ عاشق مصطفیٰﷺ حضرت بلالؓ بھی تو حضور پرنور جب باہر تشریف لے جاتے تو یہ عاشق خادم غلامی محمدﷺ کی محبت و عقیدت میں سرمست و سرشاری کی حالت میں ان سے آگے جھومتے جھامتے اور حالت وجد و سرفروشی میں آجاتے۔
کیا ایسی آن بان اور ایسی پذیرائی کسی اور نبی کے حصے میں آئی کہ روز الست اور وجود آدمؑ و کائنات سے ہزاروں سال پہلے محبوب کے تذکرے اور اس کی گونج آسمانوں میں گونجتی رہی۔ کیا تاریخ ہزار بار ورق گردانی کے باوجود ہمیں ایسی مثال اور اس کا حال بتا سکتی ہے کہ جو صرف اور صرف ہمارے اور آپ کے جانوں مالوں اور اولاد کے مالک و مختار کے حصے میں آئی کہ ہزاروں سال پہلے سے جن و ملائیکہ سے لیکر انسان جس ہستی کے منتظر ہوں۔ بلکہ بادشاہ وقت بھی شہنشاہ دوجہاں کے منتظر ہوں۔ یمن کے بادشاہ نے عالموں سے آپ کی دنیا میں تشریف آوری کا سنا تو اسی وقت سے آپکا منتظر ہو کر آپ پہ بن دیکھے ایمان لے آیا اور ایک خط حضورﷺ کی خدمت میں تحریر کرکے بند کرا دیا اور بند ڈبہ اس وقت کے سب سے بڑے عالم کو دے کر یہ نصیحت اور وصیت کی کہ اگر میری زندگی میں محمد مصطفیٰﷺ تشریف لے آئے تو یہ خط ان تک پہنچا دیا جائے بصورت دیگر مدینے کے اس عالم کی اولاد اور نسل میں جو بھی رسول پاکﷺ کے دور کا اعزاز پائے‘ وہ یہ امانت آقائے دوجہاں تک پہنچا دے خط میں یہ تحریر کیا گیا تھا۔
”اللہ کے نبیﷺ انبیا کے خاتم رب العالمین کے رسولﷺ کی طرف تبع اول حمیری کی جانب سے میں آپﷺ پر اور آپﷺ پر نازل ہونے والی کتاب پر ایمان لاتا ہوں‘ آپﷺ کے دین اور طریقے پر ہوں آپﷺ کے رب پر اور جو کچھ آپﷺ کے رب کی جانب سے ایمان اور اسلام کے سلسلے میں آیا‘ اس پر ایمان لایا ہوں اگر آپﷺ کا زمانہ پا¶ں تو بہتر وگرنہ قیامت میں میری شفاعت فرمانا اور مجھے بھول نہ جانا کہ میں آپ کا پہلا امتی ہوں۔ آپﷺ پر ایمان لایا اور بیعت کی میں آپﷺ اور آپﷺ کے باپ ابراہیمؑ کے دین پر ہوں“ حضور کی ولادت سے ایک ہزار قبل شاہ یمن نے آپ کیلئے نعتیہ اشعار بھی کہے۔ ان کے اشعار کا ترجمہ یہ ہے۔
”میں نے گواہی دی کہ محمدﷺ اللہ کے نبی ہیں جو تمام نعمتوں کا خالق ہے۔ اگر آپ کی زندگی تک میری عمر نے وفا کی تو میں آپ کا بھائی اور مددگار ہوں گا۔ تلوار سے میں آپ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کروں گا اور آپ کے دل سے ہر غم کو دور کروں گا۔ آپ کی ایک امت ہو گی جس کا نام زبور میں آیا ہے۔ آپ کی امت امتوں میں بہترین ہو گی“ دوسری نعت میں لکھا کہ
”اس کے بعد ایک عظیم انسان آئے گا۔ وہ ایک نبی ہو گا جو کسی حرام بات کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا نام احمدﷺ ہو گا۔ اے کاش میں انکی بعثت کے بعد ایک آدھ سال زندہ رہتا۔“
جس عالم کو شاہ یمن نے آپ کے نام خط دیا تھا۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ انکی اولاد میں سے تھے۔ جب حضور دنیا میں تشریف لائے تو انہوں نے ابو یعلیٰ کو خط دیکر شاہ یمن کی وصیت کے مطابق حضور کے پاس بھیجا۔ آپﷺ نے قاصد کو دیکھتے ہی اس کا نام لیکر پکارا۔ وہ شخص حیران ہو کر بولا۔ آپﷺ نے مجھے کیسے پہچانا؟ فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں۔ اور شاہ یمن کا خط پڑھ کر تین دفعہ خوشی کا اظہارکیا۔ اپنے کسی امتی کو اپنا بھائی کہنا دنیا اور آخرت کا ایسا بے بہا خزانہ ہے کہ کوئی امتی اس پر جتنا زیادہ فخر کرے اتنا ہی کم ہے۔ اور حضور کا شاہ یمن ایسا خوش نصیب ہے کہ جو بن دیکھے اور سینکڑوں سال پہلے ایمان لاکر پہلا امتی ہونے کا اعزاز پاکر اللہ کے ہاں سرخرو ہو گیا۔