کیا یومِ ولادت رسول منانا بدعت ہے؟

27 فروری 2010
اسلام آباد سے شائع ہونے والے ایک انگریزی اخبار میں مفتی تقی عثمانی کا 12 ربیع الاول کو اہمیت کے حوالے سے ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے ربیع الاول کو اسلامی تاریخ کا ممتاز ترین مہینہ قرار دیا ہے کیونکہ انسانیت اس مقدس مہینے میں حضور نبی کریم کی ولادت سے سرفراز ہوئی۔ مفتی تقی عثمانی نے حضرت محمدﷺ کی ولادت کو دنیا کے ہر برگزیدہ انسان کی ولادت سے افضل ترین بھی تسلیم کیا ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم کی ولادت کے یوم کو ایک جشن کے طور پر منانے کے عمل سے شدت کے ساتھ اختلاف کیا ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ خود رسول کریم کی حیات مبارکہ اور صحابہ کرامؓ کے دور سے ایسی کوئی مثال پیش نہیں کی جا سکتی کہ حضرت محمدﷺ کے یوم ولادت کو ایک مذہبی تقریب کے طور پر منایا جائے۔ جناب تقی عثمانی نے اپنے مضمون میں یہ عجیب و غریب دلیل بھی دی ہے کہ حضور نبی کریم کی سیرت کے موضوع پر سارا سال تقاریب کا انعقاد ایک اچھا عمل ہے لیکن ربیع الاول کو اور خصوصاً 12 ربیع الاول کو ایک خوشی کے دن کے طور پر منانا یا جلسوں اور جلوسوں کے اہتمام کی کوئی شہادت شریعت اسلام میں موجود نہیں۔ مجھے قرآن و سنت کی تعلیمات کے حوالے سے قطعاً یہ دعویٰ نہیں کہ مفتی تقی عثمانی سے میں زیادہ علم رکھتا ہوں لیکن میں ان سے یا ان کے کسی ہم خیال عالم دین سے یہ ضرور پوچھنا چاہتا ہوں کہ 12 ربیع الاول کو ایک خوشی کے دن کے طور پر دھوم دھام سے لیکن سنجیدہ اور باوقار انداز میں منانے کی نفی قرآن حکیم کی کس آیت میں کی گئی ہے۔ جس دن فخر کائنات، محبوب خدا، امام الانبیاءاور خاتم النبیینﷺ اس دنیا میں تشریف لائے اس دن سے زیادہ مبارک دن اگر کوئی اور نہیں تو پھر اسے خوشی کے طور پر منانے کے لئے کسی شرعی بحث و مباحثہ کا کیا جواز ہے۔ بنی نوع انسان میں یہ شرف اور فضیلت صرف حضور خاتم المرسلین کے حصے میں آئی ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے خود ان پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔ ذرا انصاف سے غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جس بندے کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا اور جس کے ذکر کو خالق نے خود رفعتوں سے نوازا اس کی آمد کی اگر ہم مقدور بھر خوشی نہیں منائیں گے تو پھر خوشی کی اور مبارک گھڑی کون سی ہو سکتی ہے جس کا ہمیں انتظار ہے۔ یہ ساری کائنات ہی جس ہستی کے لئے سجائی گئی ہے۔ ستاروں نے جس کی آمد کی خوشی میں عروسِ کائنات کی مانگ موتیوں سے بھر دی۔ چاند کی نقرئی روشنی میں بھی جس مہمان کی تشریف آوری کے موقع پر غیر معمولی طور پر اضافہ ہو گیا تھا، کارخانہ قدرت میں موجود ہر شے دریاﺅں کا بہتا ہوا پانی، پھولوں کی قبائیں چاک کرتی ہوئی ہوائیں، پہاڑوں کی بلندی، آسمانوں کی گردش اور زمین کا چکر جس افضل البشر کی آمد کی خوشی میں سیاب ہوئے جا رہے تھے۔ جس پیغمبرِ انقلاب کی آمد سے قیصر و کسریٰ کے ایوانوں میں زلزلہ آ گیا، صنم خانوں کے بت منہ کے بل گر پڑے اور زمین پر موجود سارے جھوٹے خداﺅں کی رعونت خاک میں مل گئی۔ کیا اس پیغمبر انقلاب، افضل البشر اور خلاصہ¿ کائنات کی ولادت کی سعادت جس دن کے مقدر میں آئی اور ربیع الاول کی جس مبارک تاریخ کا مقدر بن گئی اسے خوشی کے طور پر منانے کے لئے قرآن کی کوئی الگ آیت نازل ہونا بھی ضروری تھی۔ کیا عقل سلیم خود ہماری رہنمائی نہیں کرتی کہ خوشی کا سب سے بڑا دن وہی ہے جس دن کائنات کا سب سے بڑا انسان اس دنیا میں تشریف فرما ہوا۔ مفتی تقی عثمانی نے 12 ربیع الاول کو ایک مذہبی تہوار کے طور پر منانے کو بدعت کا نام دیا ہے اور بدعت گمراہی کا دوسرا نام ہے۔ میرا خیال ہے کہ خالق کائنات کی سب سے بڑی تخلیق جب حضرت آمنہؓ کے بیت شرف سے نمودار ہوئی اس پر خوشی کے اظہار کو مذہبی بحث میں الجھانا انتہائی نامناسب طرزِ عمل ہے۔
کائنات کے مالک اور خالق نے بشریت کی تکمیل کے واسطے صدیوں کے طویل تانے بانے میں جو اوصاف انسان کو رفتہ رفتہ نوازنے شروع کر دئیے تھے وہ سب حضور کی ذاتِ مقدسہ پر مکمل ہو گئے۔ جن کے آنے سے دین اسلام کو قیامت تک کے لئے دین قرار پانے کا شرف حاصل ہو گیا۔ رسالت اور نبوت اس لئے ختم کر دی گئی کیوں کہ رسالت اور نبوت کی تمام خوبیوں کو حضور کی ذات میں مجسم کر دیا گیا تھا اس کی آمد کی خوشی کو اگر ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر ایک یوم تشکر کی حیثیت سے نہیں مناتے تو کیا ہم خود اللہ تعالیٰ کی ناشکر گزاری کے مرتکب نہیں ہوتے۔ ایک غریب، نادار اور مظلوم شخص پر دنیا میں اگر کوئی عام آدمی احسان کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا شکریہ ادا کرنے کا حکم دیتا ہے اور جس مبارک گھڑی پوری انسانیت پر خالق اکبر نے احسان کرتے ہوئے محسن انسانیت کو اس دنیا میں ظاہر کیا تو کیا اس گھڑی اور اس دن کو خوشی کے طور پر منا کر ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرنا چاہئے تاہم حضور نبی اکرم کے یوم ولادت کو مناتے ہوئے ہمیں اس بات کا احساس ضرور رہنا چاہئے کہ اس دن ہم خدائے بزرگ و برتر کے حضور تشکر آمیز جذبات کے اظہار کے لئے نوافل ادا کریں۔ جذب و عشق میں ڈوبی ہوئی ایمان افروز تقاریب کا انعقاد کریں۔ صدقہ و خیرات کریں لیکن خوشیوں کے اظہار کے لئے ایسا کوئی عمل ہرگز نہ کریں جو حضور نبی کریم کی نظروں میں پسندیدہ نہ ٹھہرے۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...