بھارت کی طرف سے کسی بھی سرجیکل حملہ کو پاکستان کے خلاف اعلان جنگ سمجھا جائے گا:پاکستان

27 دسمبر 2008
بھارت کی طرف سے کسی بھی سرجیکل حملہ کو پاکستان کے خلاف اعلان جنگ سمجھا جائے گا:پاکستان
مکھرجی کے رائس‘ چینی ہم منصب کو فون‘ سعود الفیصل سے مذاکرات
اسلام آباد/ نئی دہلی (سٹاف رپورٹر+ مانیٹرنگ ڈیسک+ ایجنسیاں) پاکستان نے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کو آگاہ کر دیا ہے کہ بھارت کے کسی بھی حملے کو اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔ دفتر خارجہ میں سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر سے پاکستان میں تعینات برطانیہ‘ فرانس، چین اور روس سمیت جاپان، بھارت اور جرمنی کے سفیر نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان نے ان ممالک کو واضح طور پر بتایا ہے کہ بھارت کی طرف سے کسی بھی سرجیکل حملہ کو پاکستان کے خلاف اعلان جنگ سمجھا جائے گا۔ سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے ان ممالک کے سفیروں کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات میں تعاون کو جاری رکھے گا۔ پاکستان کے اس تعاون کو کمزوری یا نرمی نہ سمجھا جائے ۔ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف جاری سرگرمیوں کو کم کرنے کے لئے پاکستان نے اقوام متحدہ کے پانچ مستقل رکن ممالک سے کہا ہے کہ وہ بھارت پر دبائو ڈالیں کہ وہ اپنی سرگرمیاں کم کرے اور اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے خطے کو جنگ کے دہانے سے بچائیں۔ بھارتی ہائی کمشنر ستیابراتاپال نے بھی گذشتہ روز سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر سے دفتر خارجہ میں ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق بھارتی ہائی کمشنر نے ممبئی حملوں کی تحقیقات کے حوالے سے بھارتی حکومت کا پیغام پہنچایا ہے۔ دفتر خارجہ کے ذرائع نے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس موقع پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام سفارتی اور مواصلاتی روابط برقرار رکھنے پر اتفاق پایا گیا تاکہ موجودہ صورتحال میں کوئی غلط فہمی جنم نہ لے سکے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ مواصلاتی روابط کے تحت پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکرٹریوں اور دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل برائے ملٹری آپریشنز کے درمیان دو الگ الگ ہارٹ لائنیں قائم ہیں۔ بھارت ہائی کمشنر نئی دہلی میں سفیروں کی کانفرنس میں شرکت کرکے گذشتہ روز ہی پاکستان پہنچے تھے۔ بھارتی ہائی کمشنر سے ملاقات کے بعد سلمان بشیر نے امریکہ‘ روس‘ برطانیہ‘ جرمنی‘ ایران ‘ جاپان اور یورپی ممالک کے سفیروں سے ملاقات کی۔ دوسری جانب بھارت نے پاکستان پر دبائو بڑھانے کیلئے عالمی طاقتوں سے رابطے تیز کر دئیے ہیں۔ اس سلسلے میں بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکھرجی نے امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس اور چینی ہم منصب یانگ جی چی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جن میں ممبئی حملوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا اور ان ممالک سے پاکستان پر دبائو بڑھانے کیلئے تعاون طلب کیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت مل کر معاملات کو حل کریں اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان رابطے ضروری ہیں۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعودالفیصل بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرانے کیلے نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکھرجی سے ملاقات کی اور دہشت گردی کے مقابلے کیلئے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ادارہ بنانے کی تجویز پیش کی۔ مکھرجی نے سعودالفیصل کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ اقدامات کو تیار ہیں ۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گرد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں۔ بھارت کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ دہشت گردی کے واقعات برائی اور کینسر کی مانند ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بھارت نے ممبئی حملوں کے بعد پاکستان پر دبائو ڈالنے کیلئے سعودی عرب سے تعاون طلب کیا اور ممبئی دہشت گردی میں پاکستان میں موجود عناصر کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے بارے میں سعودالفیصل کو معلومات فراہم کیں اور درخواست کی کہ سعودی عرب مبینہ دہشت گردوں کو مالی تعاون بند کرانے کیلئے کردار ادا کرے۔ ادھر بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے مسلح افواج کے سربراہوں سے مشاورت کی اس حوالے سے اہم ملاقات میں پاکستان بھارت کشیدگی اور جنگی صلاحیت پر بات چیت کی گئی۔ بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن بھی موجود تھے۔ مسلح افواج کے سربراہوں نے وزیراعظم کو بھارتی افواج کی استعداد کار اور دیگر امور پر بریف کیا۔ سکیورٹی معاملات کے حوالے سے بھی مسلح افواج کے سربراہوں نے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ نئی دہلی میں بھارتی سکیورٹی کمیٹی کا بھی اہم اجلاس ہوا۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق اس اجلاس میں بھارت کی پاکستان پر فوجی کارروائی کے حوالے سے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق اجلاس میں پاکستان پر فوجی کارروائی کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے۔ غیرملکی خبررساں ادارہ کے مطابق سعودی عرب اور بھارت نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عالمی ایکشن لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ مکھرجی نے کہاکہ عالمی دہشت گردی کے خلاف تمام ممالک مشترکہ ایکشن لیں ہم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جو بھی ایکشن لیا جائے اسے تاخیر کے بغیر فوری طور پر لیا جانا چاہئے۔ مکھر جی نے کہا ہے کہ پاکستان ہم سے ثبوت طلب کرنے کی بجائے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔ ممبئی حملوں میں پاکستانی عناصر کے ملوث ہونے کے کافی شواہد موجود ہیں۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی وزیر خارجہ سعودالفیصل سے ملاقات امریکی‘ چینی و ایرانی ہم منصبوں سے فون پر گفتگو میں تمام ممالک نے ممبئی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ دنیا کو بتا دیا کہ ممبئی حملوں کے حملہ آور کون تھے۔ پاکستان اصل مسئلے سے توجہ ہٹا کر جنگ کا ماحول پیدا کر رہا ہے جو خطے کے مفاد میں نہیں۔ سعودی وزیر خارجہ نے ممبئی حملوں کی مذمت کی۔ مکھر جی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں بھارتی شہریوں کا پاکستان جانا خطرناک ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان نہ جائیں اور پاکستان میں قیام نہ کریں۔ مکھر جی نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان جنگی جنون پیدا کرکے دہشت گردی کے اصل مسئلہ کی جانب سے توجہ ہٹا رہا ہے۔