اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں

27 فروری 2010
سید احسان احمد گیلانی
عاشق رسول، ادیب، خطیب، کالم نگار اور داعی اتحاد امت صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانیؒ کو ہم سے بچھڑے ہوئے آج 9 سال بیت چکے ہیں۔ 12 ربیع الاول کے مقدس اور متبرک دن ان کا وصال ان کے سچے عاشق رسولﷺ ہونے کی نشانی، جب جنوری 2001ءکو ہسپتال داخل ہوئے تو سرطان جیسا موذی مرض ان پر جان لیوا حملہ کر چکا تھا اور ڈاکٹرز نے جواب دے دیا تھا مگر وقت گزرتا رہا اس دوران گیلانی بار بار پوچھتے کہ ربیع الاول کے آنے میں کتنے دن باقی ہیں آخر کار ربیع الاول آیا 12 کی نورانی شب آئی۔ اس دن سخت گرمی اور حبس تھا جب 12 ربیع النور کی مقدس صبح طلوع ہوئی تو گیلانی صاحب نے فرشتہ اجل کو لبیک کہا اور لوگوں نے دیکھا جب اللہ کا یہ نیک بندہ اور سچا عاشق رسولﷺ رخصت ہو رہا تھا تو گرمی اور حبس کا زور ٹوٹ چکا تھا اور ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور بارش کا تال میل یونہی نہیں تھا یہ کسی برگزیدہ انسان کے رخصت ہونے کا وقت تھا کہتے ہیں کہ جب کسی نیک آدمی کا انتقال ہوتا ہے تو باران رحمت برستی ہے اور یہ منظر گیلانی صاحب کے جنازے میں موجود ہر شخص نے دیکھا۔
گیلانی صاحب ایسے خورشید صفحہ ہستی پر روز روز نہیں ابھرتے ایسے دانشوروں اور اہل فکر و نظر کے لئے تاریخ کو برس ہا برس انتظار کی اذیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ گردش دوراں سالہا سال دیر و حرم کے گرد طواف کرتی ہے تب کہیں جا کے ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں جو وقت کے سانچوں میں ڈھل نہیں جاتے بلکہ عظمت کا معیار قرار پاتے ہیں۔ میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں ان کے اوصاف کو قلم بند کر سکوں بس اتنا کہ آپ مسلمہ شخصیت کے حامل ایسے شخص تھے جن کی شخصیت سچائی اور کردار کے حوالے سے اپنی مثال آپ تھی۔
گیلانی صاحب زندگی کے ہر موڑ پر فتح کو اپنا شعار بنا چکے تھے اور اس فتح کے عمل میں انہیں یہ احساس تک نہ رہا کہ وہ عمر کے گھوڑے کو بہت تیزی سے دوڑا رہے ہیں اور 45 برس کی عمر میں (12 ربیع الاول جون 2001) صبح کی نماز کے وقت راہی ملک عدم ہو گئے آپ کے چھوڑے ہوئے علمی خزانے اور آپ کی تعلیمات کو مزید اجاگر کرنے کے لئے خورشید گیلانی ٹرسٹ چھلے 7 سال سے کام کر رہا ہے آپ کی زندگی میں چھپنے والا اتحاد، انقلاب اور اجتہاد کا نقیب مجلہ تسخیر باقاعدگی سے چھپ رہا ہے گیلانی صاحب کے حلقہ احباب سے التماس ہے کہ ان کی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے خورشید گیلانی ٹرسٹ سے تعاون کریں
وئے صورتیں الہٰی کس دیس بستیاں ہیں
اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں