ستائیس دسمبر کا نوحہ ! .....حسب توفیق

27 دسمبر 2008
دو لمحات زندگی میں کبھی نہیں بھول سکتے‘ ایک جب گیارہ برسوں تک اقتدار پر قابض رہنے والے جرنیل کے دور میں وہ واپس آئی تھی اور دوسرا ایک جرنیل ہی کے دور میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گئی۔ ضیاء الحق کا خیال تھا پھانسی کے بعد بھٹو مر جائے گا‘ یہ معجزہ دنیا نے دیکھا پھانسی کے بعد بھٹو پہلے سے زیادہ زندہ ہو گیا۔ مجھے کینٹ سے مینارِ پاکستان کا سفر ابھی تک نہیں بھولتا‘ یہ سفر میں نے ساڑھے نو گھنٹوں میں طے کیا تھا۔ بھٹو کی بیٹی کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے سڑکوں‘ گلیوں‘ چوباروں اور بازاروں میں لوگ یوں نکل آئے تھے کہ انقلاب کا ساماں محسوس ہونے لگا تھا۔ یہ یقیناً ایک انقلاب تھا۔ گیارہ برسوں میں ایک آمر نے بہت سی ’’پالتو سیاسی جماعتوں‘‘ کو سونے کے نوالے کھلا کر ’’بڑا‘‘ کرنے کی کوششیں کیں جو بھٹو کی بیٹی کی وطن واپسی کے بعد ناکام ہو گئیں‘ یہ بات طے ہے پیپلزپارٹی کا مقابلہ صرف حضرت قائداعظمؒ کی مسلم لیگ ہی کر سکتی ہے یہ جو (ق) ‘ (ج)‘ (د) اور (ن) یعنی (الف) سے لے کر (ی) تک لیگیں ہیں ان میں سے کون سی ہے جو حضرت قائداعظمؒ کے اصولوں پر پوری طرح کاربند ہو؟ نون لیگ کا کردار قدرے بہتر ہے مگر قائداعظمؒ ایسی ’’جمہوریت‘‘ کے قائل نہیں تھے جس پر ’’خاندانی اجارہ داری‘‘ کا گمان ہونے لگے۔ ایک وقت میں اقتدار پسند کسی جرنیل کو ملک کیلئے ’’شہد‘‘ اور دوسرے وقت میں اقتدار پسند کسی جرنیل کو ’’زہر‘‘ قرار دیا جانے لگے۔ کتنا بڑا المیہ ہے کہ جرنیل ہمیشہ مسلم لیگ یا مسلم لیگیوں ہی کی مدد سے جمہوریت پر شب خون مارتے رہے اور شاید آئندہ بھی مارتے رہیں گے کہ ملک میں قائم و دائم مسلم لیگیوں نے ماضی سے کوئی سبق سیکھا نہ آئندہ سیکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ کیا یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر آئندہ کوئی اقتدار پسند جرنیل جمہوریت کا تختہ الٹنے کی سازش کرے گا تو کوئی بھی مسلم لیگ اُس کا بیرونی یا اندرونی طور پر ساتھ نہیں دے گی؟ اس ’’المناک داستان‘‘ میں کچھ باریش سیاستدانوں کا تذکرہ بھی ضروری ہے مگر وہ تو ہمیشہ سے ’’برائے فروخت‘‘ رہے۔ مسلم لیگ تو قائداعظمؒ کی جماعت ہے‘ اُس قائداعظمؒ کی جس نے جمہوریت کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا پھر جمہوریت کی یہ کون سی خدمت ہے جب بھی کوئی جرنیل جمہوریت پر شب خون مارے مسلم لیگ یا مسلم لیگیں اسے اپنے کاندھے فراہم کر دیں؟ دو تین برس قبل بینظیر کے حوالے سے یہ تاثر ضرور پیدا ہوا تھا کہ اقتدار کیلئے ایک آمر سے ڈیل کرنے کی خواہشمند ہے این آر او بھی جاری ہوا مگر بعد کے حالات خصوصاً اس کی شہادت نے ثابت کر دیا کہ یہ ان کی سیاسی چال تھی بھٹو اور اُس کے ورثے کا اعزاز ہے جمہوریت کی خاطر جتنی قربانیاں انہوں نے دیں کوئی اور جماعت یا سیاستدان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ جان کی قربانی سب سے بڑی ہوتی ہے۔ یہ قربانی بھٹو خاندان نے بار بار دی‘ طویل عرصے تک جیل کاٹنے کی قربانی بھی کم نہیں ہوتی‘ بھٹو اور اُس کے ورثے نے یہ قربانی بھی اتنی دلیری سے دی کہ وطن عزیز کی سب سے قدآور صحافتی شخصیت نے اس قربانی کے باعث بھٹو کے داماد کو ’’مردِ حُر‘‘ کے خطاب کے اعزاز سے بھی نوازا‘ اب ’’مردِ حُر‘‘ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس اعزاز کی لاج رکھیں جو اُن سے نہیں رکھی جا رہی ہے۔ اُن کے حوالے سے امید ابھی ٹوٹی ہے نہ ٹوٹنی چاہئے۔ آغاز یقیناً قابل فخر نہیں مگر ہم امید پرست ہیں اور امید کرتے ہیں بھٹو کا داماد بھٹو اور اُس کی بیٹی کے اصولوں کو اقتدار پر قربان نہیں کرے گا۔
بھٹو کی بیٹی کی شہادت پر پیپلزپارٹی کے لیڈروں خصوصاً کارکنوں نے بہت آنسو بہائے تھے‘ یہ پورے پاکستان بلکہ دنیا کا دکھ تھا‘ کون سی آنکھ تھی جو اس موقع پر بہہ نہ گئی ہو؟ اس سانحے کو ایک سال کا عرصہ بیت چکا اور بہت سے آنسو اب اقتدار کے سمندر میں غرق ہو چکے ہیں۔ سب سے بڑا المیہ تو یہ ہے ایک سال کا عرصہ بیت جانے کے باوجود شہید بی بی کے قاتلوں کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ اگر یہ واقعہ ان کی اپنی حکومت میں نہیں ہوا تو کبھی نہیں ہوگا۔ میں سوچتا ہوں پیپلزپارٹی کے حکمران آج اُس کے مزار پر کس منہ سے حاضری دیں گے؟ کیا وہاں سے آواز نہیں اٹھے گی‘ میں نے جو وعدے عوام سے کئے تھے‘ کیا ہوئے؟ میرے قاتلوں کو گرفتار نہ کرو مگر عوام کے قاتلوں کو کھلا کیوں چھوڑ رکھا ہے؟ … ایسی بہت سی آوازیں بی بی کے مزار سے اٹھیں گی جسے حکمران ’’فراخدلی‘‘ سے سن تو لیں گے‘ جواب نہیں دیں گے کہ اقتدار کی کچھ ’’مجبوریاں‘‘ ہوتی ہیں۔ کاش پیپلزپارٹی کے حکمران اس حقیقت کو یاد رکھیں اُن کا تعلق ایسی ’’شاخ‘‘ سے جڑا ہوا ہے جسے کسی صورت میں بھی جھکایا نہیں جا سکا تھا۔ اس شاخ پر تو پھول ہی پھول دکھائی دینے چاہئیں تھے۔ آج آنکھوں میں کانٹے کیوں چبھنے لگے ہیں؟ … بی بی کی شہادت کا دکھ ایک سال کے عرصے میں ختم ہونے والا نہیں‘ بھٹو کی موت کا زخم ابھی تازہ ہے تو اُس کی بیٹی کی موت کا زخم ایک سال میں کیسے بھر سکتا ہے؟ وہ ایک خوشبو تھی اور خوشبو کبھی نہیں مرتی‘ جیسے بھٹو پھول تھا اور ٹہنی سے کوئی ایک پھول توڑ بھی دے تو کئی نئی کلیاں پھوٹ پڑتی ہیں … ہر گھر سے بھٹو نکلے گا‘ تم کتنے بھٹو مارو گے؟ … ہر گھر سے بی بی نکلے گی‘ تم کتنی بیبیاں مارو گے؟ وہ ایک بہادر عورت تھی‘ اُسے بتا دیا گیا تھا پاکستان آنا موت کے منہ میں آنے کے مترادف ہے‘ وہ اس کے باوجود آئی‘ عوام کی خاطر اُس عوام کی خاطر جس کے بارے میں اُس کے پاپا نے کہا تھا ’’تمہارا اصل سرمایہ یہی ہیں‘‘ یہ بات مجھے ایک اے ایس پی (حالیہ ڈی آئی جی) نے بتائی تھی جو اُس وقت لاڑکانہ میں تعینات تھا۔ ضیاء الحق کے دور میں بی بی پر ٹارچر کیا جاتا تو ایک ہی بات کہتی ’’مجھے اپنے پاپا کے لوگوں سے جدا نہیں کیا جا سکتا‘‘ پاپا کے لوگوں سے وہ مرکر بھی جدا نہیں ہوئی۔ نہ اُس کا پاپا ہوا تھا۔ کل کی طرح یہ نعرہ آج بھی مقبول ہے جب تک سورج چاند رہے گا بھٹو تیرا نام رہے گا اور اب جب تک سورج چاند رہے گا‘ بی بی تیرا نام رہے گا۔ بھٹو کا نام مٹانے کی کوششیں کرنے والوں کی قبروں پر کوئی جا کر دیکھے اندر بھی وہی ویرانیاں ہیں جو ’’باہر‘‘ ہیں۔ دوسری طرف بھٹو اور اس کی بیٹی کے مزارات ہیں‘ اندر بھی وہی روشنیاں ہیں جو باہر ہیں۔ یہ سبق ہے اُن جرنیلوں اور سیاستدانوں کے لئے جن کی زندگی کا واحد مقصد اقتدار کا حصول رہا۔ اصل بات لوگوں کے دلوں پر حکومت کرنا ہے اور دلوں پر کی جانے والی حکومتوں کو جرنیل ختم کر سکتے ہیں نہ وقتاً فوقتاً اُن کے تلوے چاٹنے والے سیاستدان۔
٭٭٭٭٭٭٭