گورنر پنجاب نے ججوں کی تقرری پر وزیراعلیٰ کے تحفظات مسترد کر دیئے

27 دسمبر 2008
لاہور (سلمان غنی) پنجاب میں معزول ججوں کی ازسرنو تعیناتی اور نئے ججوں کی تقرری صوبائی حکومت اور گورنر ہاؤس میں نئے تنازعہ کا باعث بن گئی ہے‘ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے ہائیکورٹ میں معزول ججوں کی تقرری کے حوالے سے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی جانب سے بھجوائے گئے مکتوب میں تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہائیکورٹ میں معزول ججوں کی دوبارہ تقرری کے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق گورنر وزیر اعلیٰ سے مشورے کا پابند نہیں بلکہ ان ججوں کی تقرری چیف جسٹس ہائیکورٹ کے ساتھ مشورے کے بعد عمل میں آتی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے لئے تیار کئے گئے جوابی مکتوب میں ہائیکورٹ کے ججوں کی تقرری کے حوالے سے ان کے تحفظات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ گورنر ہاؤس کے 60 سالہ ریکارڈ کے مطابق کسی بھی جگہ ایسا کوئی ریفرنس موجود نہیں کہ گورنر ججوں کی تقرری کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سے مشورے یا ان کی سفارش کا پابند ہے لہٰذا میں اس حوالے سے ضروری نہیں سمجھتا کہ وزیر اعلیٰ کو اعتماد میں لیا جائے۔ گورنر پنجاب کا کہنا ہے کہ انہیں اور قانون کی بالادستی کی بات کرنے والوں کو اب آئین اور قانون کے مطابق عمل کرنا چاہئے‘ انہوں نے کہا کہ آ ئین میں کسی جگہ یہ موجود نہیں کہ ہائیکورٹ میں ججوں کی تقرری کے عمل میں وزیر اعلیٰ کی سفارش کو اہمیت دی جائے۔ معلوم ہوا ہے کہ گورنر کی جانب سے تیار کردہ مکتوب وزارت قانون کو بھجوایا گیا ہے جبکہ دوسری جانب ہائیکورٹ میں نئے ججوں کی تقرری کے لئے حتمی فہرست تیار کر لی گئی ہے جس کے تحت جنوری کے پہلے ہفتہ میں نئے ججز حلف اٹھائیں گے۔ یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے صدر‘ وزیراعظم اور گورنر پنجاب کو بھجوائے گئے مکتوب میں یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ ایڈہاک ججوں کی توثیق یا معزول ججوں کی دوبارہ تعیناتی کے احکامات ان کی ضروری ایڈوائس کے بغیر غیر مؤثر ہوں گے۔ گورنر اس امر کی وضاحت کریں کہ انہوں نے کن حالات میں معزول ججوں کو دوبارہ تعینات کیا۔ یاد رہے کہ حکومت پنجاب ہائیکورٹ میں نئے ججوں کی تقرریوں کو روکنے کے لئے ممکنہ اقدامات پر عملدرآمد کر رہی ہے۔ دوسری جانب حکومت عدلیہ میں ایسے نئے ججوں کی تقرریوں کے لئے کوشاں ہے جن کی وابستگی ماضی میں پیپلز پارٹی سے رہی ہو اور وہ ان کی سیاسی جدوجہد کا حصہ رہے ہوں۔