وزیراعظم کا لالی پاپ

27 فروری 2010
کلاس روم میں ٹیچر نے بچے سے لیٹ آنے کی وجہ پوچھی تو بچے نے کہا سر آج بارش کی وجہ سے سارے راستے میں کیچڑ تھا اور پھسلن تھی میں ایک قدم آگے رکھتا تو دو قدم پیچھے چلا جاتا تو ٹیچر نے پوچھا پھر تم سکول کیسے پہنچے؟ بچے نے جواب دیا سر پھر میں نے اپنا منہ گھر کی طرف کر لیا اور یوں الٹے پا¶ں سکول پہنچا۔ کچھ ایسی ہی صورتحال اس وقت اس ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے ساتھ ہو رہی ہے۔ کونسا ایسا موقع ہے جب پارٹی کے ارباب اختیار نے پس قدمی اختیار نہ کی ہو۔ بات عدلیہ کے ساتھ ہو یا کسی دوسری سیاسی پارٹی کے ساتھ کسی بھی موضوع پر بحث پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار ایسی بڑھکیں لگاتے ہیں کہ جیالے جس پر ایسے خوش ہو جاتے ہیں کہ جیسے ہم نے کشمیر فتح کر لیا ہو مگر پھر ہمارے لیڈران کی سیاسی پھسلن شروع ہو جاتی ہے اور وہ الٹے قدموں چل پڑتے ہیں گزشتہ دنوں وزیر اعظم پاکستان نے دو سال کی مسلسل خاموشی کے بعد پنجاب پیپلز پارٹی کے عہدے داران اور پنجاب میں موجود پارٹی کے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی و فیڈرل کونسل کے اراکین کو مدعو کیا مدعو تو انہوں نے تمام ڈسٹرکٹ صدور اور ڈویژنل کوآرڈینیٹرز کو بھی کیا ہوا تھا مگر ہمیشہ کی طرح حاضری وزیر اعظم کی موجودگی کے باوجود 40 فیصد سے زائد نہ تھی کچھ ڈسٹرکٹ صدور و ڈویژنل کوآرڈینیٹرز وزیر مشیر بن کر اپنے آپ کو کارکنوں کی پہنچ سے دور رکھنے میں کامیاب رہے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ انہی کارکنوں کی بدولت آج اقتدار کے ایوانوں میں نظر آتے ہیں جب شہید ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کیا گیا تو آمر وقت کے خلاف درجنوں جیالوں نے خود سوزی کی لاکھوں کی تعداد میں جیل گئے ہزاروں کو کوڑے پڑے سینکڑوں کو پھانسیاں نصیب ہوئیں۔ یہ وہی کارکن ہیں جن کی وجہ سے پارٹی نے مشرف کے دور آمریت میں بھی ہر قسم کی سختی اور مصائب کا ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن آج جب پارٹی ایوانِ اقتدار پر براجمان ہے تو ان جیالوں کو پوچھنا تک تو درکنار ان کےلئے سوچا تک نہیں جاتا۔ سٹیٹ گیسٹ ہا¶س لاہور میں پیپلز پارٹی کے موجود اراکین نے دل کھول کر کارکنوں کے جذبات وزیراعظم، پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر رانا آفتاب اور سینیئر وزیر راجہ ریاض تک پہنچائے مگر ارباب اقتدار سٹیج پر بیٹھے ہوئے ہنستے مسکراتے رہے ایسے لگ رہا تھا کہ ”چڑیاں دی موت تے گواراں دا ہاسا“ اس اجلاس کو جس کو انتہائی اہم قرار دیا گیا تھا چند من پسند دوستوں سے تقاریر کروا کر اختتام کو پہنچایا گیا اور ایک دفعہ پھر وزیر اعظم اگلے دو سال کے لئے شائد غائب ہو جائیں گے پھر یہ لوگ اگلے انتخابات سے چند دن پہلے انہی جیالوں کے درمیان موجود ہونگے اور لارے لیتے جیالے ایک دفعہ پھر قربانیوں کےلئے تیار ہو جائیں گے اس وقت ملک میں لاقانونیت اپنی انتہائی عروج پر ہے مہنگائی کے آسیب نے عالمی کساد بازاری کی وجہ سے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ایک طرف عوام کے منہ میں نوالہ نہیں اور دوسری طرف لاقانونیت اور غنڈہ راج گری کی وجہ سے عوام کے کپڑے تک سڑکوں پر اتار لئے جاتے ہیں۔ آج کے اس ہائی ٹیک دور میں کوئی ادارہ اور کوئی فردِ واحد بھی اپنے کام سے مخلص نہیں بلکہ ہر ادارہ دوسرے کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کا بہانہ ڈھونڈتا رہتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے جیالے اپنی اس حکومت کے اقتدار میں بھی بے سرو سامان ملاح کی طرح کھلے آسمان تلے اللہ میاں کے انتظار میں منہ آسمان کی طرف کر کے بیٹھے ہیں۔ وزیر اعظم نے جب وہ سپیکر تھے ملتان کے لوگوں اور سادات کو نوکریاں دیکر پانچ برس قید کاٹی مگر اس دفعہ وزیر اعظم نے اسلام آباد‘ لاہور‘ کراچی‘ فیصل آباد کو بھی کوچہ ساداتِ ملتان بنا دیا ہے۔ پاکستان کا کونسا ایسا محکمہ ہے جس کے ایم ڈی یا چیئرمین میں تین خصوصیات نہیں پائی جاتی : فسٹ اس کا تعلق سادات فیملی سے ہو‘ سیکنڈ وزیر اعظم کے حلقہ احباب یا اقرباء کی مہر ثبت ہو‘ تھرڈ وہ تخت ملتان کا رہائشی ہو۔ اگر آپ میں یہ تین خوبیاں موجود ہیں تو یقین جانیئے آپ پاکستان کے کسی بھی ایگزیکٹو عہدے پر براجمان ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر وزیر اعظم صاحب اب کی بار جب خدانخواستہ آپکو سزا سنائی جا رہی ہو گی تو مطلوب وڑائچ آصف زرداری کے ہمراہ آپ کا دایاں اور بایاں بازو تھامے ہوئے نہیں ہونگے۔ اب کی بار دنیا بھر میں آپ کےلئے کمپیئن لانچ کرنے والا موجود نہیں ہو گا۔ سخت سردی میں نقطہ¿ انجماد سے نیچے برف باری میں یورپین یونین پارلیمنٹ برسلز کے باہر ہر گزرتے رکن یورپین اسمبلی کو پرنٹیڈ سگریٹ لائیٹر جس پر پی پی پی کے اسیروں کی رہائی کے لئے پرنٹ مواد تھا تقسیم کرتے ہوئے جیالا آپ کو نہیں ملے گا۔
وزیر اعظم صاحب آپ ناشتہ تناول فرما رہے تھے میاں برادران کیساتھ اور دوسری طرف چند میل پر پنجاب حکومت کا ایک ایس ایچ او پہلے سے تیار رپورٹ پر ڈھائی سو کارکنوں کے خلاف پرچہ درج کر کے سیل کر رہا تھا تا کہ آئندہ کسی الیکشن کے موقع پر ان کارکنوں کو پابند سلاسل کیا جا سکے وزیر اعظم آپ ہمیں اپنی نوکری بچانے کے چکر میں مفاہمت کا درس دے رہے تھے جبکہ اسی وقت میاں نواز شریف راولپنڈی کے جلسے میں میثاق جمہوریت اور اس کے بانیوں کی دھجیاں ادھیڑ رہے تھے وزیر اعظم صاحب آپ دو ٹکے کی نوکری کی خاطر کارکنوں کا استحصال مت کریں۔ وزیر اعظم صاحب آپ اس ملک کے وزیر اعظم ہی نہیں اس ملک کی سب سے بڑی اور قربانیوں کی امین پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین بھی ہیں اب یہ قوم یہ جیالے لولی پاپ کے چکر میں نہیں آئیں گے اب کی بار جمہوریت گھر سے شروع کرنا ہو گی اب کی بار قربانیوں کا قرض اتارنا ہو گا اب کی بار گردن کسی جیالے کی نہیں اب کی بار کمر کسی جیالے کی نہیں بلکہ اقتدار میں حصہ لینے والے اپنا حصہ ڈالیں گے۔ وزیر اعظم صاحب آپ نے لاہور کے اجلاس میں ایک مخدوم صاحب کو کھڑے دیکھ کر سٹیج سے حکم صادر فرمایا کہ مخدوم صاحب کو جگہ دی جائے۔ وزیر اعظم صاحب آپ کو وہاں کھڑے دوسرے جیالے نظر نہیں آئے میں نے دیکھا جیالے عہدیداران آپ کی طرف ہاتھ بڑھا رہے تھے مگر آپ احساس سے محروم خیالوں میں ایک شان بےنیازی سے بغیر نظر ڈالے آگے بڑھتے چلے گئے میرا یہ جیالا بھائی آگے بڑھنا چاہتا تھا میں نے اسے روکنا چاہا تو وہ مجھے پرے ہٹا کر بولا اب کی بار مطلوب وڑائچ تم بھی مجھے روک نہ سکو گے۔
آج ایک جیالے عہدے دار نے مجھے روک کر کرخت لہجے میں کہا رکو میری بات سنو۔ وزیر اعظم صاحب کو وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت پارٹی جیالے و قائدین ائر پورٹ پر الوداع کہنے آئے تھے۔ آپ جہاز میں بیٹھتے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے تین سینئر عہدیداران شہباز شریف کی گاڑی میں بیٹھ کر رائے ونڈ چلے جاتے ہیں۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
وزیراعظم کا لالی پاپ
کلاس روم میں ٹیچر نے بچے سے لیٹ آنے کی وجہ پوچھی تو بچے نے کہا سر آج بارش کی وجہ سے سارے راستے میں کیچڑ تھا اور پھسلن تھی میں ایک قدم آگے رکھتا تو دو قدم پیچھے چلا جاتا تو ٹیچر نے پوچھا پھر تم سکول کیسے پہنچے؟ بچے نے جواب دیا سر پھر میں نے اپنا منہ گھر کی طرف کر لیا اور یوں الٹے پا¶ں سکول پہنچا۔ کچھ ایسی ہی صورتحال اس وقت اس ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے ساتھ ہو رہی ہے۔ کونسا ایسا موقع ہے جب پارٹی کے ارباب اختیار نے پس قدمی اختیار نہ کی ہو۔ بات عدلیہ کے ساتھ ہو یا کسی دوسری سیاسی پارٹی کے ساتھ کسی بھی موضوع پر بحث پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار ایسی بڑھکیں لگاتے ہیں کہ جیالے جس پر ایسے خوش ہو جاتے ہیں کہ جیسے ہم نے کشمیر فتح کر لیا ہو مگر پھر ہمارے لیڈران کی سیاسی پھسلن شروع ہو جاتی ہے اور وہ الٹے قدموں چل پڑتے ہیں گزشتہ دنوں وزیر اعظم پاکستان نے دو سال کی مسلسل خاموشی کے بعد پنجاب پیپلز پارٹی کے عہدے داران اور پنجاب میں موجود پارٹی کے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی و فیڈرل کونسل کے اراکین کو مدعو کیا مدعو تو انہوں نے تمام ڈسٹرکٹ صدور اور ڈویژنل کوآرڈینیٹرز کو بھی کیا ہوا تھا مگر ہمیشہ کی طرح حاضری وزیر اعظم کی موجودگی کے باوجود 40 فیصد سے زائد نہ تھی کچھ ڈسٹرکٹ صدور و ڈویژنل کوآرڈینیٹرز وزیر مشیر بن کر اپنے آپ کو کارکنوں کی پہنچ سے دور رکھنے میں کامیاب رہے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ انہی کارکنوں کی بدولت آج اقتدار کے ایوانوں میں نظر آتے ہیں جب شہید ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کیا گیا تو آمر وقت کے خلاف درجنوں جیالوں نے خود سوزی کی لاکھوں کی تعداد میں جیل گئے ہزاروں کو کوڑے پڑے سینکڑوں کو پھانسیاں نصیب ہوئیں۔ یہ وہی کارکن ہیں جن کی وجہ سے پارٹی نے مشرف کے دور آمریت میں بھی ہر قسم کی سختی اور مصائب کا ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن آج جب پارٹی ایوانِ اقتدار پر براجمان ہے تو ان جیالوں کو پوچھنا تک تو درکنار ان کےلئے سوچا تک نہیں جاتا۔ سٹیٹ گیسٹ ہا¶س لاہور میں پیپلز پارٹی کے موجود اراکین نے دل کھول کر کارکنوں کے جذبات وزیراعظم، پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر رانا آفتاب اور سینیئر وزیر راجہ ریاض تک پہنچائے مگر ارباب اقتدار سٹیج پر بیٹھے ہوئے ہنستے مسکراتے رہے ایسے لگ رہا تھا کہ ”چڑیاں دی موت تے گواراں دا ہاسا“ اس اجلاس کو جس کو انتہائی اہم قرار دیا گیا تھا چند من پسند دوستوں سے تقاریر کروا کر اختتام کو پہنچایا گیا اور ایک دفعہ پھر وزیر اعظم اگلے دو سال کے لئے شائد غائب ہو جائیں گے پھر یہ لوگ اگلے انتخابات سے چند دن پہلے انہی جیالوں کے درمیان موجود ہونگے اور لارے لیتے جیالے ایک دفعہ پھر قربانیوں کےلئے تیار ہو جائیں گے اس وقت ملک میں لاقانونیت اپنی انتہائی عروج پر ہے مہنگائی کے آسیب نے عالمی کساد بازاری کی وجہ سے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ایک طرف عوام کے منہ میں نوالہ نہیں اور دوسری طرف لاقانونیت اور غنڈہ راج گری کی وجہ سے عوام کے کپڑے تک سڑکوں پر اتار لئے جاتے ہیں۔ آج کے اس ہائی ٹیک دور میں کوئی ادارہ اور کوئی فردِ واحد بھی اپنے کام سے مخلص نہیں بلکہ ہر ادارہ دوسرے کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کا بہانہ ڈھونڈتا رہتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے جیالے اپنی اس حکومت کے اقتدار میں بھی بے سرو سامان ملاح کی طرح کھلے آسمان تلے اللہ میاں کے انتظار میں منہ آسمان کی طرف کر کے بیٹھے ہیں۔ وزیر اعظم نے جب وہ سپیکر تھے ملتان کے لوگوں اور سادات کو نوکریاں دیکر پانچ برس قید کاٹی مگر اس دفعہ وزیر اعظم نے اسلام آباد‘ لاہور‘ کراچی‘ فیصل آباد کو بھی کوچہ ساداتِ ملتان بنا دیا ہے۔ پاکستان کا کونسا ایسا محکمہ ہے جس کے ایم ڈی یا چیئرمین میں تین خصوصیات نہیں پائی جاتی : فسٹ اس کا تعلق سادات فیملی سے ہو‘ سیکنڈ وزیر اعظم کے حلقہ احباب یا اقرباء کی مہر ثبت ہو‘ تھرڈ وہ تخت ملتان کا رہائشی ہو۔ اگر آپ میں یہ تین خوبیاں موجود ہیں تو یقین جانیئے آپ پاکستان کے کسی بھی ایگزیکٹو عہدے پر براجمان ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر وزیر اعظم صاحب اب کی بار جب خدانخواستہ آپکو سزا سنائی جا رہی ہو گی تو مطلوب وڑائچ آصف زرداری کے ہمراہ آپ کا دایاں اور بایاں بازو تھامے ہوئے نہیں ہونگے۔ اب کی بار دنیا بھر میں آپ کےلئے کمپیئن لانچ کرنے والا موجود نہیں ہو گا۔ سخت سردی میں نقطہ¿ انجماد سے نیچے برف باری میں یورپین یونین پارلیمنٹ برسلز کے باہر ہر گزرتے رکن یورپین اسمبلی کو پرنٹیڈ سگریٹ لائیٹر جس پر پی پی پی کے اسیروں کی رہائی کے لئے پرنٹ مواد تھا تقسیم کرتے ہوئے جیالا آپ کو نہیں ملے گا۔
وزیر اعظم صاحب آپ ناشتہ تناول فرما رہے تھے میاں برادران کیساتھ اور دوسری طرف چند میل پر پنجاب حکومت کا ایک ایس ایچ او پہلے سے تیار رپورٹ پر ڈھائی سو کارکنوں کے خلاف پرچہ درج کر کے سیل کر رہا تھا تا کہ آئندہ کسی الیکشن کے موقع پر ان کارکنوں کو پابند سلاسل کیا جا سکے وزیر اعظم آپ ہمیں اپنی نوکری بچانے کے چکر میں مفاہمت کا درس دے رہے تھے جبکہ اسی وقت میاں نواز شریف راولپنڈی کے جلسے میں میثاق جمہوریت اور اس کے بانیوں کی دھجیاں ادھیڑ رہے تھے وزیر اعظم صاحب آپ دو ٹکے کی نوکری کی خاطر کارکنوں کا استحصال مت کریں۔ وزیر اعظم صاحب آپ اس ملک کے وزیر اعظم ہی نہیں اس ملک کی سب سے بڑی اور قربانیوں کی امین پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین بھی ہیں اب یہ قوم یہ جیالے لولی پاپ کے چکر میں نہیں آئیں گے اب کی بار جمہوریت گھر سے شروع کرنا ہو گی اب کی بار قربانیوں کا قرض اتارنا ہو گا اب کی بار گردن کسی جیالے کی نہیں اب کی بار کمر کسی جیالے کی نہیں بلکہ اقتدار میں حصہ لینے والے اپنا حصہ ڈالیں گے۔ وزیر اعظم صاحب آپ نے لاہور کے اجلاس میں ایک مخدوم صاحب کو کھڑے دیکھ کر سٹیج سے حکم صادر فرمایا کہ مخدوم صاحب کو جگہ دی جائے۔ وزیر اعظم صاحب آپ کو وہاں کھڑے دوسرے جیالے نظر نہیں آئے میں نے دیکھا جیالے عہدیداران آپ کی طرف ہاتھ بڑھا رہے تھے مگر آپ احساس سے محروم خیالوں میں ایک شان بےنیازی سے بغیر نظر ڈالے آگے بڑھتے چلے گئے میرا یہ جیالا بھائی آگے بڑھنا چاہتا تھا میں نے اسے روکنا چاہا تو وہ مجھے پرے ہٹا کر بولا اب کی بار مطلوب وڑائچ تم بھی مجھے روک نہ سکو گے۔
آج ایک جیالے عہدے دار نے مجھے روک کر کرخت لہجے میں کہا رکو میری بات سنو۔ وزیر اعظم صاحب کو وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت پارٹی جیالے و قائدین ائر پورٹ پر الوداع کہنے آئے تھے۔ آپ جہاز میں بیٹھتے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے تین سینئر عہدیداران شہباز شریف کی گاڑی میں بیٹھ کر رائے ونڈ چلے جاتے ہیں۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟