سوات: فورسز کی کارروائی ‘5 جاں بحق پشاور: بم حملہ سے نیٹ کیفے تباہ 8 دکانوں کو نقصان

27 دسمبر 2008
سوات / باجوڑ (بی بی سی اردو ڈاٹ کام+ مانیٹرنگ نیوز) سوات میں فورسز کی گولہ باری اور فائرنگ سے 2خواتین سمیت 5افراد جاں بحق ہو گئے۔ تحصیل چارباغ کے بازار سے 4سربریدہ نعشیں برآمد ہوئی ہیں۔ مٹہ میں گرلز سکول اور کبل میں میوزک سنٹر کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا۔ پشاور میں نامعلوم افراد نے بم حملہ سے نیٹ کیفے کو تباہ کر دیا جبکہ 8دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ باجوڑ میں بھی فورسز نے گولہ باری کرکے مزاحمت کاروں کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا۔ خار میں نامعلوم افراد نے گائوں پر راکٹوں سے حملہ کیا جس سے تین سالہ بچہ جاں بحق اور لیویز کے 2اہلکار زخمی ہو گئے۔ شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے نیٹو کیلئے سامان لیجانے والے کنیٹنرز پر پہلی مرتبہ ایک حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق گلی باغ چیک پوسٹ سے سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے چار افراد جاں بحق ہو گئے۔
مٹہ کے علاقہ برہ درشخیلہ میں بھی گرلز سکول کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ سوات تحصیل کبل کے علاقہ ڈھیرئی بازار میں مقامی عسکریت پسندوں نے میوزک سنٹر دکان کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ قمبر‘ بلوگرام ملحقہ علاقوں سے بڑے پیمانے پر دوسرے اضلاع کی طرف لوگوں نے نقل مکانی شروع کر رکھی ہے۔ مقامی عسکریت پسندوں کے دھمکیوں کے بعد خواتین نے کارخانوں میں جانا بند کر دیا جبکہ گھر پر مارٹر گولہ گرنے سے گھر میں موجود خاتون موقع پر جاں بحق ہو گئی جبکہ چار باغ کے بازار سے 4نعشیں ملی ہیں جبکہ خار سے سکیورٹی فورسز نے تحصیل چہارمنگ اور ماموند میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی جس سے کئی ٹھکانے تباہ ہو گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ پشاور کے علاقے گنج میں موجود ایک انٹرنیٹ کیفے کو بم سے اڑا دیا گیا جبکہ 8 دکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ شمالی وزیرستان میں خود کو حافظ گل بہادر گروپ کے طالبان کا ترجمان ظاہر کرنے والے سیف اللہ خراسانی نامی شخص نے بی بی سی کو ٹیلیفون کر کے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ جب تک قبائلی علاقوں میں امریکی میزائل حملے بند نہیں ہوتے تب تک وہ نیٹو فورسز کی سپلائی کاٹتے رہیں گے۔ خراسانی نے بتایا کہ تین دن قبل خیبر ایجنسی میں تختہ بیگ کے علاقے میں نیٹو فورسز کے کنٹینر پر حملہ کر کے گاڑی میں موجود تمام سامان پر قبضہ کر لیا گیا جبکہ ڈرائیور اور کلینر کو یرغمال بنا لیا گیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم کے حکومت کے ساتھ شمالی وزیرستان میں ہونے والے امن معاہدے برقرار ہیں تاہم سرحد کے اضلاع میں تمام معاہدے ٹوٹ چکے ہیں۔