فاٹا سے ایک ڈویژن کی واپسی‘ تینوں افواج ریڈ الرٹ‘ صدر وزیراعظم کے دورے اور فوجیوں کی چھٹیاں منسوخ

27 دسمبر 2008
فاٹا سے ایک ڈویژن کی واپسی‘ تینوں افواج ریڈ الرٹ‘ صدر وزیراعظم کے دورے اور فوجیوں کی چھٹیاں منسوخ
اسلام آباد + لاہور (سہیل عبدالناصر + سٹاف رپورٹر + نمائندہ خصوصی + خبرنگار + اے ایف پی + نیٹ نیوز + مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے بھارت کی ممکنہ جارحیت کے پیش نظر اپنے دفاع کے لئے درکار تمام تر اقدامات مکمل کرلئے ہیں۔ فوج کے لڑاکا دستوں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں بھارت کے ساتھ سرحد پر تازہ دم دستے‘ ٹینک اور توپخانہ پہنچا دیئے گئے ہیں۔ پاک افغان سرحد سے مجموعی طور پر ایک ڈویژن فوج کو بھارت کے ساتھ سرحد پر منتقل کیا جا رہا ہے اس سلسلہ میں جنوبی وزیرستان‘ شمالی وزیرستان‘ باجوڑ‘ خیبرایجنسی اور صوبہ سرحد کے ضلع سوات کے بعض مقامات سے فوجی قافلوں نے مشرقی سرحد کی جانب اپنی تعیناتی کے نئے مقامات کی جانب سفر شروع کردیا ہے۔ نوائے وقت کو مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کشیدگی کے پیش نظر پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں زیرتربیت کیڈٹوں کو بھی جنوبی پنجاب میں بھارت کے ساتھ سرحد پر تعینات کردیا گیا ہے۔ تعیناتی کیڈٹوں کی زمانہ جنگ میں عملی تربیت بھی ثابت ہوگی۔ ضرورت پڑنے پر مغربی سرحد سے مزید فوج بھارت کے ساتھ سرحد پر منتقل کی جاسکتی ہے۔ لاہور میں بھارتی سرحد کے ساتھ متصل بعض دیہات خالی کرائے جا رہے ہیں۔ ایک امریکی ادارے کے مطابق بھارت نے دھمکی دی تھی کہ 26 دسمبر تک پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو بھارت خود حرکت میں آئے گا۔ اس بھارتی دھمکی کے پیش نظر 26 اور 27 دسمبر کی درمیانی شب بھی پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے فضاؤں میں موجود رہے۔ پاک فضائیہ کے تمام پائلٹ اور دیگر عملہ کچھ کر گزرنے کے موڈ میں ہے ان کا حوصلہ نہایت بلند ہے۔ فضائیہ کے ایف 16 اور ایف 7 طیارے خصوصی طور پر الرٹ ہیں۔ پاک فوج کے قافلے جب سرحد کے جنوبی اضلاع سے گزرے تو عوام نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور نعرے بلند کئے۔ نوائے وقت کے استفسار پر عسکری ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ بالا اقدامات مصدقہ انٹیلی جنس رپورٹوں اور دوست ممالک کی فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پر کئے گئے ہیں۔ پاک فضائیہ جنگی معیار کے مطابق الرٹ ہے۔ ائر ڈیفنس سو فیصد چوکس ہے۔ بھارت کی فوجی نقل و حرکت کے مطابق عالمی سرحد اور کنٹرول لائن پر درکار فوجی دستوں کی تعداد میں نئی تعیناتی کر دی گئی ہے۔ پاک بحریہ نے ملک کی پورے سمندری حدود اور اس کے ساتھ متصل بین الاقوامی پانیوں پر نظر رکھی ہوئی ہے اور بحیرہ عرب کے راستے پاکستان کے تمام تجارتی راستوں کو کھلا کرنے کے لئے بالکل تیار ہے۔ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں‘ بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے لیس سٹرٹیجک فورس مختصر نوٹس پر مکمل الرٹ ہونے کے لئے تیار ہے۔ کم از کم دفاعی اقدامات کے تحت پاکستان نے اپنی مسلح افواج جس میں پاکستان ائرفورس کو سب سے زیادہ فعال کیا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ عام حالات میں کم از کم سات ائربیس استعمال کرتی ہے لیکن جنگی حالات میں تیس سے زائد ائربیس زیراستعمال لائے جاتے ہیں۔ ملک بھر میں پھیلے یہ تیس ائربیس بھارت کے لئے جوابی کارروائی کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ پاک فضائیہ کے ائربیسوں کو تین اقسام کے تحت رکھا جاتا ہے۔ بڑے ائربیس وہ ہیں جو زمانہ امن کے دوران بھی مکمل فنکشنل حالت میں ہوتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر فارورڈ ائربیس آتے ہیں جو عام حالات میں جزوی طور پر اور زمانہ جنگ کے دوران سو فیصد آپریشنل کرائے جاتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر سیٹلائٹ ائربیس ہیں جنہیں عام حالات اور زمانہ جنگ میں ہنگامی استعمال کے لئے مختص کیاجاتا ہے۔ پاکستان ائرفورس کے پاس ہنگامی حالات میں ان تیس ہوائی اڈوں کے علاوہ لاہور اور اسلام آباد کے درمیان موٹروے بھی جہازوں کے اترنے اور اڑنے کے لئے دستیاب ہے۔ ان ذرائع کے مطابق مذکورہ ہوائی اڈوں کے علاوہ ملک بھر میں درجنوں ہوائی اڈے اور ایسی فضائی پٹیاں موجود ہیں جنہیں بوقت ضرورت زیراستعمال لایا جاسکتا ہے۔ ان اڈوں سے کم و بیش تمام جیٹ جہاز اڑ سکتے ہیں اور درمیانے درجے کے ٹرانسپورٹ جہاز اتر بھی سکتے ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق پاکستان نے بھارت کے ساتھ سرحد‘ ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر فی الحال بری فوج کی کمک ارسال کی ہے۔ سیاچن سے لے کر عالمی سرحد تک بھارت کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی فی الحال چل رہی ہے لیکن فوج کسی بھی مہم جوئی کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھارت راجستھان کے ساتھ متصل پاکستانی علاقہ میں پاک فضائیہ اور فوج کو خصوصی طور پر الرٹ کیا ہے اور نگرانی میں اضافے کیلئے مزید راڈار لگا دیئے گئے ہیں۔ اسلام آباد‘ راولپنڈی‘ لاہور اور مظفر آباد سمیت کئی شہروں میں پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی پروازیں جاری ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے عملہ کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ راڈار کے عملہ کو انتہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ ائر ٹریفک کنٹرول اور آپریشنل حکام کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔ پنجاب رینجرز کے جوانوں کی چھٹیاں بھی منسوخ کرکے انہیں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ پنجاب رینجرز کے جوانوں نے سیالکوٹ سے سندھ اور سرحد تک کی سرحد کے ساتھ گشت بڑھا دیا ہے جوان جیپوں اور گھوڑوں پر سرحد کے ساتھ گشت کر رہے ہیں۔ سکیورٹی حکام نے تصدیق کی ہے ضروری تیاریوں کے لئے پاک فوج کے دستوں کو فاٹا سے بلایا ہے۔ مسلح افواج ہائی الرٹ پوزیشن میں ہیں جہاں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا وہاں سے فوج بلائی گئی ہے۔ کسی مہم جوئی کی صورت میں دشمن کو فوری جواب ملے گا۔ دریں اثنا فوج نے تیاریاں مکمل کرتے ہوئے مورچے سنبھال لئے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق فوج نے پرانے مورچوں کی صفائی نئے مورچوں کی تیاری اور مواصلاتی نظام بچھانے کے بعد سرحدوں کا کنٹرول سنبھال لیا ضلع سیالکوٹ‘ لاہور اور قصور کی سرحدوں کے قریب عارضی چھائونیاں بھی قائم کر دی گئی ہیں۔ مستند ذرائع نے نوائے وقت کو بتایا کہ افغان سرحد کے ساتھ بعض قبائلی علاقوں سے فوجی دستے واپس بلوا کر انہیں بھارت کے ساتھ بین الاقوامی سرحد پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ ورکنگ بائونڈری سیالکوٹ کے ساتھ جڑی پاک بھارت سرحد اور سندھ میں بعض مقامات پر ٹینک اور توپخانہ پہنچا دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے بھارت کے ساتھ سرحد ‘ ورکنگ بائونڈری اور کنٹرول لائن پر فی الحال بری فوج کی کمک ارسال کی سیاچن سے عالمی سرحد تک بھارت کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی فی الحال چل رہی ہے لیکن فوج کسی بھی مہم جوئی کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہے۔ دفاعی حکام کے مطابق بھارت ایڈونچر کرسکتا ہے اور جارحیت سے نبٹنے کیلئے تیار ہیں۔ اس لئے سرحدوں کی مسلسل فضائی نگرانی کی جا رہی ہے۔ قبائلی علاقوں میں پاک فضائیہ کا آپریشن محدود کرکے کمانڈروں کو ایک لاکھ فوج کی واپسی کیلئے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ صدروزیراعظم سمیت اہم حکومتی شخصیات کے غیرملکی دورے منسوخ کردئیے گئے ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان اور بھارت کی افواج آمنے سامنے آگئی ہیں۔ ضرورت محسوس ہوئی تو مزید فوج بھیج دی جائے گی ۔ سفارتی سطح پر دوست ممالک اور فوجی تعاون رکھنے والے ممالک سے رابطے تیز کردئیے گئے ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق چین اور سعودی عرب بھی پاکستانی موقف کے حامی ہیں۔ سیالکوٹ نارووال سیکٹر پر دشمن کی فوج کے حوالے سے ہونیوالی سرگرمیوں کے بعد پاک فوج کو بھی اس محاذ پر الرٹ کردیا گیا ہے۔ مسلح افواج کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ دفاع اور قومی مفادات کو یقینی بنانے کیلئے ممکنہ اقدامات کئے جائیں۔ ائر پورٹس پر ریڈالرٹ کردیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق سرحدوں پر بڑھتی کشیدگی کے باعث پاکستان نے امریکہ کے ذریعے بھارت کو سخت پیغام بھجوایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر بھارت نے جارحیت کی تو اس کو منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔غیرملکی خبررساں ادارہ کے مطابق 14ویں ڈویژن کو سیالکوٹ اور قصور کے سرحد پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ اس وقت 20ہزار فوجی تعیناتی کے لئے حرکت میں ہیں۔