ڈر کس کا ہے؟.....د ید شنید

27 دسمبر 2008
کوئی اندازہ کر سکتا ہے بے نظیر سے سیاسی تربیت حاصل کرنے والے کی حاکمانہ کامرانیوں کا؟ اس مظلومہ کو کس نے قتل کیا؟ کیوں قتل کیا؟ مکمل اقتدار اور جملہ اختیارات کے مالک و مختار ہوتے ہوئے بھی وہ پون سال میں قوم کو کچھ نہیں بتا سکے۔ اس مظلومہ کے قتل کو ایک سال ہوگیا اس ایک سال میں اندرون اور بیرون ملک ناقابل یقین تبدیلیاں آئیں اس سانحہ کے نتیجے میں وہ پارٹی جس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو تھے ان کی بیٹی کی وصیت کی قوت سے بھٹو خاندان سے زرداری خاندان کی وراثت قرار پائی کسی جمہوری اور سیاسی حوالے سے نہیں ذاتی حوالے سے دنیا کی سیاسی اور جمہوری تاریخ میں اس وراثت کے انداز میں سیاسی اور جمہوری کہلانے والی پارٹی کی سربراہی کی اس طرح سپردگی بھی ایک عجیب و غریب سپردگی تھی۔ سیاست خاص طور پر جمہوریت کے نام پر کی جانے والی سیاست میں تو نہ کبھی ایسا ہوا ہے نہ ہو سکتا۔ بے نظیر کے قتل کے غم، صدمہ اور دکھ کی وجہ سے اس پارٹی نے اس وصیت کو آمنا و صدقنا کہا ہوگا ملک اور قوم میں سے بھی کسی نے نہ کہا کہ ’’یہ کیا ہے‘‘ اسی سانحہ کے سبب بے نظیر کی عدم موجودگی میں عوام نے ان کی وجہ سے ان کی پارٹی کو وہ نمائندہ قوت دی تھی جس کے زور پر نو ماہ پہلے یوسف رضا گیلانی ملک کے وزیراعظم بنے تھے اور ان کے ساتھ ہی بے نظیر کی زندگی میں ان کی سیکورٹی کے امور کے سربراہ ملک کی ساری سیکورٹی ایجنسیوں کے سربراہ بن گئے تھے بااختیار مشیر داخلہ ان کی امور داخلہ میں آزادی اور خود مختاری کے تحفظ کے لئے کسی منتخب رکن اسمبلی کو ملک کا وزیر داخلہ نہیں بنایا گیا ان کے بیرونی ممالک سے بھی گہرے روابطے ہیں خاص طور پر ان بااثر اور اقوام متحدہ کے مالک ممالک سے جنہوں نے این آر او کرایا تھا اور اس پر پرویز مشرف سے عمل بھی۔ وزیراعظم کے حلف لینے کے ساتھ ہی عملاً ملک کی حکمرانی کے جملہ امور اس مظلومہ کی وصیت کے ذریعے پارٹی کے جملہ امور کے مالک بن چکے۔ آصف علی زرداری کے کنٹرول میں آگئے تھے اور پھر وہ ملک کے صدر منتخب ہو کر پرویز مشرف سے بھی زیادہ قوت اور اختیار کے ساتھ ایوان صدر کے مکین ہوگئے تھے۔ پرویز مشرف والے سارے اختیارات ان کے پاس ہیں اور ایک ملک گیر سیاسی پارٹی اور سیاسی پارٹیوں کی وہ حمایت بھی جو اس باوردی صدر کو حاصل نہیں ہوتی تھی ملک میں کوئی ایک بھی فرد ایسا نہیں جو نہ کہتا ہو کہ اس مظلومہ کے قتل کی آزادانہ تحقیقات کروا کر مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ آصف علی زرداری نے اس قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانا چاہی تو ملک کی سب اسمبلیوں نے اس کی متفقہ حمایت کر دی تھی۔ اس کے باوجود نہ اقوام متحدہ نے ابھی تک تحقیق و تفتیش کا آغاز کیا ہے اور نہ ہی ان حکومتی اداروں اور ایجنسیوں میں سے کسی کو اس تحقیق پر لگایا گیا ہے جن کا کنٹرول اس مظلومہ کے شوہر نامدار کے پاس ہے۔ آخر ایسا کیوں کیا گیا؟ ایسا کیوں کیا جارہا ہے؟ ان کی موت کے سانحہ کا ایک سال مکمل ہو جانے پر ڈاک کے ٹکٹ، یادگاری سکے جاری کر دینا، اس دن کو قومی سطح پر تعطیل کا دن قرار دے دینا، ملک بھر میں جلسے کرنا، مظلومہ کی قبر پر عام و خاص کی حاضری اور اخباروں میں اشتہار، ٹی وی پروگرام، سڑکوں پر ان کی اور ان کے بچوں اور شوہر کی تصاویر کے بڑے بڑے بورڈ اور سائن بورڈ لگوا دینا ہی کافی ہے یا ان کے قاتلوں کو شناخت کرکے انہیں سخت سے سخت سزا دینا زیادہ لازم ہے؟ ان قاتلوں کی شناخت ان کی گرفتاری اور انہیں نشانِ عبرت بنا دینا اس ملک اور قوم کی سب سے بڑی ضرورت ہے جس پر ان کے شوہر نامدار اور پارٹی کی مکمل حکمرانی ہے اگر اس مظلومہ کی خدمات‘ نظریات عزم اور ارادوں کے بارے میں سرکاری اور پارٹی سطح پر جو کچھ کیا جا رہا ہے جو کچھ کہا جا رہا ہے سب سچ ہے تو پھر ان کی موت اس ملک اور قوم کا بہت ہی بڑا نقصان ہے۔ اتنی بڑی عالمی سطح کی لیڈر کو اس انداز میں قتل کر دیا گیا اور ایک پورا سال گزر جانے کے باوجود اس کے قاتلوں کو شناخت کرنے کا عمل شروع بھی نہیں ہو سکا آخر کیوں؟ کس مصروفیت کے سبب؟ کس دکھ یا خوشی میں؟ کیوں نہیں کیا گیا ان کی یاد میں منعقد ہونے والے جلسوں میں‘ یہ مطالبہ کہ اس مظلومہ کے قاتلوں کو فوراً پکڑا جائے انہیں نشان عبرت بنا دیا جائے؟ سڑکوں پر اس شہر کے چوراہوں میں ان کی ان کے بچوں اور شوہر کی تصاویر کے بڑے بڑے بورڈ ہی ملتے ہیں ہمیں تو کہیں ایک بھی کوئی ایسا بینر دکھائی نہیں دیا جس پر ایسا کوئی مطالبہ لکھا ہو۔ حد تو یہ ہے کہ ان‘ کے ان کی پارٹی اور نظریات کے فدائی گورنر پنجاب نے بھی نہ ایسا مطالبہ کیا ہے نہ کوئی بینر لگوایا ہے وہ مظلومہ انہیں وہ کچھ دے گئیں جس کا انہوں نے کبھی خواب تک نہیں دیکھا تھا اور ایسے سب فدائی ان کے نہ تو ان کے قاتلوں کو پکڑنے میں کوئی دلچسپی رکھتے ہیں نہ اس کا مطالبہ ہی کرتے ہیں۔ ڈر کس کا ہے؟ بے نظیر سکیمیں ‘ان کے نام کے‘ سکے ان کی خدمات کے اشتہارات یہ خرچ تو قوم اور اس کا خالی خزانہ برداشت کر رہا ہے ان کی پارٹی نے اور ان کے نام پر حکمرانی کرنے والوں نے کیا کیا زبانی جمع خرچ کے سوا قوم کے خرچ پر۔ جس بے نظیر کی عظمت رفتہ سے قوم کے ہر ہر بچہ کو آگاہ کرنے کی مہم چلائی جارہی ہے اس کے قاتلوں کو شناخت تک کرنے سے اتنی بے نیازی کیوں برتی جارہی ہے؟ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟ ان کی پارٹی اور ان کے وارثوں کی ہو نہ ہو ان کے قاتلوں کو نشانِ عبرت بنا دینا اس قوم کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ ان کے قاتلوں کو شناخت کر کے نشان عبرت بنا دینا، ان کی پارٹی اور وارثوں سے پاکستانی قوم کا پرزور مطالبہ ہے کہ وہ اس قومی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے بھی کچھ کریں اس طرف سے بھی کچھ توجہ فرمائیں قوم کو بتائیں کہ بے نظیر کی تقصیر کیا تھی؟