لو میرج کرنیوالوں پر لڑکی کے بھائی اور ساتھیوں کا سیشن کورٹ میں تشدد

27 دسمبر 2008
لاہور (اپنے نما ئند ے سے) لو میرج کرنے والے جوڑے پر سیشن عدالت میں لڑکی والدین نے دھاوا بول دیا‘ تشدد مار کٹائی 15 پر کال چل گئی پولیس نے موقع پر پہنچ کر دونوں کو بچایا لیا‘ لڑکی نے اپنے بھائیوں اور دیگر ساتھیوں کے خلاف تھانہ اسلام پورہ میں مقدمہ درج کروانے کی درخواست دے دی۔ استغاثہ کے مطابق ٹائون شپ کی رہائشی فائزہ نعیم نے والدین کی مرضی کے خلاف گھر سے بھاگ کر 23 دسمبر کو تنویر احمد نامی لڑکے سے شادی کر لی جس پر لڑکی کے بھائی محمد عامر نعیم نے 25 دسمبر کو تنویر احمد‘ اس کے بھائی ‘ بہن اور ماں کے خلاف تھانہ ٹائون شپ میں اپنی بہن کو اغواء کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کروا دیا۔ گزشتہ روز ملزم سیشن کورٹ میں عبوری ضمانت قبل از گرفتاری کروانے آئے تو لڑکی کے بھائی عامر نعیم وغیرہ نے ان پر دھاوا بول دیا اور کمرہ عدالت میں ہی تشدد کا نشانہ بنانے لگے‘ اس دوران 15 پر کال چلی تو پولیس موقع پر آگئی جسے دیکھ کر حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ ایڈیشنل سیشن جج نے 12 جنوری تک لڑکی اور لڑکے کی ضمانت منظور کر لی۔ جوڑے نے ٹائون شپ پولیس کے خلاف ہراساں کرنے پر درخواست دائر کی۔ ایڈیشنل سیشن جج چوہدری جاوید اقبال سیف نے پولیس کو ہراساں کرنے سے منع کرتے ہوئے 12 جنوری کو پولیس سے ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔