ہفتہ ‘ 12؍ ربیع الاوّل 1431ھ‘ 27 ؍ فروری 2010ء

27 فروری 2010
خبر ہے کہ اقوام متحدہ نے مذہبی تعلیم کو جدید بنانے کیلئے پاکستان کو امداد کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ہمارے وزیر مذہبی امور نے اقوام متحدہ کو بتایا ہے کہ غربت کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کو دینی مدارس میں داخل کراتے ہیں یعنی یہاں لوگ مجبوراً دین کی تعلیم حاصل کرتے ہیں حالانکہ ہمارے وزیر موصوف کو پتہ ہے کہ مغرب ہمارے دینی اداروں سے خوفزدہ ہے۔ پاکستان کے بڑے بڑے دینی مدارس میں جا کے پوچھئے کوئی بھی طالبعلم آپکو یہ نہیں بتائے گا کہ وہ غربت کے باعث یہاں پڑھ رہا ہے بلکہ وہ یہی کہے گا کہ اسے دینی علوم حاصل کرنے کا شوق ہے۔ مذہبی امور کے وزیر خود بھی صاحبِ مدرسہ ہیں اور مدرسے سے پڑھ کر آئے ہیں کیا وہ غربت کے باعث اپنے ہی مدرسے میں داخل ہوئے؟ بات امیری اور غریبی کی نہیں دینی تعلیم کے حصول کی ہے‘ ہمارے سکولوں‘ کالجوں میں جتنی دینی تعلیم دی جاتی ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ آٹھ دس ہزار طلبہ میں سے دو تین ہی عربی زبان کی کلاس میں داخلہ لیتے ہیں یہی حال فارسی کا ہے جہاں تک اسلامیات کا تعلق ہے تو وہ اتنی ناکافی ہے کہ نیم مُلا تو پیدا کر سکتی ہے عالمِ دین تیار نہیں کر سکتی‘ رہی بات اقوام متحدہ کی کہ وہ ہمارے دینی مدرسوں میں مزید تعلیم رائج کریگا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری دینی تعلیمات میں ترمیمات کریگا۔ دینی تعلیم آفاقی ہے اسکو جدید و قدیم کے خانوں میں تقسیم کرنا فاش غلطی ہے۔
٭…٭…٭…٭
پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنما چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے (ن) لیگ جب بھی اقتدار میں آئی مہنگائی بڑھی۔
چودھری صاحب کا اپنے دور کے بارے میں کیا خیال ہے کیا مہنگائی گھٹتی جاتی تھی مگر چودھری صاحب کی بات سو فی صد بھی غلط نہیں مہنگائی ہر دور میں بڑھی ہے اور کسی حکومت نے بھی کبھی اس پر توجہ نہیں دی نہ ہی اسے کم کرنے کا کوئی مداوا کیا ہے۔ جہاں تک مسلم لیگ (ن) کا تعلق ہے تو لگتا ہے کہ چھوٹے چودھری صاحب کو اس کے اقتدار میں آنے کا یقین ہو چکا ہے انکے ساتھ ساتھ ہم چھوٹے میاں صاحب کا بھی ذکر کرینگے کہ یہ بات تو سچ ہے کہ پنجاب مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے اور مہنگائی ہے کہ لمبی ڈور کی پتنگ کی طرح چڑھتی جا رہی ہے اور وہ چرخی کو سمیٹتے نہیں‘ حیرانی تو اس بات پر بھی ہے کہ عوام مہنگائی کی اس چڑھتی پتنگ کو ’’بو کاٹا‘‘ بھی نہیں کرتے بس برداشت کئے جاتے ہیں‘ زبانی جمع خرچ سے کب کسی حکومت نے عوام کی مانی ہے جو اب مانے گی اگر واقعی کسی پارٹی کے دور میں مہنگائی کنٹرول نہیں کی جاتی تو لوگ اگلے الیکشنوں میں اسے ووٹ کیوں دیتے ہیں اور کیوں سوراخ میں انگلی ڈالتے ہیں جس سے پہلے ہی وہ ڈسے جاتے ہیں۔ بہرحال وزیراعلیٰ پنجاب اپنے مہنگائی کے بادشاہ چھوٹے چودھری صاحب کی بات پر دھیان دیں اور کم از کم پنجاب کی حد تک تو مسلم لیگ (ن) کو اس طعنے سے بچا لیں کہ وہ جب بھی آتی ہے مہنگائی ساتھ لاتی ہے۔
وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں سبزیاں اور پھل اگائے جائینگے۔
اگر پرائم منسٹر ہاؤس میں سبزیاں اور پھل اگائے جا سکتے ہیں تو گورنر ہاؤس پنجاب میں تو باقاعدہ کھیتی باڑی کی جا سکتی ہے۔ شکیل اعوان کے گھر میں تو دو چار گملے ہی رکھے جا سکتے ہیں اسلئے کہ وہ پانچ مرلے کے مکان میں رہتا ہے۔ ہمارے ہاں حکمران بڑے بڑے مکان پسند کرتے ہیں جن کیساتھ وسیع و عریض زمین ہو۔ وزیراعظم ہاؤس میں سبزیاں اور پھل اگانے کا منصوبہ بڑا اچھا ہے اس سے کم از کم پاکستانی خزانے پر کچھ بوجھ تو کم ہو گا‘ لگتا ہے کہ وزیراعظم طبعاً دہقان ہیں اور سبزیاں اور پھل اگانے کے شوقین۔ انکے اس شوق سے امید پیدا ہوتی ہے کہ وہ پانی کا مسئلہ حل کر کے چھوڑیں گے اور بھارت سے اپنا پانی واگزار کرا کے رہینگے۔ حکمرانوں کو غیر ضروری مسائل میں الجھا کر بھارت سے بے خبر رکھا جا رہا ہے وزیراعظم ہاؤس میں سبزیاں اور پھل تو اگ جائینگے مگر پاکستان کو بھارت ریگستان بنا دیگا۔ وزیراعظم کا اصل صحن تو پاکستان ہے پاکستان کی سونا اگلتی زمینیں ہیں جنہیں بھارت بنجر بنا رہا ہے تاکہ وہاں سبزیاں اگ سکیں نہ پھل‘ نہ اناج۔ وزیراعظم دہقانوں کی زندگی پر بھی توجہ دیں کہ ’دہقان ہے کسی قبر کا اگلا ہوا مردہ‘ ہماری مراد ان مزارعین سے ہے جو بڑے بڑے جاگیرداروں پلس سیاستدانوں‘ حکمرانوں کی زمینیں آباد کرتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
امریکی سینٹ نے کہا ہے کہ بلیک واٹر نے افغانستان میں بے دریغ ہتھیار چلائے۔
یہ انکشاف امریکی سینٹ کی تحقیقاتی کمیٹی نے کیا جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے امریکی بدنامِ زمانہ پرائیویٹ سیکورٹی کمپنی بلیک واٹر کی سرگرمیوں پر آنکھیں بند کر رکھیں تھیں بلیک واٹر کے ملازمین پر افغانستان میں ہتھیاروں کے بے دریغ استعمال کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ہتھیاروں کے بے دریغ استعمال سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ بلیک واٹر ایڈز کا مرض ہے اگر افغانستان میں پہنچتا ہے تو پاکستان کیسے بچ سکتا ہے رحمان ملک بھی اپنا خیال رکھیں جو پاکستان میں بلیک واٹر کی عدم موجودگی کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ امریکہ نے پہلے عراق پھر افغانستان اور اب پاکستان میں جو مظالم ڈھائے ہیں انسانی تاریخ کے سینے پر وہ ناسُور کی طرح زندہ رہینگے۔ امریکی قوم بنیادی طور پر ایک قابض قوم ہے اور انکے حکمران قبضہ مافیا ہیں کون نہیں جانتا کہ امریکہ کیسے وجود میں آیا اور مظلوم ریڈ انڈینز پر کیا بیتی‘ جب امریکا کیساتھ نیٹو فورسز بھی ہیں اور اسکو پاکستان جیسا حواری بھی مہیا ہے تو پھر رسوائے زمانہ بلیک واٹر جیسی پرائیویٹ کمپنی کے ظلم و ستم میں مہارت کی کیا ضرورت تھی۔ امریکا کی منافقت اور دوعملی کے ثبوت ایک نہیں ہزار ہیں اور اس کا نشانہ فقط مسلم اُمہ ہے اور مسلم اُمہ کا حال بوڑھی اماں کا سا ہے جو بچاری کچھ بھی نہیں کر سکتی‘ خدا جانے57 اسلامی ممالک امریکا کے ظلم و ستم کیخلاف کب یکجا ہو کر کھڑے ہونگے۔