’’بش انتظامیہ کو بتا دیا تھا بینظیر پاکستان گئیں تو پرویز مشرف دنیا میں رہیں گے یا محترمہ‘‘ سابق امریکی سیکورٹی ایڈوائزر

27 دسمبر 2008
واشنگٹن (ندیم منظور سلہری سے) امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر دور میں نیشنل سکیورٹی کے ایڈوائزر ‘ معروف تھنک ٹینک کے اہم رکن اور امریکن فارن پالیسی جان ہاپکنز یونیورسٹی سکول آف ایڈوانس انٹرنیشنل سٹڈی کے پروفیسر بیگنین بریزنسکی نے کہا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو بش انتظامیہ کی آشیرباد سے ہی پاکستان گئی تھیں جب بینظیر بھٹو کے واپسی کے ٹائم ٹیبل کے بارے میں بش انتظامیہ کے اعلیٰ حکام حتمی بات چیت کر رہے تھے تو میں بھی اس اہم اجلاس میں شریک تھا۔ جب بش انتظامیہ کے تمام عہدیداران اس حق میں بات کر رہے تھے کہ بینظیر بھٹو کو فوراً پاکستان چلے جانا چاہئے تو میں نے اس موقع پر کہا کہ میں اس حق میں نہیں ہوں کہ ان حالات میں بینظیر بھٹو پاکستان جائیں۔ میں نے بڑے وثوق کے ساتھ امریکی حکومت کو کہا تھا کہ اگر بینظیر بھٹو واپس گئیں یا تو پرویز مشرف دنیا میں نہیں رہیں گے یا پھر بینظیر کو قتل کر دیا جائے گا۔ میں نے امریکی عہدیداران کو یہ بھی کہا تھا کہ آپ کس طرح آگ اور پانی کو ایک جگہ اکٹھا کر سکتے ہیں۔ لیکن بش انتظامیہ کی رضامندی سے بینظیر بھٹو بڑی آس امید لے کر پاکستان واپس گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ماحول فوج کے زیر تسلط اور زیراثر ہے اور مختلف ادوار سے ہی پاکستان مختلف پیچیدہ صورتحال اور بحرانوں کا شکار ہے۔ مشرف تو بحیثیت صدر ملک کو چلا رہے تھے لیکن آہستہ آہستہ ان کا کنٹرول فوجی اداروں سے کم ہوتا جا رہا تھا۔ اگر پاکستان کی فوجی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو صرف ضیاء الحق ہی ایک طاقتور شخص تھے جو ایک طرف تو صدر اور دوسری طرف فوجی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے اپنا مکمل کنٹرول رکھتے تھے۔ پرویز مشرف نے بہت کوشش کی لیکن وہ ضیاء الحق نہ بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو صرف آرمی ہی چلا رہی ہے اور امریکہ اب پاکستان آرمی کی صورتحال پر تحفظات رکھتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ پاکستانی آرمی میں بھی وہ لوگ اہم عہدوں پر فائز ہو رہے ہیں جو امریکہ کو اچھا نہیں سمجھتے۔ اب پاک فوج اور امریکہ کی ہر بات میں ہاں میں ہاں ملانے کو تیار نہیں۔ اگر امریکہ ان سے کوئی بات کرتا ہے تو وہ برابری کی سطح پر جواب دیتے ہیں اور اگر کوئی خاص بات ہوتی ہے تو وہ کھل کر اور جرأت کے ساتھ ہمارے خلاف اپنے ردعمل کا بھی اظہار کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکہ نے پہلی بار نیٹو آرٹیکل پانچ کے تحت افغانستان پر چڑھائی کی اور افغانستان میں طالبان حکومت کو ختم کیا گیا۔ اگر حقائق کی نظروں سے دیکھا جائے تو وہ امریکہ کے خلاف کسی سازش میں شریک نہیں تھے لیکن جب اس انداز سے دیکھا جائے کہ امریکہ نے افغانستان سے سوویت یونین کو شکست دینے کے بعد اپنے اتحادیوں کے ساتھ کیا کیا تو بات پریشان کن دکھائی دیتی ہے۔ بش انتظامیہ بھی سمجھتی تھی کہ طالبان کا نائن الیون کے واقعہ میں کوئی کردار نہیں۔ یہ بات مانی جا سکتی ہے کہ طالبان انتہا پسند اور بنیاد پرست ہو سکتے ہیں لیکن ان کا جرم یہی تھا کہ انہوں نے اسامہ بن لادن اور دیگر جنگجو قائدین کو بطور مہمان اپنے پاس ٹھہرا رکھا تھا اور اس بات کو امریکہ سب سے بڑا کرائم خیال کرتا تھا۔ انہوں نے کہا افغانستان اور پاکستان میں انتہا پسندوں کے خاتمہ کیلئے امریکہ نے جو کوششیں کیں اور جس کی وجہ سے امریکی افواج کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے حقیقت میں امریکہ کا طریقہ کار ہی غلط تھا اور نہ ہی ہم وہاں کے کلچر کو سمجھ سکے۔ امریکہ نے یہی خیال کیا کہ طاقت کے استعمال سے ہی مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں اور نہ ہی بش انتظامیہ نے کبھی ضرورت محسوس کی کہ ان ممالک کے تہذیب و تمدن کو سمجھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندوں کی جڑیں اس خطے میں کافی مضبوط ہیں اور امریکہ تمام کوشش کے باوجود اور اپنی تمام طاقت اور وسائل کو بروئے کار لانے کے باوجود ان کو اپنے زیرتسلط نہیں لا سکتا۔ امریکی غلط پالیسی کی وجہ سے یہ ہوا کہ ہم نے اس خطے کو مکمل طور پر شدت پسندی میں مبتلا کر دیا اور وہاں کے لوگ اب ہمیں قبول کرنے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کے لوگوں کو اپنے علاقوں اور اپنے کلچر سے دلچسپی ہے وہ القاعدہ کو کچھ نہیں سمجھتے۔