A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

پاکستان بھارت مذاکرات ناکام‘ مزید کی ضرورت نہیں

27 فروری 2010
پاکستان اور بھارت کے درمیان خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر نئی دہلی میں ہونے والے مذاکرات میں کوئی خاص پیش رفت نہ ہو سکی‘ بھارت اپنے مؤقف پر بضد رہا‘ پاکستانی مؤقف کو درخوراعتناء نہ سمجھا گیا۔ اس طرح بے معنی مذاکرات بے معنی طور پر ختم ہو گئے۔ مذاکرات سے قبل دونوں سیکرٹریز نے ون آن ون ملاقات کی جو ڈیڑھ گھنٹے جاری رہی‘ بعدازاں وفود کی سطح پر ایک گھنٹے سے زائد مذاکرات ہوئے‘ مذاکرات کے بعد کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا تاہم وفود کے سربراہان نے الگ الگ پریس کانفرنس کی۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ شریمتی نروپمارائو نے کہا کہ ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد کی کمی پائی جاتی ہے‘ پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات شروع کرنے کا ابھی وقت نہیں آیا‘ بلوچستان پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے‘ پاکستان نے بلوچستان سے متعلق کوئی ثبوت نہیں دیئے‘ افغانستان پر پاکستانی وفد کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی‘ دریں اثناء بھارتی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات کے دوران کشمیر کے مسئلے پر بات چیت نہیں ہوئی۔ پاکستانی وفد پانی کشمیر اور دوسرے معاملات پر بات نہ کر سکا‘ بھارت کیلئے یہ مذاکرات کامیاب جبکہ پاکستان کیلئے ناکام رہے۔
بھارت نے پاکستان کو مذاکرات کی دعوت دی تو حکومت پاکستان خصوصی طور پر وزارت خارجہ کی طرف سے اس کا بھرپور خیرمقدم کیا گیا‘ فوری طور پر وفد تشکیل دے کر مذاکرات کا شیڈول طے کردیا گیا‘ تاہم بھارتی حکمرانوں کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کے بعد نہ صرف کوئی جوش و خروش دیکھنے میںنہ آیا بلکہ بھارت نے پاکستان کو دہشت گرد اور ناکام ریاست قرار دینے کیلئے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ جن مذاکرات کی بھارت نے خود پیشکش کی تھی‘ اس سے راہِ فرار اختیار کرنے کی کوششیں شروع کر دیں‘ وزیر خارجہ‘ وزیر دفاع اور وزیر داخلہ تک نے اپنے اپنے بیانات میں دہشت گردی اور ممبئی حملوں کو مذاکرات کا محور و مرکز قرار دیا۔ وزیراعظم من موہن سنگھ نے برملا کہا ہے کہ اگر پاکستان دہشت گردی کے علاوہ کسی اور موضوع پر مذاکرات کا ارادہ رکھتا ہے تو اسکے وفد کو بھارت آنے سے روک دیا جائے۔ من موہن سنگھ کے بیان کے بعد پاکستانی وفد کا دہلی جانے کا کوئی جواز نہیںتھا۔ پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے بھارت روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا ’’کشمیر پاکستان کی ترجیح ہے‘ بھارت سے پانی سمیت تمام مسائل پر بات چیت ہو گی‘ مذاکرات کا ایجنڈہ اوپن ہے‘‘۔ لیکن ہوا وہی جس کا خدشہ تھا۔ بھارت دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ٹھہرا‘ امریکہ اور دیگر اسلحہ کے بیوپاری ممالک کو باور کرادیا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات بڑی کامیابی سے جاری رہیں۔
آج پاکستان کو پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے‘ اسکی وجہ بھارت کی طرف سے پاکستان میں داخل ہونے والے دریائوں پر 62 سے زائد ڈیموں کی تعمیر اور باقی پانی کا نہریں کھود کر رخ تبدیل کر دینا ہے۔ آج پاکستان میں وسیع و عریض رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہو رہی ہیں‘ اگلی فصل کی بوائی میں مشکلات کا سامنا ہے‘ پاکستان اور بھارت کے مابین سب سے بڑا تنازعہ مسئلہ کشمیر ہے‘ اسی مسئلہ کی وجہ سے پانی کا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ بھارت افغانستان کے راستے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مداخلت کر رہا ہے‘ بلوچستان میں اسکے ایجنٹ علیحدگی پسندوں کو اسلحہ اور ڈالر فراہم کر رہے ہیں‘ یہی برننگ ایشو تھے جن پر بات چیت کی ضرورت تھی اور مذاکرات کے دوران انہی موضوعات پر پاکستانی وفد کو بات تک نہ کرنے دی گئی۔ تاہم پاکستانی سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے پریس کانفرنس کے دوران یہ کہہ کر اپنی بھڑاس ضرور نکالی کہ ’’پاکستان نہیں چاہتا کہ بھارت مذاکرات کے نام پر کوئی ڈکٹیشن دے‘ بھارت میں ایک ممبئی حملہ ہوا پاکستان میں ایسے سو سے زائد واقعات ہو چکے ہیں۔ ممبئی حملوں کو بنیاد بنا کر مذاکرات کا سلسلہ روکنا دانشمندی نہیں‘ بڑی غلطی ہے۔‘‘ یہ سارا کچھ تو سیکرٹری خارجہ پاکستان میں بھی کہہ سکتے تھے‘ صرف سوا گھنٹے کے مذاکرات کی کیا ضرورت تھی‘ یہ سوا گھنٹہ بھی وفود کے تعارف اور حال احوال پوچھنے میں گزر گیا ہو گا۔
مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت کے مابین 62 سال سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے‘ کسی مسئلہ کے حل کیلئے مذاکرات اور وقت کی کوئی حد ہوتی ہے‘ 62 سال کوئی کم عرصہ نہیں‘ بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپمارائو نے پھر کہہ دیا ہے کہ ابھی جامع مذاکرات شروع کرنے کا وقت نہیں آیا۔ وہ وقت کب آئیگا؟ دوسری طرف وزیراعظم گیلانی اسی پرخوش ہیں کہ وزارت خارجہ کا وفد بھارت چلا گیا۔ انہوں نے مذاکرات کے نتائج سے بے خبر رہتے ہوئے بیان داغ دیا کہ ممبئی حملوں کے بعد بھارت سے پاکستان کے مذاکرات کا آغاز انکی حکومت کی کامیابی ہے۔ گزشتہ روز نشستند‘ گفتند اور برخاستند کے بعد پاکستانی وفد واپس پہنچ گیا‘ سیکرٹری خارجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں لیکن ایجنڈے کے بغیر مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر انکی یہی سوچ ہے تو بھارت لینے کیا گئے تھے؟ جبکہ دونوں ممالک تو ایک ایجنڈے پر متفق ہی نہیں تھے۔ آپکا ایجنڈہ تو اسی وقت غرق ہو گیا تھا جب پانی اور کشمیر کے ماہرین کو مبینہ بھارتی دبائو پر وفد سے ڈراپ کردیا گیا تھا۔
آج پاکستان کی سلامتی اور استحکام کو سب سے بڑا خطرہ پانی کی کمی کی صورت میں لاحق ہے‘ جس کا سبب بھارت کی آبی دہشت گردی ہے۔ مکار ہندو بنیے نے پاکستان کا وجود کبھی برداشت نہیں کیا اس کو ایک موقع ملا تو اس نے اپنی مکروہ سازشوں اور پاکستان کے غداروں کے ذریعے مملکت خداداد کو دولخت کر دیا۔ وہ موجودہ پاکستان کے حصے بخرے کرنے سے بھی گریز نہ کرتا لیکن آج الحمدللہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔ پاکستان کے ایٹمی گھوڑوں اور بھارت کے ایٹمی گدھوں کا کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔ بھارت جنگی میدان میں مقابلہ کرنے کے قابل نہیں‘ اس لئے وہ آبی دہشت گردی کی صورت میں پاکستان کو بنجر بنا دینا چاہتا ہے۔ پانی کا مسئلہ فوری حل کا متقاضی ہے‘ اس کیلئے مہینوں اور برسوں کی تاخیرناقابل برداشت ہے۔ بھارت مذاکرات کے ذریعے یہ مسئلہ کبھی حل نہیں کریگا‘ کانگریس حکومت ببانگ دہل کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے رہی ہے‘ انکے وزیر داخلہ نے تو آزاد کشمیر پر بھی اپنا دعویٰ جتا دیا ہے۔ ایسی صورت میں مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے؟ حکومت پاکستان نے اتمام حجت کے طور پر ایک مرتبہ پھر نئی دہلی جا کر دیکھ لیا لیکن بھارت کی طرف سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ پانی ہی ہماری زندگی ہے‘ کشمیر سے آنیوالا پانی پاکستانیوں کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہا ہے‘ حضرت قائداعظمؒ نے پانی کی وجہ سے ہی کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ آج اس شہ رگ پر بھارت نے آخری حد تک دبائو بڑھا دیا ہے‘ بھارت کے قبضہ سے اپنے حصہ کے پانی کی واگزاری ناگزیر ہو گئی ہے‘ اس کیلئے آج قومی اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے تو پانی کا مسئلہ خودبخود حل ہو جائیگا۔ حکومت پاکستان کو بھارت کے ساتھ مذاکرات کا آپشن یکسر مسترد کردینا چاہئے اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھانے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے‘ اگر جلد کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہوتا نظر نہیں آتا تو آخری حد تک جانے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہئے۔ آخری حد کا مطلب سب سمجھتے ہیں‘ ایٹم بم ہم نے شوکیس میں سجانے کیلئے نہیں بنائے۔
وزیر خزانہ کی تقرری کیلئے
آئی ایم ایف سے مشاورت؟
سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کے مطابق اقرباء پروری نے ملک میں ادارے تباہ کر دیئے ہیں اور اسے ختم کئے بغیر معاملات درست نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ملک میں حکمرانوں کے احتساب کا کوئی نظام نہیں ہے اور اس مسئلے پر وہ کابینہ کے اجلاسوں میں بھی نکتہ چینی کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں قرضے اٹھانے کی بجائے اپنے پائوں پر کھڑے ہونا اور کفایت شعاری کو اپنانا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ حکومت سے درخواست کرینگے کہ کرائے کے بجلی گھروں کے حوالے سے ایشیائی ترقیاتی بنک کی رپورٹ پر من و عن عمل کرے۔ دریں اثناء وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی آج عالمی مالیاتی فنڈ کے ڈائریکٹر سے مشاورت میں نئے وزیر خزانہ کے نام کو حتمی شکل دینگے۔
یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ سابق وزیر خزانہ کے متعدد معاملات پر حکومت سے اختلافات تھے جو بالآخر انکے استعفیٰ کا باعث بنے۔ حکومت میں موجود ایک انتہائی مضبوط لابی ان کیخلاف سرگرم عمل تھی کیونکہ وہ معاشی معاملات میں سو فیصد شفافیت کے علمبردار تھے جو حکومتی حلقوں کو ناگوار گزرتا تھا۔ کرائے کے بجلی گھروں کی تنصیب کے معاملے پر سابق وزیر خزانہ کا دوٹوک موقف سب کے سامنے ہے۔ وزارتوں کے شاہانہ اخراجات پر بھی وہ چیں بچیں تھے مگر کروفر کے رسیا حکمران انکے کفایت شعاری پر مبنی خیالات کو پرکاہ کے برابر اہمیت نہیں دیتے تھے۔ چونکہ شوکت ترین ایک معقول مدت تک ملک کے معاشی امور کے نگران رہے ہیں‘ لہٰذا ان کے پند و نصائح سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو چاہئے کہ گڈگورننس کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے حکومتی اخراجات میں معتدبہ تخفیف کرے‘ نیز اقربا پروری اور بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے بے لاگ احتساب کا صاف شفاف نظام وضع کرے۔
نئے وزیر خزانہ کے تقرر میں عالمی مالیاتی ادارے سے مشاورت نہ صرف غیرضروری ہے بلکہ ہماری حاکمیت اعلیٰ کے بھی سراسر خلاف ہے۔ پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے کی خاطر وطن عزیز کو امریکہ بہادر کی ایک باجگزار ریاست بنانے کی جو قبیح حکمت عملی اختیار کی تھی‘ اس کے اثرات بد ہمارے قومی رگ و پے میں سرایت کر چکے ہیں اور یہ مشاورتی عمل دراصل انہی کا شاخسانہ ہے۔ امریکہ کے طفیلی عالمی مالیاتی اداروں پر ہمارا انحصار اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ اسلام آباد کی اہم وزارتوں کو چلانے کیلئے مطلوبہ افراد کی تقرری بھی ان اداروں کی مشاورت کے بغیر ممکن نہیں رہی۔ صدر اور وزیراعظم یوں تو بار بار دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کی خودمختاری اور حاکمیت اعلیٰ کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائیگا مگر زمینی حقائق اسکے برعکس ہیں۔ جس کی تازہ ترین مثال نئے وزیر خزانہ کی تقرری کیلئے آئی ایم ایف سے مشاورتی عمل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ایک انتہائی اعلیٰ اوصاف کے شخص کابطور وزیر خزانہ تقرر کرے اور ملک کو غیرملکی قرضوں کے چنگل سے نجات دلانے کیلئے ایک ٹھوس اور قابل عمل حکمت عملی وضع کرے تاکہ ہم نہیں تو کم از کم ہماری آئندہ نسل تو اپنے کندھوں پر قرضوں کا بار محسوس نہ کرے۔
امن و امان کی خونریز صورتحال
صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں ڈاکوئوں اور چوروں نے 53 وارداتوں کے دوران متعدد شہریوں سے لاکھوں روپے مالیت کی نقدی‘ زیورات اور قیمتی سامان لوٹ لیا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈاکوئوں نے مزاحمت کرنے پر فیکٹری مالک کو فائرنگ کرکے قتل جبکہ خاتون سمیت دو افراد کو شدید زخمی کر دیا۔ اسی طرح ایک میڈیکل سٹور کے مالک سے ایک لاکھ روپے نقدی اور موبائل چھیننے کے بعد اسے گولیاں مار کر شدید زخمی کردیا۔ دیپالپور کی ایک فیملی کار روکی‘ مزاحمت پر خاتون کشور بی بی کو گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا‘ نقدی زیورات اور موبائل چھین کر فرار ہو گئے۔ اسی طرح برکی میں ڈاکوئوں نے رفیق کے گھر سے سترہ لاکھ مالیت‘ سرور رڈ (چھائونی) کے علاقہ میں سلامت کے گھر سے نشتر کالونی میں محمد شریف کے گھر سے گیارہ لاکھ روپے اور دیگر کئی گھروں سے لاکھوں روپے لوٹ لئے‘ مزاحمت پر شہریوں کو گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا۔ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں جرائم پیشہ افراد نے ایک خوفناک طوفان برپا کر رکھا ہے مگر گزشتہ ڈیڑھ دو برسوں میں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پنجاب کے نو کروڑ شہریوں کو ڈاکوئوں‘ لٹیروں‘ قاتلوں‘ چوروں اور راہ زنوں کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ قاتل ایئرپورٹ کے انتہائی محفوظ علاقہ میں گھس کر پولیس کی وردیوں میں ملبوس کئی افراد کو قتل کرکے چلے گئے۔ بھرے پرے شہر میں برسر عام پولیس کے سامنے وارداتیں ہو رہی ہیں۔ سابقہ حکومت نے پولیس کی نفری میں اضافہ کیا‘ انکی تنخواہوں کو دوگنا اور پھر سہ گنا کردیا گیا‘ مگر ہمارے سیاسی حکمرانوں نے وی آئی پی کلچر کو زیادہ پھیلا دیا۔ ایک ایک وی آئی پی کی حفاظت کیلئے ہزاروں پولیس ملازمین مامور ہیں‘ وفاقی اور صوبائی وزیروں‘ مشیروں اور دیگر لوگوں کی حفاظت کی جا رہی ہے‘ عوام کے ٹیکسوں کو کھا جانے اور سرکاری خزانہ کی لوٹ مار کرنے والوں کی حفاظت کی جا رہی ہے‘ مگر اپنے خون پسینہ کی کمائی سے ٹیکس ادا کرنے والے عوام بے یارومددگار سڑکوں پر لٹ رہے ہیں مر رہے ہیں۔ شہریوں کے بہت بڑے حصہ کو یقین ہے کہ چوروں‘ لٹیروں اور ڈاکوئوں کے بھیس میں پولیس ملازمین بھی شامل ہیں۔ موجودہ حکومت پولیس کی نفری میں مزید اضافہ کرنا چاہتی ہے جو شاید مزید وی آئی پی کلچر کی ضرورت ہو گی۔ صرف لاہور شہر کے آس پاس ایک دن میں 53 سے زائد خونریز وارداتیں ہوئی ہیں‘ پورے پنجاب میں کیا حالت ہو گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور صوبہ میں امن و امان کے ذمہ دار حضرات کو چاہئے کہ اس ساری صورتحال کا جائزہ لے کر پولیس حکام‘ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اسکے انسداد کیلئے ہدایات جاری کریں۔