A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

شہید ِ جمہوریت کو خراج تحسین پیش کرنے کا عملی مظاہرہ

27 دسمبر 2008
پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق چیئرپرسن اور ملک کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا پہلا یوم شہادت آج (27؍ دسمبر) منایا جا رہا ہے۔ برسی کی مرکزی تقریب گڑھی خدابخش ضلع لاڑکانہ میں ہو گی‘ جس میں شرکت کیلئے ملک بھر سے کارکن اور رہنماء گڑھی خدابخش پہنچ گئے ہیں۔
راولپنڈی کے لیاقت باغ میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کو ایک سال گزر چکا ہے اور یہ افسوس ناک امر ہے کہ ان کے شوہر نامدار کے دور حکومت میں بھی آج تک نہ تو بے نظیر بھٹو کے قتل کے محرکات جاننے کیلئے کوئی باضابطہ انکوائری ہوئی ہے اور نہ قاتلوں کا پتہ چل سکا ہے حالانکہ گزشتہ نو دس ماہ سے وفاقی سطح پر پیپلز پارٹی حکمران ہے‘ جبکہ وزیراعظم بھی محترمہ کے ایک قابل اعتماد ساتھی ہیں‘ مشیر داخلہ رحمان ملک ہیں جو 27 دسمبر 2007ء میں محترمہ کے چیف سیکورٹی افسر تھے اور تمام سیکورٹی ادارے ان کے ماتحت ہیں‘ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں پیپلز پارٹی نے اقوام متحدہ سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا تھا اور جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ پرویز مشرف انتظامیہ کا کردار چونکہ مشکوک ہے اور حکومت میں شامل بعض اہم اور طاقتور افراد بے نظیر بھٹو کے قاتلوں میں شامل ہیں‘ اس لئے کسی سرکاری ایجنسی پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا لیکن اب جبکہ حکومت بھی اپنی ہے اور عدلیہ بھی تو بے نظیر قتل کیس کی تفتیش اور وسیع پیمانے پر تحقیقات کے سلسلے میں خاموشی ناقابل فہم ہے جبکہ اقوام متحدہ نے بھی اب تک کسی قسم کی سرگرمی نہیں دکھائی جس سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے علاوہ عام شہریوں میں بھی مایوسی پائی جاتی ہے۔
بے نظیر بھٹو سیاسی اختلافات کے باوجود ملک کا سیاسی اثاثہ تھیں‘ ایک بہادر باپ کی بہادر خاتون سیاست دان کے طور پر انہوں نے جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کی فوجی آمریت کا مقابلہ کیا اور اپنے والذ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے سیاسی ورثے کی حفاظت کی۔ جنرل پرویز مشرف کی فوجی آمریت سے چھٹکارا کیلئے انہوں نے ایک طرف تو اے آر ڈی کے محاذ پر دلیرانہ جدوجہد کی اور اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف میاں نواز شریف کے ساتھ مل کر میثاق جمہوریت کیا‘ جس کے تحت پارلیمنٹ کی بالادستی 1973ء کے اصل آئین کی بحالی‘ آزاد عدلیہ کی تشکیل اور سیاسی معاملات میں فوجی مداخلت روکنے کیلئے پائیدار اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ وہ اگرچہ جنرل پرویز مشرف سے مفاہمت کے تحت وطن واپس آئیں لیکن جنرل پرویز مشرف کے 3؍ نومبر کے غیرآئینی‘ غیرجمہوری‘ غیرسیاسی‘ غیرقانونی اقدامات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر انہوں نے مفاہمت سے انحراف کیا اور ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کیلئے میاں نواز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت کی روشنی میں چلنے کا عزم ظاہر کیا۔ ان کی زور دار اور پرجوش انتخابی مہم نے ایوان اقتدار ہی نہیں‘ پرویز مشرف سے مفاہمت کرانے والی بیرونی قوتوں بالخصوص امریکہ کو لرزہ براندام کردیا کیونکہ انہوں نے ایک پریس کانفرس میں برملا کہا کہ 3؍ نومبر کے گھنائونے اقدامات کے بعد پرویز مشرف سے بات نہیں ہو سکتی اور اگر انتخابی نتائج میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو ہرا کر کسی سرکاری جماعت کو جتوانے کیلئے گڑبڑ کی گئی تو ہم ان نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے جسٹس افتخار محمد چودھری کو اپنا چیف جسٹس قرار دیا اور ان کے گھر پر پاکستانی پرچم لہرانے کا عہد کیا۔ دیگر معزول ججوں کی بحالی کے ضمن میں بھی ان کا وعدہ ریکارڈ پر ہے۔
بے نظیر بھٹو نے انتخابی مہم کے دوران قوم سے وعدہ کیا کہ وہ سترھویں ترمیم ختم کرکے غصب کئے گئے صدارتی اختیارات واپس وزیراعظم کو دلائیں گی‘ کسی سیاست دان پر تیسری بار وزیراعظم بننے کی پابندی کی شق ختم کریں گی اور ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گی۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت کا بوجھ آصف علی زرداری کو اٹھانا پڑا جو کئی سال تک جیل میں رہنے کے بعد بیرون ملک مقیم تھے اور شہادت کے بعد ہنگامی بنیادوں پر وطن واپس آئے۔ انہوں نے بے نظیر بھٹو کے مشن کو جاری رکھنے اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر میثاق جمہوریت کو عملی جامہ پہنانے کا وعدہ کیا۔ 18 فروری کے انتخابات میں عوام نے فوجی آمریت کے حامیوں کو مسترد کرکے جمہوریت پسندوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور پیپلز پارٹی سنگل لارجسٹ وفاقی پارٹی کے طور پر سامنے آئی۔ مسلم لیگ (ن) نے اسے اپنا غیرمشروط تعاون پیش کیا اور یوں وفاقی سطح پر پیپلز پارٹی اور ملک کے بڑے صوبے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو حکومت بنانے کا موقع ملا۔
یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ معاہدہ بھوربن پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا اتحاد نہ چل سکا اور مسلم لیگ وفاقی وزارتوں سے الگ ہو گئی لیکن میاں نواز شریف اب تک وفاقی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار نہ کرنے کے عزم پر قائم ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے بعض رہنماء اور گورنر پنجاب سلمان تاثیر حکومت پنجاب کے خلاف بیان بازی کے ذریعے مفاہمت کی اس فضاء کو مسموم کرنے اور پنجاب کی سطح پر عدم استحکام پیدا کرکے وفاقی حکومت کو ناخوشگوار صورتحال سے دوچار کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں جو ملک کے موجودہ حالات میں افسوسناک ہے۔ پیپلز پارٹی کو اقتدار میں آئے دس ماہ ہو گئے ہیں لیکن اب تک نہ تو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت معزول ججز بحال ہوئے ہیں اور نہ 3؍ نومبر کے اقدامات کے خاتمے کیلئے کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ صدر کو بااختیار اور پارلیمنٹ کو صدر کی تابع مہمل بنانے والی سترھویں ترمیم بھی بدستور موجود ہے جبکہ منصب صدارت کے ساتھ پیپلز پارٹی کی سربراہی بھی آصف علی زرداری نے سنبھال رکھی ہے حالانکہ سول اور جمہوری ادوار میں ایوان صدر کبھی سیاست میں اس طرح ملوث نہیں ہوا۔
ہم حالت جنگ میں ہیں‘ ملک اس وقت بھارتی حملے کے خطرہ سے دوچار ہے اور قومی اتحاد و یکجہتی کے علاوہ مضبوط و مستحکم جمہوری نظام کا تقاضہ کرتا ہے جس میں تمام قومی ادارے مقننہ‘ عدلیہ‘ انتظامیہ اپنے اپنے دائرہ کار میں اپنے فرائض انجام دیں‘ جس کا وعدہ میثاق جمہوریت میں بھی کیا گیا تھا مگر اس طرف کوئی پیش رفت ہوتی نظر نہیں آرہی۔ بی بی کی پہلی برسی کے موقع پر پیپلز پارٹی کی قیادت‘ محترمہ کے جانشینوں اور وفاقی حکومت کا فرض ہے کہ وہ خالی خولی وعدوں اور نعروں کے بجائے ایسے اقدامات کا اعلان کرے‘ جو بے نظیر بھٹو کے ویژن‘ دلیرانہ جدوجہد اور 2007ء کی انتخابی مہم کے دوران محترمہ کے قوم سے کئے گئے وعدوں کے علاوہ میثاق جمہوریت سے مطابقت رکھتے ہوں اور ملک واقعی جدید اسلامی جمہوری پارلیمانی فلاحی ریاست کا روپ دھار سکے۔ سترھویں ترمیم کا خاتمہ‘ پارلیمنٹ کی بالادستی‘ صدارتی اختیارات دوبارہ وزیراعظم کو منتقل کرنے‘ 3؍ نومبر 2007ء کے غیرآئینی اقدامات کی واپسی‘ جنرل (ر) پرویز مشرف کا محاسبہ‘ آزاد عدلیہ کی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت بحالی اور بے نظیر بھٹو کے قتل کی آزادانہ تفتیش کے اقدامات سے عوام مطمئن ہوں گے اور حکومت کی ساکھ بہتر ہو گی۔ ان اقدامات سے مسلم لیگ (ن) کو بھی دوبارہ کابینہ میں واپس لایا جا سکتا ہے جس سے حکومت کی کارکردگی میں اضافہ ہو گا اور عوام کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔ یہی شہیدِ جمہوریت کو خراج عقیدت پیش کرنے کا حقیقی طریقہ ہے اور اپنی شہید قائد سے وابستگی کا عملی مظاہرہ۔ کاش صدر آصف علی زرداری آج گڑھی خدابخش سے قوم کو حقیقی جمہوریت اور آزاد عدلیہ کی بحالی کا تحفہ دیں اور اس اعلان پر عملدرآمد بھی کر دکھائیں۔
بھارتی جنگی تیاریاں
اور ہماری حکمت عملی
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ہم ملک کا دفاع کرنا جانتے ہیں‘ ہم امن پسند قوم ہیں لیکن ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے۔ گزشتہ روز کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور کے کانووکیشن سے خطاب اور گڑھی خدا بخش میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت عوام کے دبائو پر کوئی ایڈونچر کر رہی ہے‘ اسی طرح وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی بھارت کو تنبیہہ کی ہے کہ وہ پاکستان میں سرجیکل سٹرائیکس کی کبھی غلطی نہ کرے‘ پاکستانی قوم اور فوج اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا اور بھرپور جواب دینا جانتی ہے۔
یہ حقیقت اب پوری دنیا پر منکشف ہو چکی ہے کہ ممبئی حملوں کی آڑ میں بھارت اپنے جنگی جنون کو ہماری سرزمین پر آزمانے کی تیاریاں مکمل کر چکا ہے اور اپنی ان تیاریوں کے زعم میں ہی بھارت کے حکومتی اور اپوزیشن لیڈران کی جانب سے یکسو ہو کر ہمیں دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا اور امریکی لہجے میں مبینہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ہمیں اپنی پالیسیاں ڈکٹیٹ کرانے کی کوشش کی گئی۔ متعصب ہندو قیادت ہماری سالمیت پر وار کرنے کیلئے جتنی بے تاب ہے‘ اسکی روشنی میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا یہ تجزیہ درست نظر آتا ہے کہ اگر ہماری ایٹمی قوت نے وطن عزیز کے دفاع کو ناقابل تسخیر نہ بنایا ہوتا تو بھارت اب تک ہم پر حملہ کر چکا ہوتا۔ ہمارا یہ مکار دشمن ہماری آزادی اور خودمختاری پر وار کرنے کیلئے ہمیشہ موقع کی تاک میں رہتا ہے اور اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ شاطر ہندو نے ہماری سالمیت کیخلاف اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کیلئے ہی ممبئی حملوں کا 9/11 جیسا ڈرامہ رچایا جس کا ملبہ ہم پر ڈال کر ہمارے خلاف جارحیت کے ارتکاب کیلئے دنیا کے سامنے جواز پیش کرنے کی کوشش کی مگر اس کے جنگی جنون اور ہماری سالمیت کیخلاف اسکے مکروہ عزائم کی بنیاد پر عالمی برادری کے سامنے تمام حقیقت آشکار ہو گئی جبکہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی فوجی سربراہ مائیکل مولن کو بھارتی جنگی طیاروں کی جانب سے ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کھاریاں تک پہنچنے کے تصویری ثبوت بھی فراہم کر دیئے ہیں اور انہیں باور کرادیا ہے کہ اگر ان بھارتی طیاروں کو ہم گرا دیتے تو جنگ شروع ہوجاتی۔
اس خطہ میں جنگ رکوانے کی عالمی کوششوں کے باوجود بھارت اپنے جنگی جنون میں ہی مبتلا نظر آتا ہے‘ جس کی نشاندہی عالمی میڈیا بھی کر رہا ہے۔ ہماری جانب سے بھارتی سرجیکل سٹرائیکس کی دھمکیوں کا جواب مکمل جنگ شروع کرنے کی دھمکی کی صورت میں دیکر اگرچہ بھارتی جنونی قیادت کو دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کردیا گیا ہے اسکے باوجود اسکی جنگی تیاریاں عروج پر ہیں اور راجستھان کے سرحدی دیہات خالی کراکے وہاں بھارتی فوجی دستوں کی آمد اورفوجی سامان کی ترسیل کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت ٹھوس جواب ملے بغیر ہماری سالمیت کیخلاف اپنے مکروہ عزائم سے باز نہیں آنے والا۔
اس صورتحال میں ہمیں اپنی سرحدوں کے دفاع سے کسی بھی لمحہ غافل نہیں ہونا چاہئے اور اس موذی دشمن سے مقابلہ کیلئے ہمیں اپنے گھوڑے تیار رکھنا ہونگے۔ اسکے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو بھی بھارتی جنگی تیاریوں اور عزائم سے مکمل باخبر رکھا جائے اور مبینہ دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی پروپیگنڈے کا بھی توڑ کیا جائے‘ ہماری جانب سے کسی نرمی کا اظہار ہمارے دفاع کیلئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
بھارتی دہشت گردوں کی گرفتاری
قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے جی او آر بم دھماکے میں ملوث بھارتی دہشت گرد ستیش آنند شکلا کی نشاندہی پر مزید تین بھارتی باشندے گرفتار کرلئے ہیں جن کے قبضہ سے اسلحہ‘ کیمرے‘ نقشے‘ بھارتی کرنسی اور خفیہ دستاویزات برآمد کی ہیں۔ ان میں دو بھارتی باشندوں کو انارکلی کے ایک ہوٹل سے اور تیسرے کو نشاط کالونی ڈیفنس سے گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح جی او آر بم دھماکے کی جائے وقوعہ سے ایک انٹینا‘ بیٹری اور وائرلیس سیٹ بھی ملا ہے جس سے بادی النظر میں ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد کا بھارتی ایجنسیوں سے رابطہ تھا اور انکی زیر ہدایت ہی وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دہشت گردی کی غرض سے پاکستان آیا۔ پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے گرفتار بھارتی باشندوں سے اتنے ٹھوس ثبوت اور شواہد دستیاب ہونے کے بعد تو ممبئی دھماکوں میں پاکستان کے کسی شہری کے ملوث ہونے کے بھارتی الزامات کی ازخود قلعی کھل گئی ہے۔ یہ افسوسناک صورتحال ہے کہ بھارت نے تو اجمل قصاب کے حوالے سے نامعلوم شواہد کی بنیاد پر ہمارے خلاف اپنے زہریلے پروپیگنڈے کی انتہا کر دی جبکہ ہماری حکومت اور متعلقہ ایجنسیاں بھارتی باشندوں سے پاکستان میں دہشت گردی کے ٹھوس ثبوت حاصل کرکے بھی بھارتی دہشت گردی کی جانب دنیا کی توجہ مبذول نہیں کرا سکیں جبکہ گرفتار بھارتی باشندوں کو عالمی میڈیا کے سامنے لا کر بھارتی مکروہ عزائم کو بے نقاب کیا جا سکتا ہے جس کیلئے یہ نادر موقع ہے۔ اگر بھارت فرضی اجمل قصاب کا ملبہ ہم پر ڈال سکتا ہے تو ہم بھارت کے حقیقی دہشت گردوں کی بنیاد پر دنیا کو بھارت کا مکروہ چہرہ کیوں نہیں دکھا سکتے؟ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارتی ایجنٹ ملک کے طول و عرض میں تخریب کاری کیلئے بے تاب ہیں۔ لاہور کے واقعہ کے دوسرے دن راولپنڈی سے 400 کلو گرام بارودی مواد کی برآمدگی بھارتی ریشہ دوانیوں کا ثبوت ہے‘ اسلئے حکومت کو موثر حفاظتی اور عالمی برادری کو آگاہ کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔