آقائے دو جہاں ﷺ

27 فروری 2010
لاکھوں درود وسلام کائنات کی سب سے بڑی ہستی مبارکہ پر جس کے 12 ربیع الاول کو ظہور اقدس نے دنیا کو نور کی کرنوں سے منور کردیا۔ وہ کیا بابرکت اور عظیم گھڑی تھی جب حضرت آمنہؓ کا لال چندے ماہتاب بن کرصحرائے عرب کے آسمان پر طلوع ہوا۔ بنوہاشم کی خوش قسمتی کا کون اندازہ کرسکتا تھا کہ انکے قبیلے میں خاتم النبینؐ کا ظہور ہوا ہے جسکے چمک دمک کے سامنے ہر نگاہ خیرہ تھی۔ حضرت عبدالمطلب کا پوتا خوبصورتی، سچائی، راست بازی، حکمت اور ذہانت کا ایسا حسین مرقع تھا جو تمام انسانیت کیلئے رحمت بن کر دنیا میں تشریف لایا تھا۔
مصطفیٰؐ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
اس شمع رسالت پہ لاکھوں سلام
کعبہ میں حجراسود کے نصب کرنے پر اہل عرب کے قبائل میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے اور ایسا لگ رہا تھا کہ شدید اور خونریز لڑائی ہوگی مگر قربان جاؤں میں نوجوان محمد ؐ کی فہم وفراست پر کہ حجراسود کو ایک چادر میںرکھا۔ تمام قبائل کے سرداروں سے کہا کہ ہر کوئی اس چادر کا ایک ایک کونا تھامے اور اس چادر کے ذریعے اسکو سب سردار اٹھا کر کعبہ کے قریب لائیں پھر آپ نے اپنے دست مبارک سے حجراسود کو مقام کعبہ کی جگہ پر نصب کردیا جنت کے اس پتھر کی خوش نصیبی پر ہر جاندار اور بے جان اشیاء محو رشک ہیں دل سے ایک آہ اٹھتی ہے کاش ہم جیسے گناہ گار بھی جنت سے نکالے ہوئے کوئی پتھر ہوتے اور نبی کریمؐ کے مبارک ہاتھوں کے لمس سے ایسا نصیب پاتے کہ تاقیامت لاکھوں مخلوق خدا اسکو چومنے کیلئے بیتاب رہتے۔ نوجوان محمدؐ نے ایسی تجارت کی بنیاد رکھی کہ اہل عرب وعجم حیران رہ گئے۔ آپؐ اپنے خریدار کو اپنے تجارتی مال کی تمام خرابیوں سے بھی آگاہ کردیتے تھے۔ حضرت خدیجہ ؓ نوجوان محمدؐ کی ایمان داری، سچائی، دیانت، ذہانت اور فہم وفراست سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ اپنی زندگی آپؐ کے نام منسوب کردی اور یہ پاکیزہ ہستی ام المومنینؓ کے مقام ومرتبہ پر فائز ہوگئیں۔محمدؐ کس قدر صادق اور امین تھے، اہل عرب ان پر کس حد تک اعتماد کرتے تھے، اس کا اندازہ آپ کے اعلان نبوت کے موقع پر کیا جاسکتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا ’’اے لوگو! اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ پہاڑی کے اُس پار دشمن کا ایک لشکر تمہارے اوپر حملہ کرنیوالا ہے تو کیا آپ سب لوگ اس پر یقین کرلیں گے، تو اہل عرب نے یک زبان ہوکر کہا کہ آپؐ کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ قابل اعتبار ہے اورآپؐ کی صداقت کی گواہی دیتا ہے تو ہم کیسے آپؐ جیسے انسانِ کامل کی زبان پر یقین نہیں کرینگے۔ آپؐ نبوت کے مقام پر فائز ہوئے تو اہل کفار نے ہر طرح کی تحریب وترغیب سے آپؐ کو دعوت اسلام سے روکنا چاہا مگر میرے نبی کریمؐ نے جواب دیا آپ میرے ایک ہاتھ پر چاند رکھ دیں اور دوسرے ہاتھ پر سورج، میں تب بھی دین خدا کی تبلیع سے باز نہیں آؤں گا۔
اہل مکہ نے آپؐ اور آپؐ کے جلیل القدر ساتھیوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ ڈالے مگر آپؐ صابر وشاکر رہے اور کبھی اپنی امت کی تباہی وبربادی کی دعا نہیں مانگی۔ طائف میں میرے حضورؐ شدید زخمی تھے پاؤں مبارک میں موزے خون سے آلودہ ہوگئے ،آپؐ آرام کیلئے ایک باغ میں ٹھہرے۔ حضرت جبرائیلؑ تشریف لائے اور بصد احترام عرض کیا! اے اللہ کے رسولؐ حکم ہو تو اس بستی کے مکینوں کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس کے رکھ دوں۔ رحمت اللعالمین حضورؐ نے جواب دیا نہیں میری امت کے یہ لوگ نادان ہیں، انہیں سمجھ نہیں ہے میں ان کیلئے ہمیشہ ہدایت اور بخشش کا طلب گار رہوں گا۔‘‘
قارئین ! پھر چشم فلک نے وہ عظیم نظارہ بھی دیکھا کہ آپؐ فاتح بن کر مکہ میں داخل ہوئے، خانہ کعبہ کو بتوں سے صاف کیا اور اپنے ہر دشمن کو معاف کردیا اور سب کوجان کی امان دیدی کیونکہ آپؐ نے توحید کے نظریے کو ثابت کردیا۔میرے نبی ﷺ نے توحید کیا بتائی ؟ ’’کہو! اللہ ایک ہے، وہ صمد ہے، اسے کسی نے نہیں جنا ہے اور نہ وہ کسی سے جنا گیا ہے اس کی ذات یکتا ہے۔‘‘نبی کریمؐ نے دنیا کو انسانیت کا عظیم چارٹر دیا جس کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی اور اصول کی ضرورت نہیں ہے حجۃ الوداع کے موقع پر آقائے نامدارؐ نے فرمایا۔اے لوگو! ’’گواہ رہنا، گواہ رہنا، میں نے اللہ کا پیغام تم سب تک پہنچا دیا ہے، آج تمہارا دین مکمل ہوگیا، کسی گورے کو کسی کالے پر کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی آقا کو کسی غلام پر کوئی فضیلت نہیں ہے، تم میں افضل ترین شخص وہ ہے جو تقویٰ میں بہتر ہے، تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘
میرے حضورؐ ہم آپؐ سے شرمسار ہیں کیونکہ ہم آپؐ کی راہ ہدایت سے ہٹ چکے ہیں، ہم دعویٰ تو آپؐ سے محبت کا کرتے ہیں مگر ہمارے دل حرص اور طمع سے بھرے ہوئے ہیں، ہم طاقتور کے غلام ہیں، ہم اپنے بھائیوں کو کلمے کے نام پر قتل کررہے ہیں اور تیرے دین کو دنیا میں رسوا کررہے ہیں، تیرا دین تو اللہ کا دین ہے، ہم تو اپنے آپ کو رسوا اور ذلیل کررہے ہیں کیونکہ ہم آپؐ بتائے ہوئے راستے سے ہٹ چکے ہیں اور اپنی خواہشات کے اسیر ہو کر اسکو مذہب کا نام دے رہے ہیں۔ آپؐ نے تو مدینہ میں غیر مسلموں کو بھی جان کی امان دیدی تھی مگر ہم اپنے ہی بھائیوں کو مسجدوں، بازاروں، سڑکوں پر ہلاک کر رہے ہیں اور ہم کس قدر ظالم ہیں یہ سب کچھ آپؐ کے اس دین کے نام پر کررہے ہیں جو امن اور سلامتی کا مذہب ہے، جہاں کسی ایک بے گناہ کی ہلاکت تمام انسانیت کا قتل سمجھی جاتی ہے۔ ہمارے اندر رواداری، برداشت، اتحادواتفاق ختم ہوچکا ہے۔ یہ پاکستان اس لئے حاصل کیا گیا تھا کہ یہاں صحیح اسلامی اصولوں کیمطابق فلاح وبہبود پر مبنی ریاست تشکیل میں آئیگی جہاں تمام افراد کو زندگی گزارنے کے آبرومندانہ ذرائع میسر ہونگے مگر ایسا نہیں ہوا کیونکہ ہم نے آپؐ کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرنے کی بجائے اہل یہود و نصاریٰ کو اپنا رول ماڈل بنا لیا ہے۔ اے پیارے نبیؐ قیامت کے روز ہم اپنا روسیاء چہرہ آپؐ کو کیسے دکھائیں گے ؟ اور آپؐ سے شفاعت کی سفارش کیسے حاصل کریں گے؟میرے محبوبؐ ہم بڑے خوش ہیں کہ آپؐ اس جہان فانی میں تشریف لائے اور نور کا آفتاب بن کر چمکے آج کے دن ہمیں آپؐ سے عہد کرنا ہے کہ آپؐ غلام قیامت کے رو ز آپؐ سامنے شرمساری سے بچ جائیں کیونکہ آپؐ کے ہی دم سے ہم گناہ گاروں کی زندگی کا کوئی جواز موجود ہے کیونکہ آپؐ ہی کی ذات بابرکت سے یہ کائنات خدا نے برقرار رکھی ہوئی ہے۔
وہ دانائے سُبل، ختمُ المرسل، مولائے کل جس نے
غبارے راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
نگاہ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآن وہی فرقان وہی یٰسین وہ طہٰ