ماہ ربیع الاول کا پیغام ، حکومت الٰہیہ کا قیام

27 فروری 2010
سید منور حسن
(امیر جماعت اسلامی)
ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی ہر مسلمان کے دل کی کلی کھل اٹھتی ہے۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں خوشی اور مسرت کی لہر دوڑ جاتی ہے اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی نسبت کو اجاگر کرنے، آپکے دامن سے ازسر نو وابستہ ہونے، آپ کی سنتوں کو اپنانے اور آپکی شریعت مطہرہ کو جدوجہد کا عنوان بنانے کیلئے پوری امت شمالاً جنوباً اور شرقاً غرباً تحرک اور سرگرمی کا عنوان دکھائی دیتی ہے۔اور پھر ربیع الاول اپنے تک ہی محدود نہیں رہتا، ربیع الثانی بھی ربیع الاول نظر آتا ہے اور چاردانگ عالم میںنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوڑی ہوئی جدوجہد اور کشمکش کاخوگر دکھائی دیتا ہے۔
کسی معاشرے میںنبی کی بعثت نظاموں کی کشمکش کو جنم دیتی ہے۔ موجود نظام اور قائم شدہ معاشرہ جہالت، شرک و بت پرستی اور ظلم کے ہر عنوان کو اپنے اندر سموئے ہوتاہے جبکہ نبی بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر بندوں کے رب کی طرف بلانے کی دعوت پیش کرتاہے۔
اس طرح نظاموں کی یہ آویزش دور و نزدیک ہر شے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ پرانا نظام اپنے تحفظ اور بقا کی جنگ ہر مورچے اور محاذ پر لڑتاہے،اور نبی کا پیش کردہ نظام نعرے کے مقابلے میں نعرہ، فلسفے کا متبادل فلسفہ، نظریے کا توڑ نظریہ، جدوجہد کے مقابلے میں جدوجہد، نیز استقامت، اولوالعزمی اور صبر و حوصلہ کے چراغ روشن کرتاہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جس معاشرے میں بعثت ہوئی وہ معاشرہ ان تمام خرابیوں اور برائیوں کی آماجگاہ تھا جس کا تصور انسان ہونے کے ناطے کیا جاسکتاہے۔ آپکی مخالفت کرنیوالے آپکی ذات سے تو تعلق رکھتے تھے اور نباہ بھی کرنا چاہتے تھے، صادق و امین کہتے تھے لیکن وحی الٰہی کی بنیاد پر آپ جس تبدیلی اور تزکیے کی طرف بلارہے تھے وہ پرانے آباؤ اجداد کے دین اور ہر رسم و رواج کوختم کر جانے والا نظام تھا لہٰذا جو لوگ آپکی مخالفت کررہے تھے،سوچ سمجھ کر کررہے تھے، جانتے بوجھتے ایسا کررہے تھے اور اپنے نظام کے ٹمٹماتے چراغ کو ہر قیمت تحفظ دینا چاہتے تھے۔
اسی طرح جو آپ کے ہمنوا بن کر اٹھے اور آپ پر ایمان لانے والے اور آپ کے جلو میں چلنے والے قرار پائے وہ بھی دل کی گہرائی سے اس کشمکش کو مول لے رہے تھے۔ تبھی تویہ ممکن ہے ہو سکا کہ انھیں آگ کے انگاروں پر لیٹنا بھی گوارا تھا۔
اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ نظاموں کی کشمکش میں قائم شدہ نظام کا دفاع کرنے والوں کو بھی ایک ٹیم اور معاشرے کی پشتیبانی درکار ہوتی ہے،اور نیا نظام جن دعووں، مقاصد اور اہداف کیلئے اٹھا ہو، اسے بھی اپنی تائید اور اپنے مؤقف کو واشگاف کرنے کیلئے ایک ٹیم درکار ہوتی ہے‘ اس لیے ہر نبی پرانے انسانوں میں سے نئے انسان تلاش کرتا ہے، پرانے معاشرے میں سے نئے معاشرے کو اٹھاتاہے اور پرانے عمر بن خطاب میں سے نئے حضرت عمر فاروق ؓ جنم لیتے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے نتیجے میں جو نئے انسان دریافت ہوئے، پرانے اور بوسیدہ معاشرے ہی سے تازہ ہوا کے جھونکے آنے شروع ہوئے۔گویا…ع
’پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے‘
تبدیلی و انقلاب کی یہ لہر جس نے پرانے سانچوں کو توڑ پھوڑ دیا، جاہلیت کے ایوانوں میں کھلبلی مچادی، افراد کی سطح ُپر نقطہ نظربدلا،سوچ کے زاویے بدلے، زاویہ ہائے نگاہ بدلے، زندگی اور اسکی ترجیحات بدلیں، اسکے ساتھ اجتماعیت کے اسلوب بدلے۔ دعوت اور طریق دعوت نے تربیت اور تعمیر سیرت کے نئے چراغ روشن کیے۔ آپ نے گئے گزرے اور ان پڑھ و ان گڑھ لوگوں کو رہتی دنیا تک آنیوالے انسانوں کا رہنمااور انکے کردار اور سیرت کو تاریخ کے ہر دور کیلئے روشنی کا مینار بنایا۔
قرآن پاک اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آپکی طبیعت کی نرمی اور گداز اور آپکے اسلوب کی خیرخواہی محیط تھی انسانوںکو انسانیت کش راہوں سے روکنے، آگ میںگرنے والے لوگوں کو فلاح اخروی کا تصور جاگزیں کرنے اور انھیں ایک بڑے مقصد کیلئے آمادہ و تیار کرنے کیلئے۔ جہاں ایک طرف قرآن پاک یہ بتاتا ہے کہ :
لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم یتلوا علیھم ایاتہ و یزکیھم و یعلمھم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین(اٰل عمران۳ : ۴۶۱)
’’در حقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ انکے درمیان خود انھی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس نے کی آیات انھیں سناتا ہے، ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتاہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘
کہ آپ کس طرح قرآن پاک کی طرف لوگوں کی بلاتے رہے، نفوس کا تزکیہ کرتے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے رہے وہیں دوسری طرف قرآن پاک کی گواہی دیتا ہے
فبمارحمۃ من اللہ لنت لھم ولوکنت فضا غلیظ القلب لانفضو ا من حولک(اٰل عمران۳:۹۵۱)
’’(اے پیغمبر) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کیلئے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر تم تندخو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمھارے گرد و پیش سے چھٹ جاتے۔‘‘… کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے آپکے اندر نرمی ڈال دی تھی جو لوگوں کی توجہ کا مرکز اور انھیں جذب و انجذاب کے مراحل سے گزارنے کا باعث بنی۔
مکے میں اگر آپکی دعوت کا محور ایمان باللہ، ایمان بالاخرت اور توحید و رسالت تھا اوربحیثیت داعی الی اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھتیوں کو سلجھانے، ایمان کی دعوت دل نشیں پیرائے میں دل میں اتارنے اور قلب و نظر کی دنیا کو فتح کرنے میں مصروف تھے تومدینے میں اسلامی ریاست کی تشکیل کے ذریعے حکومت الٰہیہ کے قیام سے اسلام کو مقتدر اور فرمانروابنانے کی جدوجہد میں سراپا متحرک نظر آتے ہیں۔
مکے میں اگر توحید پر مرمٹنا ، احد احد پکارنا اور اسی پر جم جانا دعوت تھی تو مدینے میں اللہ کی سرزمین پر اللہ کی حاکمیت کا قیام اور اسی کا نظام دعوت قرار پایا تھا۔ (للہ الواحد القہار)… نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نبی آخر الزماں ہیں، نبوت کا سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تمام ہوا۔اب کوئی نبی نہیں آناہے۔قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تبارک وتعالیٰ نے لیاہواہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور شریعت بھی محفوظ ہے۔ اب قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت آپ کی قائم مقام ہے۔ فرمایا:
کنتم خیر امۃ اخرجت للنا س تأمرون بالمعروف وتنھون عن المنکر و تؤمنون باللہ(اٰ ل عمران۳:)
’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہوجسے انسانیت کی ہدایت و اصلاح کیلئے میدان میں لایا گیاہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘
جس مشن کو لیکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے اور اس کو اعلیٰ ترین صورت میں پورا کیا، پوری امت کی ذمہ داری ہے کہ اس مشن کی علمبردار بنے۔
شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...