ہاکی کیلئے ایک اور مایوس کن سال

27 دسمبر 2008
گزشتہ ایک دہائی کی طرح یہ سال بھی پاکستان ہاکی کیلئے ایک ڈرائونے خواب سے کم نہیں تھا۔ ہاکی فیڈریشن میں تبدیلیوں کے باوجود نا تو ہم کوئی ٹورنامنٹ جیت سکے اور نہ ہی اپنی رینکنگ بہتر بناسکے۔ سابق عالمی نمبر ایک ٹیم اس وقت ٹاپ فائیو میں بھی نہیں ہے جو یقینا ایک پریشان کن بات ہے کیونکہ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے۔ ہاکی ٹیم کی شکست کا کسی کو بھی ذمہ دار قرار دیا جائے لیکن ایک بات طے ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن میں پلاننگ نام کی کوئی چیز نہیں ہے رواں سال چار کپتان اور چار کوچ بدلے گئے۔ ریحان بٹ کے بعد سلمان اکبر، ذیشان اشرف اور اب شکیل عباسی کو کپتان بنایا گیا ہے جبکہ ہیڈ کوچ اصلاح الدین کو فارغ کرکے شہناز شیخ کوذمہ داری سونپی گئی۔ وہ ناکام ہوئے تو باری خواجہ ذکاء الدین کی آگئی اور اب ایاز محمود ہیڈ کوچ ہیں۔ جن کو فیڈریشن کے صدر قاسم ضیاء کی قربت کا صلہ ملا ہے ورنہ کوچنگ کے شعبے میں ان کا خاص تجربہ اور قابلیت نہیں ہے۔ بات صرف ٹیم انتظامیہ تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ فیڈریشن کی سطح پر بھی تبدیلیاں آئیں اور سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی کے استعفیٰ کے بعد پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق اولمپیئنز قاسم ضیاء کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے جن کی موجودگی میں پاکستانی ہاکی ٹیم اولمپک، ورلڈ کپ، ایشین چیمپئن اور چیمپئنز ٹرافی جیت چکی ہے۔ اسی دوران فیڈریشن کے سیکرٹری بھی بدلتے رہے۔ اس وقت یہ ذمہ داری آصف باجوہ کے پاس ہے۔ سلیکشن کمیٹی میں بھی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ اصلاح الدین کے بعد یہ ذمہ داری حسن سردار نے سنبھال لی ہے۔ پاکستان ہاکی ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو پاکستانی ٹیم رواں سال بھی ایک بھی ٹورنامنٹ نہیں جیتا سوائے چین کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز اور یورپ میں چار ملکی ٹورنامنٹ جیتنے کے علاوہ کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کرسکی۔ پاکستان اس سال چیمپئنز ٹرافی میں تو شرکت ہی نہ کرسکا جبکہ اذلان شاہ میں اس کو چوتھی پوزیشن پر اکتفا کرنا پڑا۔ اولمپک گیمز میں ٹیم بارہ ٹیموں میں آٹھویں نمبر پر رہی۔ آئندہ سال ہوینوالی چیمپئنز ٹرافی سے بھی باہر ہوگئی ہے۔ اب 2010ء کو چیمپئنز ٹرافی کیلئے اس کو یا تو میزبانی حاصل کرنا ہوگی یا پھر کوالیفائنگ ٹورنامنٹ جیتنا ہوگا۔ ٹیم کی رینکنگ بھی مسلسل گرتی رہی رواں سال پانچویں پوزیشن سے جس سفر کا آغاز کیا تھا وہ آٹھویں نمبر پر رک گیا۔ تاہم یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ جونیئر ایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستان نے جاپان کو شکست دے کر تیسری پوزیشن حاصل کرلی اور ورلڈ کپ میں جانے کی امیدیں برقرار رکھیں۔ ناکامیوں سے بھرے سال میں ریحان بٹ کو رواں ماہ ایشیا کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا یہ پاکستان کی ہاکی میں سب سے بڑی کامیابی بھی تھی۔
پاکستان ہاکی کی تاریخ کامیابیوں سے بھری پڑی ہے۔ دنیا کا ہر ٹورنامنٹ اس کی جیب میں رہا ہے اور دنیا کاکوئی ریکارڈ ایسا نہیں جو اس نے نہ توڑا ہو یا اس نے نہ بنایا ہو لیکن پھر بھی ہم 1994ء کے بعد سے اب تک کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہیں جیت سکے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر قاسم ضیاء نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ دو سال میں پاکستانی ٹیم ناصرف دنیا کی تین بہترین ٹیموں میں آجائے گی بلکہ ایک بار پھر ہاکی ایونٹس کا مرکز بن جائے گا۔ دعا ہے کہ 2009ء پاکستان ہاکی کیلئے کامیابیوں کا سال بن کر آئے۔ ناکامیوں کا سلسلہ ختم ہو۔ ہاکی میں کھویا ہوا وقار اور مقام بحال ہو۔