’’شہادت تھی میری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کو‘‘.....نوید فکر

27 دسمبر 2008
یہ ۲۷ دسمبر کی یخ بستہ اداس سرد شام تھی ۔وہ نور کی شعاعوں میں جگ مگ کررہی تھی ،وہ سرخ گلاب کی طرح معطر تھی ۔کائنات کی دودھیائی کرنوں نے اُسکے گرد ہالہ بنا رکھا تھا۔نیلگوں پیراہن سے آراستہ وہ خوش تھی ۔بے حد خوش ،کیونکہ پوری کائنات اِسی عظیم ہستی پر رشک کررہی تھی‘جس نے عوام کو زندگی میں محبت اور عشق کا جواز دیا تھا۔وہ بخوبی اِس حقیقت سے آگاہ تھی کہ جب کوئی انسان اعلیٰ و ارفع انسانی اصولوں کی آبیاری کیلئے سچے جذبے کیساتھ جدوجہد کرتا ہے تو پوری کائنات سچائی کے مشن کی تکمیل میں اُس عظیم انسان کی ہم رکاب بن جاتی ہے۔ وہ عوام سے محبت کی والہانہ اسیر تھی ۔وہ ہر وقت اُنکی بھلائی کے خواب آنکھوں میں سجائے رکھتی تھی ۔وہ اپنے اِن خوابوں کو حقیقت کے رُوپ میں بدلنے کیلئے ہمیشہ ہی پُرعزم دکھائی دیتی تھی۔وہ عوام کیساتھ اپنے لازوال عشق کو ہمیشہ امر کرنا چاہتی تھی۔ایک اور بھٹو سربکف مقتل کی طرف رواں دواں نظر آرہا تھا۔اُسکے باوقار اور حسین چہرے پر موت کی سرخی گہرے شفق کی طرح پھیل چکی تھی۔وہ سرخ گلابوں کے ہا ر پہنے لیاقت باغ کی سیڑھیوں کو تیزی سے نیچے کی طرف پھلانگ رہی تھی تاکہ بہادری سے موت کو سینے سے لگائے۔دَمِ آخر میں وہ اِس ضرب المثل کو سچ ثابت کرنا چاہ رہی تھی ۔
’’بھٹو ز ہمیشہ نوجوانی ہی میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہوتے ہیں ‘‘
\\\"Bhutto\\\'s are always martyred in Youth\\\"
شہادت تھی میری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کو
جہاں تلوار کو دیکھا ،جھکا دیتا تھا گردن کو
آہ…! بے نظیر بھٹو شہید۔ خزاں اور پت جھڑ کے موسم میں میرا دِل اِس اندوہناک ہونی پر شدید زخمی تھا۔آنکھوں میں آنسوئوں کا سیل رواں تھا۔ میرے سامنے گڑھی خدا بخش میںشام غریباں کا منظر تھا۔ ہزاروں نمناک آنکھوں میں درد، حزن و ملال اور بے قراری کی شدت انتہا پر تھی۔شہید بینظیر بھٹو کے سوگواروں نے آہ و فغاں اور چیخ و پکار کیساتھ سینہ کوبی شروع کررکھی تھی۔رنج و الم میں مبتلا لاکھوں انسانوں کی آنکھوں میں برسات کی جھڑی لگ رہی تھی۔ عقیدت مند سوزو غم میں ڈوبے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے ۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر حساس دِل فگار تھا۔
مرگِ حیات کے اِس المناک حادثے سے ساری قوم ٹوٹ کر بکھر گئی تھی۔ بھٹو خاندان کی متاع حیات اور قوم کی امید حیات لٹ گئی تھی۔وقت ٹھہر گیا تھا۔ انسانی دُکھ کی کیفیت اُس مقامِ بالا تک پہنچ گئی تھی جہاں زندگی اپنی خوبصورتی کے تمام مفاہیم کھو دیتی ہے۔ جہاں حیات انسانی کی ارزانی کا احساس قحط میںموت کی مانند اِس قدر بڑھ جاتا ہے کہ آرزو ئے حیات اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ایسا لگ رہا تھا کہ لاکھوں زندہ انسانوں کی کیفیت فیض احمدفیض کے ’’ہارٹ اٹیک ‘‘کی مانند ہوچکی ہے۔
درد اتنا تھا کہ اِس رات دِل وحشی نے
ہر رگِ جاں سے اُلجھنا چاہا
ہر بن مو سے ٹپکنا چاہا
میرے ویرانۂ تن میں گویا
سارے دُکھتے ہوئے ریشوں کی طنابیں کھل کر
سلسلہ وار پتہ دینے لگیں
رخصتِ فاصلہ ٔ شوق کی تیاری کا
درد اِتنا تھا کہ اِس سے بھی گزرنا چاہا
ہم نے چاہا بھی ،مگر دِل نہ ٹھہرنا چاہا
قارئین! جب نوڈیرو میں آصف زرداری نے کپکپاتے ہونٹوں اور جذبات کی شدت سے معمور ، رُندھی ہوئی دلگیر آواز میں اپنی محبوب شریک حیات کا نوحہ پڑھتے ہوئے پوری طاقت سے فگار دِل کیساتھ یہ صد ابلند کی ۔ ’’وہ زندگی میں بھی بے نظیر تھی اور موت کے بعد بھی بے نظیر رہی‘‘
توسوگوارانِ بے نظیر ایک لمحے کیلئے سکتے میں آگئے مگر پھر ذرا توقف کے بعد قیامت صغریٰ برپا ہوگئی ، وہ چاہنے والوں کے دِلوں کی ملکہ تھی ۔وہ عوام کے دِلوں پر حکمرانی کرتی تھی ۔وہ شعلہ ٔ مستعجل تھی وہ عظیم بھٹو کی عظیم تر بیٹی تھی۔وہ کیسے مرسکتی تھی لوگوں کیلئے اُسکی المناک موت ناقابل یقین تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کی عزت اور وقار کی خاطر آمرِ مطلق کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا اور تختہ دار پر جھول کر ہمیشہ کیلئے اَمر ہوگیا۔مگر دختر مشرق دلیری اور جرأت میں اپنے باپ سے دوہاتھ آگے تھیں ۔رعنائی حسن بڑے شوق سے وادی ٔموت کے گلستاں میں اُتر گیا۔
وعدہ ٔ سیر گلستاں ہے خوشا طالع ِ شوق
مژدہ ٔ قتل مقدر ہے جو مَذکور نہیں
بے نظیر عرصہ دراز سے سَرِدار ایسے مقتل میں کھڑی تھیں۔جہاں دشمنوں نے اُس کیلئے موت کا پھندہ پھیلایا ہوا تھا۔اگر کبھی وہ ممتا کے جذبے کے ہاتھوں مجبور ہوکر سیاست سے لاتعلق ہوتیں تو بھٹو خاندان کے کم ظرف مخالفین اُس پر طعن و تشنیع کے تیروں کی بوچھاڑ کردیتے ۔بھٹو خاندان کی سائکی ہے کہ وہ بزدلی سے نفرت کرتے ہیں اور سینہ تان کر چیلنج کا سامنا کرنے کے عادی ہوتے ہیں ۔چنانچہ بینظیر بھٹو کراچی میں سانحہ کارساز کے باوجود زخمی شیرنی کی مانند دوبئی سے دوبارہ واپس پلٹیں اور مقتل میں اُترنے سے پہلے یہ اعلان کیا۔
’’تمام سیاستدان عوام سے قربانی مانگتے ہیں مگر میں عوامی لیڈر ہوں لہذا عوام کیلئے قربانی دینا میرا فرض ہے ‘‘
بینظیر بھٹو کو اوائل عمری ہی سے دُکھوں اور تکلیفوں کا سامنا پڑا ۔ وہ چوبیس برس کی تھیں تو اُنکے باپ کو شہید کردیا گیا، پھر اُنکو اپنی والدہ کے ہمراہ برسوں قید میں رہنا پڑا۔ اُنہیں اپنے جوان بھائیوں کے لاشے اپنے کندھوں پر اُٹھا کر گڑھی خدا بخش کے احاطے میں دفن کرنا پڑے۔وہ ہمیشہ دُکھوں اور مصیبتوں میں گھری رہیں۔کبھی وہ اپنی بیمار ماں کا علاج معالجہ کرارہی ہوتیں تو کبھی اپنے خاوند کے کردہ، ناکردہ گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کیلئے ایک عدالت سے دوسری عدالت میں کھڑی نظر آتیں ۔ کبھی وہ جیل کے باہر کمسن بچوں کے ہمراہ اپنے اسیر خاوند سے ملاقات کی منتظر نظر آتیں تو کبھی اپنی بھابھی اور بھتیجی کی طرف سے اپنے خاوند پر اپنے بھائی کے قتل کے الزامات کا دفاع کرتی ملتیں اور اِسکے ساتھ ساتھ وہ اپنی پارٹی کو منظم کرنے کیلئے دِن رات کوشاں رہتی تھیں۔
بے نظیر نڈر رہنما تھیں، وہ چومکھی لڑائی لڑرہی تھیں، کبھی وہ اسٹیبلشمنٹ میں ضیاء باقیات کو للکارتی تھیں تو کبھی وہ شدت پسندوں کی جانب سے مذہب کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے پر مذمت کرتی تھیں ‘کبھی وہ اسامہ بن لادن اور ڈاکٹر عبدالقدیر کے موضوع پر اپنی دو ٹوک رائے کا اظہار کرتی تھیں پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ بینظیر کے دشمن اُسکو زندہ رہنے دیتے کیونکہ وہ اُنکے پاکستان کی سا لمیت کیخلاف عزائم میں سب سے بڑی رکاوٹ تھیں۔اگرچہ اُنکو معلوم تھا کہ اُنکی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں مگر وہ موت سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوتی تھیں اور خطرات سے کھیلنے میں اُنکو بڑا مزہ آتاتھا اور اپنی زندگی کیلئے حفاظتی تدبیر سے ہمیشہ گریزاں رہتی تھیں۔
بقول منیر نیازی …؎
کجھ اُنج وی راہواں اوکھیاں سن
کجھ گل وچ غم دا طوق وی سی
کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن
کجھ ساہنوں مرن د اشوق وی سی
بے نظیر کے ساتھیوں نے بی بی سے کہا ’’ہم سے صبر نہیں ہورہا ہے ہمیں ہر قیمت پر اقتدار حاصل کرنا ہے کیونکہ سیاست کا مطلب حکمرانی ہے‘‘۔بینظیر اِنکی خاطر اپنی جان خطرات میں ڈال کر سربکف میدان کارزار میں آنکلی ،پہلی دفعہ بینظیر بھٹو نے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کی راہ اپنائی مگر وہ اپنے دشمنوں کے ارادوں کو بھانپ نہ سکی حالانکہ امریکہ نے بینظیر بھٹو کو یہ گارنٹی دی تھی کہ وطن واپسی پر صدر مشرف ہر صورت میں اُنکی حفاظت کو یقینی بنائیں گے لہذا و ہ دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ اور مشرف کا ساتھ دیں ۔اگرچہ اُسکی سیکورٹی وی وی آئی پی تھی مگر شہادت کے وقت اُسکے گرد سیکورٹی کے افراد کا کوئی دائرہ نہ تھا۔قاتل نے انتہائی آسانی سے چند میٹر کے فاصلے سے بے نظیر بھٹو کو نشانہ بنالیا۔اُسکی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔
بے نظیر کو ٹریپ کیا گیا ۔دہشت گردی کی عالمی جنگ جو امریکہ کے ایما پر پاکستانی فوج قبائلی علاقوں میں لڑرہی تھی ۔اُسکی بھینٹ بے گناہ اور سادہ لوح بے نظیر چڑھ گئیں۔اُس وقت کے فوجی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے انہیں اپنے راستے سے ہٹایا۔اُنکی شہادت کے فوراً بعد نادیدہ ہاتھ نے قتل کے تمام ثبوت ضائع کردئیے اور نہ ہی اُنکی نعش کا پوسٹ مارٹم ہونے دیا گیا۔آج اُنکی اپنی پارٹی اقتدار میں ہے مگر وہ کیوں بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچا رہی ہے‘ محترمہ کی پہلی برسی اس چبھتے ہوئے سوال کا جواب ضرور آنا چاہئے۔
بقول منیر نیازی …؎
شہر کو د یکھنے کو اِک تماشا
ہے یہ اُنکی زندگی کے روگ کا کوئی علاج
ابتدا ہی سے ہے شاید شہر والوں کامزاج
اپنے اعلیٰ آدمی کو قتل کرنے کا رواج
مارنے کے بعد اُسکو دیر تک روتے ہیں وہ
اپنے کردہ جرم سے ایسے رہا ہوتے ہیں وہ