یہ تیرا پاکستان ہے یہ تیرا پاکستان ہے

27 فروری 2010
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی
کچھ عجیب صورتحال گزشتہ دنوں پاک وطن کے دل لاہور میں اس وقت پیدا ہوئی جب صوبائی اسمبلی میں نعت رسولﷺ پر بالواسطہ پابندی کی تجویز ہوئی۔ پھر اہل غیرت مزاحم ہوئے تو یہ مسئلہ متنازعہ تسلیم کرکے کمیٹی تشکیل دیدی گئی۔ گویا نعت رسولﷺ امرمتنازعہ ہوگیا۔ غلامی رسولﷺ متنازع ہوگئی اور پھر سادہ سا نتیجہ یہ ہوا کہ نظریۂ پاکستان اور خود نظریے کا نتیجہ پاکستان بھی متنازع ہوگیا۔کیونکہ:پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالٰہ الا اللہ…اور لاالٰہ الا اللہ کا تصور محمد رسولﷺ کے بغیر ہر گز ہر گز پورا نہیں ہوتا۔
خیر۔ ہماری اسمبلیوں میں پلازوں کی بحث پر کئی عزت دار اپنے استحقاق کا دفاع کرتے تھے لیکن ناموس رسول اللہﷺ کے دفاع کے موقعہ پر انکے دل پر اندھیرا چھا گیا۔ محبت کی چادر پر بے حسی کا غبار چھا گیا اور غفلت کے پردے نے ان کو غیرت دینی و ایمانی سے بے بصیرت کردیا۔ مجھے اس پتھردلی نے دردناک حیرت سے آشنا کیا ہے۔
صاحبو! اس دنیا میں آنکھیں کھولنے کے فوراً بعد میرے کان میں میرے باپ نے:
اشہد ان لاالٰہ الا اللہ‘ واشہد ان محمد رسول اللہکا نغمۂ شیریں انڈیلا تھا۔ تب سے یہ نام خدا و مصطفیﷺ اکٹھا ہی میرے ننھے دل میں اتر گیاتھا۔ پھر مراحل عمر و شعور کے ساتھ میری جان اور میرے ایمان میں اکٹھا ہی بڑھتا رہا۔ مجھے نام محمدﷺ کبھی بھی خدا سے جدا نظر نہیں آتا کیونکہ میرے اجداد نے جب اسلام کا طوق گلے میں ڈالا تھا تو:
لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھا تھا۔اللہ محمدؐ ایک ہی وقت، ایک ہی سانس، ایک ہی تصور اور ایک ہی محبت میں پڑھا تھا۔سرور ایمان سے اور وفورِ ایقان سے یہ کہا تھا:
خدا کہتے نہیں بنتی، جدا کہتے نہیں بنتی
خدا پہ تم کو چھوڑا ہے خدا جانے کہ تم کیا ہو
دوستو!یہ محمد مصطفیﷺ کا عطا کردہ اعزاز ہے کہ انکے غلاموں کے بنائے ہوئے پاکستان کی اسمبلیوں میں عزت دار بنے ہوئے ہو ورنہ اس کرم کے بغیر کیا شودر اور کیا برہمن سب ہی تو پتھروں پر اپنا ایمان جمائے بیٹھے ہوتے۔ لیکن تمہارے دل خود ہی پتھر ہیں۔ اندر کے بت اسی طرح برقرار ہیں‘ اسی لئے تو مصطفیﷺ کی نعت سے تمہاری طبیعتیں خراب ہوتی ہیں کیونکہ سب سے پہلے اور سب سے بڑی نعت تو خدا نے فرمائی ہے۔ کثرت کے پجاریوں کو خدا سے بھی بیر ہے‘ اسی لئے وہ اسکے محبوبؐ اور اسکے ممدوح کی تعریف سننا نہیں چاہتے۔
صاحبو! یہ سطریں لکھ رہا ہوں صبح کی اذان ہو رہی ہے، مئوذن شہادت توحید کیساتھ شہادت رسالتؐ بھی دہرا رہا ہے۔ پانچ وقت یہ شہادت دہرائی جاتی ہے۔ پھر نماز میں بھی یہ شہادت بار بار بطور عبادت پڑھی جاتی ہے اور لفظ محمدﷺ اس شہادت کا مرکزی لفظ ہے۔ یہ لفظ ہر پہلو سے دنیا کی مختصر ترین اور جامع ترین نعت ہے اور یہ نعت حمد سے برآمد ہوتی ہے۔ محمدﷺ کا مطلب ہے وہ ذات جو ہر وقت اور ہرجگہ، ہر پہلو سے، اور ہر انداز سے تعریف ہی تعریف ہے اور یہ نام خدائے وحدہ لاشریک کا عطا فرمودہ ہے۔ لہٰذا آقا کریمﷺ کی یاد سے، بات سے اور نعمت سے ایک لمحے کیلئے بھی کسی انداز کا انکار گستاخی کے زمرے میں آتا ہے۔
نعت ایمان کی ضمانت ہے۔ حضورﷺ کی تعریف فی الحقیقت الم سے شروع ہوکر قل اعوذ برب الناس تک جا پہنچتی ہے۔دین خدا کی اشاعت میں جب گستاخان محمد مصطفیﷺ رکاوٹیں ڈالتے تو ان کا انداز یہ تھا کہ حضورﷺ کے بارے میں نازیبا کلمات کہیں کیونکہ وہ خدا سے مقابلہ اسی انداز سے کر رہے تھے جو بات خدا فرمائے تم اس سے الٹ بات کہو۔ خدا رسول پاکﷺ کی تعریف کرے تم مذمت کرو۔ یہ کفر و نفاق کی ایک منظم چال تھی۔ خدائی اہتمام اور مصطفائی نظام نے یہ ابلیسی چال ناکام بنا دی۔ سب سے بڑے گستاخ ولید ابن مغیرہ کوقرآن نے کہا:’’عتل بعد ذالک زنیم۔‘‘ درشت خو اور بداصل ہے۔ یعنی حرامی ہے۔ اور سرکار ایمان مدارﷺ نے حسان بن ثابتؓ کو بلوا کر فرمایا کہ ابوبکرؓ سے مضمون سیکھ لو اور ان گستاخوں کا جواب دو۔ پھر خدائی اطاعت میں تعریف محمدمصطفی ﷺ کا اہتمام اس خوبصورت قرینے سے ہوتا تھا کہ ثناء خوان محمد مصطفیﷺ حضرت حسان بن ثابتؓ منبر پر تشریف فرما ہوتے اور ممدوح خدا و محبوب رب علاکی موجودگی میں نعت پڑھتے۔ سرکار ابد قرارﷺ ان کو دعا دیتے کہ: اللہ تعالیٰ جبریل کو بھیج کر نعت گوئی میں ان کی مدد فرما۔ گویا نعت کی روح بواسطہ جبریل قلب حسان پر وارد ہوتی تھی۔یہ مجلس رسول اللہﷺ کا مزاج تھا اور صحابہؓ کامزاج کلام بھی نعت تھا۔ دیکھئے یہ جملہ مدحت کی دیوانہ وار روح لئے ہوئے ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم جب بھی بولتے تو یہ کہتے: یا بی وامی انت یا رسول اللہ
یارسول اللہﷺ میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان۔ بات تو بہت طویل ہو جائے گی۔ مختصر ترین یہ کہ ایمان و عمل کا کوئی کونہ تعریف مصطفیﷺ سے خالی نہیں ہے۔ پاکستان سے محبت بھی ایمان کا ایک جزو ہے اس لئے پاکستان سے محبت بغیر محبت محمد مصطفیﷺ کے ممکن نہیں ہے۔
یہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے
لوگ کہتے تھے لیکن یہ خام خیالی ہے۔
ہاں ہاں یا رسول اللہﷺ یہ تیرا پاکستان ہے یہ تیرا پاکستان ہے۔ اسکی بنیاد میں تیری امت کی بیٹیوں کی عصمت سوئی ہوئی ہے۔ تیرے نظام کے قیام کیلئے تحریک نظام مصطفیﷺ میں تیرے نوجوان غلاموں نے کھلے سینے پر گولیاں کھائی تھیں۔ یا رسول اللہﷺ تیرے پاکستان میں تیرا ہی علم بلند ہوگا۔ تیرے ذکر کو روکنے والے ذلت کا منہ دیکھیں گے اور تیرے غلام تیرے نام سے اپنے وطن ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں اجالا کرینگے۔وہ لوگ جنہوں نے نعت رسولﷺ کیلئے اپنی خدمات پیش کی ہیں خداکرے وہ لائق محبت ہوں۔ انکو ہم نیاز کیشان رسولﷺ کا نیاز مندانہ سلام ہو…ع’’خدا کرے قبول ہو تمہارا عشق مصطفیﷺ‘‘
طاہر ہندلی تیرے خون میں محبت رسولﷺ موجزن ہے۔ اسکی حفاظت کرنا کہ یہ امت کی غیرت کا دفاع کرتی ہے۔ نور نیازی تیری جرأت ایمانی پر رشک آتا ہے۔ اسی عزیمت سے راہ محبت رسولﷺ طے ہوا کرتا ہے۔ ہاں ثناء اللہ مستی خیل تیرے والدین کو سلام کہ انہوں نے تیرا نام ثناء اللہ رکھا اور تو نے اس نام کی لاج رکھی۔ ثناء اللہ تو ہوتا ہی وہ ہے جوثنائے مصطفیﷺ کو وظیفۂ ایمان بنائے۔ نوشیر لنگڑیال تمہاری جوانی مِلتوں کے وقار کا مژدہ مستقبل ہے۔ وارث کلّو قافلۂ جانثاران مصطفیﷺ کا تازہ دم سپاہی ہے۔ تیرا ہر جملہ دشمنان دین کیلئے نشتر ہے۔ عظمیٰ بخاری تو ہر یزید عصر کو خطبۂ زینب سناتی رہے اور دین مصطفیﷺ کی مجاہدہ بنے اور تم لوگوں نے ثابت کردیا کہ یہ پاکستانی پنجاب کی اسمبلی ہے۔اس کمیٹی کا ایک ممبر خلیل طاہر سندھو بھی ہے۔ وہ مذہباً عیسائی ہے۔ اس نے کیا خوبصورت بات کی اور یہ بات نام نہاد مسلمانوں کیلئے بیداری کا پیغام ہے۔ اس نے کہا کہ اگر کوئی میرے نبی جناب عیسٰی علیہ السلام کی تعریف کرے تو میں اس کے قدم چوم لوں گا۔ ارے تم کیسے مسلمان ہو کہ اپنے نبیﷺ کی تعریف و ثناء پر بخل کرتے ہو اور اسے روکتے ہو۔ خلیل سندھو تیرا ہر جملہ دنیا ہی میں بہترین اجر دلوائے گا۔ وہ 60/50 ممبران جنہوں نے بائیکاٹ کیا ہماری دنیائے دل میں ایک اونچا مقام رکھتے ہیں۔ وہ دینی جماعت کا پیکر ہیں۔ خدا ہر دو جہان میں انہیں باعزت و باوقار رکھے۔ ان کی عزت کا گراف اہل ایمان کے دلوں میں بڑھ گیا ہے۔ مجھے ان کم ظرف نیم مسلمانوں سے کوئی گلہ نہیں جنہوں نے گٹھ جوڑ کرکے نعت پر پابندی لگوانے کی مذموم سازش کی اور دراصل یہ سازش پاکستان کو سیکولر سٹیٹ بنانے کی عملی کارروائی ہے کیونکہ انڈیا کے چُوری خور نیشنلسٹ دانشور قبائے دین میں لپٹے سیکولرازم کی برکات کو گنواتے تھکتے نہیں ہیں۔ حیرانی تو ان ذمہ داران پر ہوتی ہے کہ جن کے آباو اجداد نے نعت کو انکی گھُٹی میں پلایا تھا لیکن ان کے حلقہ بگوش سیاسی مریدین انکے دور حکومت میں یہ ناشائستہ اور دین بیزار حرکت کا مظاہرہ کریں۔پنجاب صوفیاء کرام کی دھرتی ہے۔ یہاں محبت رسولﷺ ہی سے ایمان کی نبضیں چلتی ہیں۔ یہ اقبالؒ کی سرزمین ہے جسکی شاعری کی پیشانی ان جلی متبرک کلمات سے مزین ہے…؎
بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر با اونر سیدی تمام بولہبی است
جناب نوازشریف صاحب آپکو یاد ہوگا کہ جب جامعہ نعیمیہ میں آپکی تشریف آوری کے موقعہ پر حاضر علماء نے راقم کو اپنا نمائندہ بنا کر آپ سے گفتگو کرنے کو کہاتھا کہ میں آپکو یاد دلائوں کہ 295C آئینی شق کو تبدیل کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں اور آپ خاموشی سے حالات کو گزرتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ وقت گزر جائے اور طوفان کی تیزی سب کچھ اڑا کر لے جائے۔ شہید پاکستان ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے بھی پرزور تائید کی تھی کہ ہماری دوستی اور دشمنی کا معیار محض ذات رسولﷺ ہے۔ یہ ہمارا ایمانی اصول دائمی ہے۔ اقتدار کی قوت شرپسندوں کی شورش اور مکاروں کی سازش کا خوف ہمیں اصول ایمان سے دستبردار نہیں کرواسکتا۔ جناب نوازشریف نے جواباً یہ کہا کہ یقینا ناموس مصطفیﷺ کا تحفظ ہمارا اولین فریضہ ہے اور مجھے تو یہ اقتدارایک امتحان ہی نظر آتا ہے۔
جناب نوازشریف سے اتنا ہی عرض کرنا مقصود ہے کہ آپ بطورِ رہبرِ حزب اختلاف بھی نہایت ہی اہم ذمہ دار فردِ ملت ہیں۔ پنجاب میں آپکی حکمران پارٹی کے اقتدار مست کارکن نعت پر پابندی لگوانے کیلئے کمیٹی بنواتے ہیں اور اس ملک کو سیکولرازم کی طرف دھکیل رہے ہیں اور یہ شروعات آپکی پارٹی کی جانب سے ہو رہی ہے۔ یہ اقتدار بالکل ہی سراب، سراب، سراب ہے۔ جھنڈا صرف نبیﷺ کا اونچا رہے گا چڑھتے سورج غروب ہوتے ہیں موجیں مارتے دریا صحرا میںبدل جاتے ہیں…؎
تمہیں خبر نہیں شاید کہ دین حق کا چراغ
ہوائے تند کے با وصف جلتا رہتا ہے
وزارتوں کے مقدر پہ ناچنے والو
وزارتوں کا مقدر بدلتا رہتاہے