سر را ہے

27 دسمبر 2008
27؍ دسمبر کو شہید بے نظیر بھٹو کی پہلی برسی ہے‘ یہ دن خونِ شہید کی طرح سرخ رہے گا اور ہر سال اس شیردل خاتون کی یاد دلائے گا‘ جس کی للکار میں اس کے دل کی دھڑکن سنائی دیتی تھی۔ وہ ایسی پاکستانی خاتون تھی‘ جس نے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا‘ خدا جانے انکی کس ادا میں دشمن کو پاکستان کی بھلائی نظر آئی جو انہیں زندگی سے محروم کر دیا۔ وہ تو شہادت کے رتبۂ بلند کو پا گئیں مگر پارٹی کیلئے نہ پرُ ہونیوالا خلا چھوڑ گئیں۔
وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ نڈر‘ سیاست دان تھیں‘ سبھی ان کو واپس آنے سے روکتے رہے‘ مگر ان سے شاید مزید وطن کی جدائی برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ انہیں جس سفاکانہ انداز میں شہید کیا گیا‘ چاہئے تھا کہ اب تک انکے قاتل بے نقاب ہو چکے ہوتے‘ ان میں اپنے والد کی خوبیاں موجود تھیں‘ وہ پاکستان کو ایک اعتدال پسند اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواب ساتھ لے گئیں‘ انکے شوہر آصف علی زرداری کو اپنی اہلیہ کا خواب پورا کرنا چاہئے۔
یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا
٭٭٭٭٭٭
ایک ہندو سادھو نے کہا ہے‘ اب مسلمانوں سے انتقام لینا ضروری ہے۔
سیدھی بات تو یہ ہے کہ پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کیخلاف ایک مہم کہیں مخفی اور کہیں ظاہری انداز میں چل رہی ہے۔ یہ ہندو سادھوئوں ہی کی تعلیم ہے کہ ہندو بھوترے ہوئے ہیں۔ انڈیا پر ایک ہزار سالہ مسلم حکمرانی کا انتقام لے لیا ہے‘ جو اب ایک تہمت کا بدلہ لیں گے۔
جب سے انکل سام ہماری سرحدیں پار کرنے لگا ہے‘ لبھو رام کی کمینگی بھی جاگ اٹھی ہے۔ اس نے یہودی ایکسپرٹوں کو بلوا لیا ہے‘ کمینے کو تو پتہ ہے‘ وہ کیوں برہم ہے‘ انکل سام اور اس کے یہودی انکل کو کیا تکلیف ہے؟ ہمارا بم انہیں راس نہیں آیا‘ تینوں بھائیوں کو! ہندو کلچر سادھو کی لٹ کی طرح الجھا ہوا ہے‘ یہ انتقام پرستی اب کی بات تو ہے نہیں‘ جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے‘ سادھوئوں اور انکے پیروکاروں کے انگ انگ میں آگ لگی ہے۔ شاید یہ وہی آگ ہے جسے ہر مرتبہ نعرۂ تکبیر نے سرد کیا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
لاہور میں چوبیس گھنٹے کے دوران ایک ہزار شادیاں ہوئیں۔
شادی‘ خوشی کو کہتے ہیں‘ گویا شہر نگاراں لاہور پر ایک ہزار خوشیاں اتریں اور ایک ہزار دولہے گھوڑی پر چڑھے اور ایک ہزار دلہنیں لہنگوں میں ملبوس ڈولیوں میں بیٹھیں۔ جنگ کے بادل بھی منڈلا رہے ہیں‘ اس لئے بھی شاید شادیوں کی سپیڈ بڑھا دی گئی ہے تاکہ حساب کتاب برابر رہے۔
پاکستان کی اکانومی میں ترقی ہو نہ ہو‘ کاکے‘ ناکے‘ ڈاکے‘ پٹاکے بکثرت ہیں۔
قبرستان سے گزریں تو یوں لگتا ہے کہ سارا جہاں خدانخواستہ فوت ہو گیا ہے‘ بازاروں میں جائیں تو یوں لگتا ہے کہ سارے مردے پھر سے زندہ ہو گئے ہیں‘ الغرض ہمارے ہاں ہر شے کی فراوانی ہے‘ بھوک‘ ننگ‘ امیری‘ بدامنی‘ خوشی اخلاقی‘ بداخلاقی‘ جینا مرنا سب کچھ باافراط ہے۔
٭٭٭٭٭٭
وائس آف امریکہ نے کہا ہے‘ پاک بھارت جنگ دو ملکوں کا نہیں‘ عالمی مسئلہ ہے۔
شاید دنیا کو اب پتہ چلا کہ دو ایٹمی طاقتوں کی جنگ پوری دنیا میں کیا رنگ لا سکتی ہے‘ وائس آف امریکہ بھی امریکہ کی آواز ہے‘ باقی تو سب راز و نیاز ہے۔ پاکستان کے پاس تو صرف اسلامی بم ہے‘ باقی سب کچھ تو بھارت کے پاس ہے۔
عالمی مسئلہ تو درحقیقت کشمیر ہے‘ فلسطین ہے‘ لیکن وائس آف امریکہ ان کی آواز نہیں اٹھاتا۔ پاک بھارت جنگ ہونی ہے یا نہیں‘ بہرحال یہ کوئی انہونی بھی نہیں۔ بھارت کو اس وقت زعم ہے اپنے روایتی ہتھیاروں کا‘ پاکستان کو صرف اللہ کی تائید کی ضرورت ہے۔ دنیا دیکھے گی کہ اگر بھارت اپنے آپے میں نہ رہا اور پاکستان پر جنگ مسلط کردی تو 65ء کی تاریخ پہلے سے کئی گناہ زیادہ حجم میں دہرائی جا سکتی ہے۔
پاکستان نے تعاون کیا‘ ثبوت مانگے‘ مگر بھارت راضی نہیں ہو رہا اور ڈیڈ لائن دے رہا ہے۔ اس کو معلوم نہیں کہ اس کی لائن ڈیڈ ہو جائے گی‘ 16 کروڑ پاکستانی پوری طرح تیار ہیں‘ شاہین اڑنے کو بے تاب ہیں اور ایٹم بم بطور ڈیٹرنس محفوظ پڑا ہوا ہے۔ مومن کی یہ شان ہے…؎
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
٭٭٭٭٭٭
خبر ہے کہ چین میں لندن سے خریدا گیا 65 سالہ پرانا بلب ابھی تک روشن ہے۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے‘ وہ لندن میں آٹھ سال رہا‘ ایک بلب بھی تبدیل نہ کرنا پڑا۔
بلب ہمارے ہاں بھی روشن ہوتے ہیں‘ مگر بجھنے کیلئے۔ اول تو وہ اپنی ناقص بناوٹ کی وجہ سے زندہ نہیں بچتا اور اگر بچ بھی جائے تو لوڈشیڈنگ اسے ایک گھنٹہ سے زیادہ مسلسل جلنے نہیں دیتی۔ ہمارے ہاں صنعتی ترقی اس قدر زیادہ ہوئی ہے کہ صنعت کار مصنوعات اس قدر نازک بناتے ہیں کہ چند روزہ زندگی کے بعد انکے دوبارہ خریدنے یا مرمت کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ ایک بلب ایک ماہ سے زیادہ نہیں جلتا کہ اس کا فلمنٹ اڑ جاتا ہے۔ اس طرح پاکستان کو زیادہ سے زیادہ بلب بنانے پڑتے ہیں اور بلب سازی کی صنعت خوب پھلتی پھولتی ہے۔
یہی حال آہستہ آہستہ انسانوں کا بھی ہوتا جا رہا ہے کہ جس پیٹ میں ناقص خوراک‘ جعلی دوائیاں‘ پانی ملا ہوا دودھ اور ٹینشن ہی ٹینشن جائیگا ‘ وہاں زندگی بھی سکڑتی چلی جائیگی