کُجھ مینوں مرن دا شوق وی سی ..... بے نیازیاں

27 دسمبر 2008
اپنی نظم میں یہ لائن ملتان کے مرحوم شاعر عرش صدیقی نے کس کے لئے لکھی تھی۔ ’’اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے‘‘۔ میں نے بھی اس پیغام سے بہت کام لیا ہے مگر دسمبر نے جاتے جاتے ہم سے بے نظیر بھٹو کو چھین لیا۔ وہ شہید ہو کر محبوب لیڈر ہو گئی۔ منیر نیازی اسی مہینے میں چلا گیا۔ وہ تو مرنے سے پہلے ہی محبوب شاعر تھا۔ مقبول شاعر تو ہوتے ہیں۔ محبوب شاعر تو صرف اور صرف وہی تھا۔ ایک عجیب محبوبیت اور معصومیت اس کے جلال و جمال میں گھلی ہوئی تھی۔ یہ کیفیت ہم نے بے نظیر بھٹو کے چہرے پر مرنے سے چند لمحے پہلے دیکھی تھی۔ بڑا روپ چڑھا تھا۔ اس (منیر نیازی) کے چہرے پر۔ انوکھی چمک اس کی آنکھوں میں تھی ہمیں کیا خبر تھی کہ مر جائے گا۔ بڑا اور سچا شاعر اپنے اندر شہید ہوتا ہے اور شہید ہوتا رہتا ہے۔ شہید بھٹو کے لئے ایک انوکھی پسندیدگی اس کے تن من میں تھی۔ محبت سفر کرتی ہے۔ منیر کے تخلیقی جہان میں یہ خبر کہیں تھی اور وہ باخبر ہونے سے آگے کی منزلوں کا آدمی تھا۔ وہ اہل خبر میں سے تھا۔ اسے شاید معلوم تھا کہ شہادت اور قیادت کی روایت اور حکایت اس گھرانے میں ٹھہری ہوئی ہے۔ ان تاریخوں میں جانے والوں کی خوش قسمتی کے انداز تو دیکھو کہ اس کا اندازہ کرنے کے لئے ہمیں کرسمس اور ولادت قائد اعظم کا خیال آتا ہے ۔ع
اسے کہنا دسمبر جا رہا ہے
دسمبر کی یہ تاریخیں قیادت کی معنویت کو واضح کرتی ہیں۔ میں ستاروں کی گردشوں کو اقتدار کی غلام گردشوں میں بھٹکنے والوں کی آہٹوں سے بھی کم ترجیح دیتا ہوں مگر نظروں اور منزلوں کا کوئی رشتہ تو آپس میں ہے۔ شاعر نے یہ دعا کس کے لئے کی ہے ؎
ترے آسمانوں کے تاروں کی خیر
زمینوں کے شب زندہ داروں کی خیر
مر چکے لوگوں کا یوم ولادت کس طرح کی خوشی کا پیغام لاتا ے۔ یہ خوشی اصل میں سر خوشی ہے اور اس میں کچھ فرق تو ہے۔ وہی فرق جو مستی اور سرمستی میں ہے۔ بلندی اور سربلندی میں ہے یہاں ولادت اور وفات کا فرق مٹ جاتا ہے۔ غم کے اندر ایک رومانی کیفیت بھی ہے جو کسی کو بے قرار کرتی ہے اور سرشار بھی کرتی ہے۔ رومانی کیفیت میں روحانی جذبہ بھی ہوتا ہے۔ منیر نیازی نے رومانیت اور روحانیت کو رلا ملا دیا تھا۔ شہید بے نظیر بھٹو کی برسی پر یہ نعرہ ہر طرف گونجتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
زندہ ہے بی بی زندہ ہے
اور شہید بی بی خود یہ نعرہ لگوایا کرتی تھی
’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘
منیر نیازی بھی زندہ ہے یہ لوگ ہر سال کے بعد زندہ تر ہو جاتے ہیں۔
اوتھوں اگے فراق دیا منزلاں سن
جتھے پہنچ کے اوہدا نشان دسیا
بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی حقیقت ان کی موت نے سمجھائی۔ لوگوں نے ان سے محبت کی اور ان کی شہادت کے بعد زیادہ محبت کی۔ بھٹو صاحب تختہ دار پر جانے سے پہلے تخت والوں سے معاملہ کر سکتے تھے مگر ؎
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
بے نظیر بھٹو سے کہہ دیا گیا تھا کہ آپ وطن جا رہی ہیں لیکن آپ کی جان کو خطرہ ہے مگر ؎
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی تو کوئی بات نہیں
لگتا ہے کہ فیض احمد فیض کی اس طرح کی ساری شاعری شہید بھٹو کے گھر کی طرف جاتی ہے۔ ان گھروں میں کبھی کمی نہیں آئی ؎
کتنے عجیب لوگ ہیں یہ خاندان عشق کے لوگ
کہ ہوتے جاتے ہیں قتل اور کم نہیں ہوتے
منیر نیازی کا یہ شعر اس موقع پر اتنی بار پڑھا گیا کہ لوگوں کو یاد ہو گیا ہے ؎
کچھ شہر دے لوک وی ظالم سن
کجھ مینوں مرن دا شوق وی سی
کوئی ایسا مقام ہے جہاں لیڈر اور شاعر پہنچتے ہیں تو وہ اکیلے ہو جاتے ہیں۔ پھر محبوب اور محبوب لیڈر اور محبوب شاعر میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ حیرانی کی فراوانی ان کی آنکھوں میں جذب ہوتی ہے اور انہیں ایک جاودانی جہان میں لے جاتی ہے۔ محبوب لیڈر محبوب شاعر ہیں۔ تذکیر و تانیث کا جھگڑا نہیں رہتا۔ منیر نیازی کے اس شعر میں نجانے کس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ لوگ اپنے اپنے محبوب کا تصور دل میں لائیں۔ محبوب لیڈر اور محبوب شاعر کے لئے سوچیں اور سوچتے رہ جائیں ؎
کل دیکھا اک آدمی اٹا سفر کی دھول میں
گم تھا اپنے آپ میں جیسے خوشبو پھول میں
دسمبر کی آخری تاریخ کو محرم شروع ہو رہا ہے۔ بے نظیر بھٹو کی پہلی برسی پر صوفیہ بیدار کا یہ شعر دیکھئے ؎
میں رسم شام غریباں نبھانے آئی ہوں
میں خاک کوفہ پلک پر سجا کے لائی ہوں
صدر زرداری کی یہ بات یاد آ رہی ہے کہ اس نے شہید بے نظیر بھٹو کی قبر کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا ’’میری قبر بھی یہاں بنے گی‘‘